10 لاکھ ڈالر کے جوتے چوری ہونے کا 18 برس پرانا معمہ حل

کلاسیکل فلم ’وزرڈ آف اوز‘ میں استعمال ہونے کی وجہ سے امریکی فلمی تاریخ میں ان جوتوں کو سب سے زیادہ جانی پہچانی یادگاروں میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

2018 میں جوتے برآمد ہونے کے بعد ان کی تصویر (اے پی)

امریکی ریاست منی سوٹا کے رہائشی شخص نے 2005 میں ایک میوزیم سے کلاسیکل فلم ’دا وزرڈ آف اوز‘ میں پہنے گئے اداکارہ جوڈی گارلینڈ کے یاقوتی جوتے چوری کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

76 سالہ ٹیری جون مارٹن نے 2005 میں منی سوٹا کے شہر گرینڈ ریپڈز میں واقع جوڈی گارلینڈ میوزیم سے مشہور جوتے چوری کرنے کا اعتراف کیا۔ یہ جوتے ایف بی آئی نے 2018 میں برآمد کیے۔

مارٹن نے بڑا آرٹ ورک چوری کرنے کے الزام کو درست تسلیم کیا۔ ڈسٹرکٹ آف شمالی ڈکوٹا کے لیے امریکی اٹارنی آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق: ’چوری کے وقت جوتے کی قیمت 10 لاکھ ڈالر تھی لیکن اس وقت منصفانہ مارکیٹ تخمینے کے مطابق جوتے کی قیمت 35 لاکھ ڈالر ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ یاقوتی جوتے جوتوں کے باقی چار جوڑوں میں سے ایک ہیں۔ انہیں امریکی فلمی تاریخ میں بڑے پیمانے پر سب سے زیادہ جانی پہچانی یادگاروں میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس سے قبل مارٹن نے جون میں اپنے جرم کا اعتراف نہیں کیا لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے پلی بارگین کرنے کا فیصلہ کیا۔

وفاقی عدالت میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے مشہور جوتے لینے کے لیے عجائب گھر کے دروازے کے شیشے اور ڈسپلے کیس توڑنے کے لیے ہتھوڑا استعمال کیا۔

مارٹن نے یہ بھی کہا کہ ان کا خیال تھا کہ جوتوں میں اصلی یاقوت لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح انہوں نے یہ جواہرات فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جوتے فروخت کرنے کی کوشش پر چوری کا سامان خریدنے اور بیچنے والے شخص نے انہیں بتایا کہ یاقوت شیشے کے ہیں اس لیے انہوں نے کہا کہ انہوں نے جوتے کسی کو دے دیے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ انہوں نے کس کو دیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مارٹن کے وکیل ڈین ڈی کری نے وضاحت کی کہ ’ٹیری کو کوئی اندازہ نہیں  کہ جوتے کہاں تھے اور انہیں کیسے برآمد کیا گیا۔ 2005 میں دو دن تک ان کا تعلق اس معاملے سے رہا۔‘

ایف بی آئی نے ابھی تک یہ انکشاف نہیں کیا ہے کہ اسے جوتے کیسے ملے جس کی وجہ سے 1939 کی فلم کے جادوئی جوتوں سے متعلق معمہ موجود ہے۔

ڈی کری اور وفاقی پراسیکیوٹر دونوں نے سفارش کی کہ مارٹن کو ان کی عمر اور خراب صحت کے پیش نظر کسی بھی مدت کے لیے سلاخوں کے پیچھے نہیں جانا چاہیے کیوں کہ وہ  پھیپھڑوں کی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں۔

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’وہ آہستہ آہستہ دم گھٹنے کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔‘

منی سوٹا کے چیف فیڈرل جج نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سزا سنانے کی تاریخ  جمعے سے لے کر ڈھائی ماہ تک کے عرصے میں مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ