قلعہ بالا حصار کی ڈیڑھ صدی بعد مرمت اور تزین و آرائش مکمل

قلعہ بالا حصار کے موجودہ منتظم میاں عمران نے بتایا کہ ڈیڑھ صدی کے عرصے میں قلعے کی اندرونی وبیرونی دیواریں خستہ حالی کا شکار ہوگئی تھیں، جن کی پرانی شان وشوکت بحال کرنے کے لیے قلعوں کی مرمت کے ماہرین کو بلایا گیا تھا۔

17 مئی 2018 کو لی جانے والی اس تصویر میں قلعہ بالا حصار کا بیرونی منظر دیکھا جا سکتا۔ یہ قلعہ فرنٹیئر کور کا مرکزی دفتر ہے (ریڈیو پاکستان)

حکام کا کہنا ہے کہ پشاور میں قائم قدیم قلعہ بالا حصار کی تزین و آرائش اور مرمت کے لیے ملک کے مختلف علاقوں سے ماہرین کو بلایا گیا تھا جو تقریباً ڈیڑھ صدی بعد حال ہی میں مکمل کر لی گئی ہے۔

اس سے قبل قلعہ بالا حصار کی آخری مرمت و تعمیر انیسویں صدی میں انگریزوں نے کی تھی، جب سکھ اس قلعے کی اینٹ سے اینٹ بجا گئے تھے۔

قلعہ بالا حصار کے موجودہ منتظم میاں عمران نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ڈیڑھ صدی کے عرصے میں قلعے کی اندرونی وبیرونی دیواریں خستہ حالی کا شکار ہوگئی تھیں، جن کو دوبارہ پرانی شان وشوکت کے ساتھ ٹھیک کرنے کے لیے بطور خاص جنوبی پنجاب کے علاقے چولستان سے استادوں کو بلایا گیا تھا جو قلعوں کی مرمت میں مہارت رکھتے تھے۔

منتظم کے مطابق: ’انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور (آئی جی ایف سی نارتھ) نور ولی خان نے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی قلعہ بالا حصار میں خصوصی دلچسپی لی اور اس کو اہم ترین قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس کی مرمت کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے تاریخ دان بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ایاز خان کی خدمات حاصل کی گئیں۔‘

ایاز خان نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نہ صرف انہوں نے پشتون سرزمین پر قدم رکھنے والے حکمرانوں بلکہ اس خطے کے ’ڈھائی ہزار سالہ‘ تمدن و تہذیب کو بھی تحریری شکل دی ہے۔

’ضروری تھا کہ قلعے کو پرانی شان وشوکت کے مطابق محفوظ کیا جائے، جس کو فرنٹیئر کور کے سابق عہدیداران نے نظر انداز کیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’زمانہ قدیم میں وزیری اینٹ سے بنے قلعہ بالا حصار میں دوبارہ اس اینٹ کا استعمال انگریز دور میں ہوا اور اب موجودہ دور میں بھی کیا گیا ہے۔‘

قلعہ بالا حصار: تعمیر، تباہی اور دوبارہ تعمیر کی داستان

پشاور میں واقع قلعہ بالا حصار کے حوالے سے تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ اتنا قدیم ہے کہ تاریخ کی کسی مستند کتاب میں اس کو پہلی مرتبہ تعمیر کرنے والوں کا کہیں بھی کوئی حوالہ نہیں ملتا۔

تاریخ دان ایاز خان کہتے ہیں کہ ’موجودہ خیبرپختونخوا میں اب تک ملنے والے سکے، نوادرات، مجسمے اور اوزار ’اکیمینئن‘ (اخامنید) دور تک کا پتہ دیتے ہیں۔‘

تاریخی حوالوں اور مورخ ایاز خان کے مطابق اخامنید خاندان کا تعلق ایران سے تھا اور مذہبی لحاظ سے زرتشت تھے۔

’اکیمینئن خاندان کا دور تقریباً ڈھائی ہزار سال پرانا ہے اور اتنا ہی پرانا قلعہ بالا حصار ہے۔ یہ دعویٰ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ اخامنید کے بعد 630 قبل مسیح میں گندھارا آنے والے چینی راہبوں نے اپنی تحریروں میں موجودہ پشاورکے علاقے اور قلعہ بالا حصار کا ذکر کیا ہے۔

’اکیمینئن گندھارا میں دریائے سندھ کے مغربی کنارے تک پھیلے ہوئے تھے اور ان کا مشہور بادشاہ ڈاریئس (دارا) دی گریٹ تھا۔ ایران میں ان کا مرکزی علاقہ پرسی پولس تھا، جس کو تخت جمشید بھی کہا جاتا ہے۔

ایاز خان کہتے ہیں کہ ’ڈاریئس کی جاگیر موجودہ خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر تک پھیلی ہوئی تھی، جس کا ذکر ایران کی تاریخی کتب میں موجود ہے۔

’اخامنید کے آثار پشاور، صوابی، بونیر، چکدرہ، ملاکنڈ اور باجوڑ میں ملتے رہے ہیں۔ چکدرہ میوزیم میں اس دور کے دریافت شدہ اوزار اور سکے دیکھے جاسکتے ہیں۔‘

ایاز خان کہتے ہیں کہ ’اکیمینئن کا ایک حکمران کائمور بھی تھا۔ ان کے نام سے باجوڑ اور بونیر کے درمیان واقع ایک پہاڑ کی چوٹی کا نام اب بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ یہ تمام ثبوت گندھارا پر قدم رکھنے والے پہلے حملہ آوروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔‘

قدیم ادوار میں کسی اونچے مقام پر دشمن سے حفاظت کے لیے قلعہ بنایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قلعہ بالاحصار نام بھی اسی تناظر میں رکھا گیا۔

اس تمام تحریر میں گندھارا پر جتنے حکمران گزرے ہیں، پشاور بھی ان کے تسلط میں ہوتا تھا، جبکہ قلعہ بالا حصار نہ صرف ان کا قیام گاہ ہوتا تھا، بلکہ وہاں سے دشمن پر آسانی سے غلبہ پایا جاتا تھا۔

مختصر یہ کہ گندھارا پر قابض ہونے والی تمام قوموں نے قلعہ بالا حصار کو اپنا تخت بنائے رکھا ہے، تاہم پھر بھی مستند تاریخی اوراق میں اس کو پہلی بار تعمیر کرنے والوں کا کوئی نشان ابھی تک نہیں ملا ہے۔

دوسرا دور

مورخین اور تاریخی کتب کے مطابق اخامنید کے بعد دوسرا دور یونانیوں کا تھا۔ یہ یونانی افغانستان بلخ سے اٹھ کر گندھارا میں داخل ہوئے اور اپنا تسلط قائم کیا۔

اس دور کو ’گریکو بیکٹریئن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ یونانی گندھارا کے مقامیوں کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی طور پر ہم آہنگ ہوئے۔ ان کا مشہور بادشاہ منندر تھا۔

تیسرا دور

سکندر اعظم کی وفات کے بعد ان کی سلطنت کا مشرقی حصہ ان کے جنرل سیلیوکس کو ملا، تاہم جن کو 305 قبل مسیح میں موریا خاندان کے عظیم بادشاہ چندر گپتا موریا کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’موریا خاندان وسطی ایشیا سے آیا تھا۔ گپتا مشہور بادشاہ اشوکا کا دادا تھا۔ موریا خاندان نے 100 سال وادی پشاور، لغمان اور کابل پر حکومت کی۔اور بعدازاں بدھ مت کے پیروکار بن گئے۔‘

چوتھا دور

مورخین اور تاریخی کتب کے مطابق حضرت عیسیٰ کی ولادت کے سال 75 (اے ڈی) میں دریائے آکسس کے پار سے ایک قبیلہ ’کشان‘ آیا، جنہوں نے موجودہ خیبر پختونخوا، پنجاب، افغانستان، اور ہندوستان کے وادی گنگا تک کے علاقے پر اپنی سلطنت قائم کی۔ ان کے قابل ذکر بادشاہوں میں اشوکا، کنشکا اور ہویشکا تھے۔

کنشکا نے گندھارا سے ہندوستان میں گنگا تک حکومت قائم کی۔ ان کا مشرقی دارالخلافہ پراسپورہ (موجودہ پشاور) تھا۔

انہوں نے بھی شہنشاہ اشوکا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بدھ مت اختیار کی۔ اس طرح پشاور بدھ مت کا بہت بڑا مرکز بنا اورچینی زائرین کی آمد شروع ہوئی۔

پانچواں اور چھٹا دور

مورخین اور تاریخی کتب کے مطابق کشان خاندان کے زوال پر ہندوشاہی کا دور آیا۔ ہندو شاہی نے قرون وسطیٰ کے دوران کابل، گندھارا اور مغربی پنجاب کے کچھ حصوں پر سلطنت قائم کی جو تیسری صدی سے نویں صدی تک قائم رہی۔ یہ ہندو شاہی کابل سے ضلع صوابی کے علاقے ’ہنڈ‘ تک پھیل گئی تھی۔

ہندوشاہی کو افغانستان کے محمد غزنوی سے شکست ملی، جب اس نے سب سے پہلے پشاور پر دھاوا بول دیا۔

انہوں نے اس وقت کے مشہور بادشاہ جے پالہ اور بعدازاں ان کے بیٹے انندپالا کو مات دی تھی۔

ایک عرصے تک گندھارا محمود غزنوی کے تسلط میں رہا اور اسی زمانے میں ہی پختونوں نے اسلام بطور مذہب قبول کیا۔

ساتواں دور

مورخین اور تاریخی کتب کے مطابق محمود غزنوی کے بعد مغل خاندان نے گندھارا کا رخ کیا، جن کا بانی ظہیرالدین بابر تھا۔ ان کی حکومت دلی سے لے کر افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ بعدازاں ان کا بیٹا ہمایوں آیا۔

اگرچہ اس وقت بھی قلعہ بالا حصار اپنی جگہ پر قائم تھا لیکن انہوں نے اس کو جنگی لحاظ سے مزید مضبوط کیا تاکہ پختون قبیلوں کو شکست سے دوچار کر سکیں۔

ان کے جانشینوں نے بھی اسی روش کو اپناتے ہوئے مزید قلعے، پوسٹ اور پیکیٹ تعمیر کیے تاکہ پختونوں کو قابو کیا جائے۔

مغلوں کے بعد ایران کے نادر شاہ افشار آئے، جنہوں نے قلیل عرصے تک اس سرزمین پر قیام کیا۔

آٹھواں اور نواں دور

نادرشاہ کے کمانڈر احمد شاہ ابدالی تھے جنہوں نے موجودہ افغانستان کو ایران سے الگ کرکے آزاد کیا اور خراسان کا نام تبدیل کرکے ’افغانستان‘ رکھا۔

ان کے ان کے صاحبزادے تیمور شاہ اور شاہ زمان بھی افغانستان اور گندھارا پر قابض رہے۔

بعدازاں حکومت افغانستان کے بارکزئی قبیلے کے امیر دوست محمد خان کے ہاتھ آئی اور انہیں افغانستان اور گندھارا پر حکمرانی کا موقع ملا۔ امیر دوست محمد خان اپنے دور حکومت میں موسم سرما بالاحصار اور موسم گرما افغانستان میں گزارتے تھے۔

دسواں دور

مورخین اور تاریخی کتب کے مطابق 1837 یعنی انیسویں صدی میں جنگ نوشہرہ فتح کرنے کے بعد سکھوں نے پشاور کا رخ کیا۔ امیر دوست محمد خان کے جانشین کمزور پڑ گئے اور سکھوں کے ہاتھوں انہیں شکست ہوئی۔ ہری سنگھ نلوا اور رنجیت سنگھ کے حکم پر سکھوں نے قلعہ بالا حصار کے محلات اور حرم کو آگ لگا دی، اور اس کو مکمل طور پر تباہ کیا۔

تاریخ دان ایاز خان اور بالاحصار کے متنظم میاں عمران نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس تباہی سے قبل بالا حصار کے سامنے میلوں تک خوبصورت شاہی باغات تھے اور ان کے پاس سے شفاف پانی کا نہر (باڑہ ریور) گزرتا تھا۔

ایاز خان کے مطابق: ’سکھوں نے قلعہ بالاحصار سمیت ان باغات اور درختوں کو بھی تباہ وبرباد کیا۔ لیکن یہ سب کرنے کے کچھ وقت بعد اندرونی حکمت عملی کے سبب انہوں نے کچی مٹی سے قلعہ بالاحصار کی دیواریں بنائیں اور اس کو سمیر گڑھ کا نام دیا۔‘

گیارہواں دور

سکھ کچھ عرصہ کے لیے گندھارا پر قابض رہے۔ 1849 میں انگریز نے سکھوں کو شکست دی۔

’انگریز دور میں فرنگیوں نے قلعہ بالا حصار کو دوبارہ اپنی قدیم شان وشوکت کے مطابق کھڑا کیا اور وزیری اینٹ کا استعمال کرکے اس کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں لے آئے۔ اور فوجیوں کے لیے بیرک بنائے ۔موجودہ شکل انگریزوں نے دی تھی۔‘

اب 2023 میں قلعہ بالا حصار کو دوبارہ مرمت کی ضرورت پڑی اور اس کو انگریز کے بنائے گئے طرز پر ٹھیک کر دیا گیا ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے یہ قلعہ تاریخی اعتبار سے بطور قومی اثاثہ محفوظ رہ سکے۔

قیام پاکستان کے بعد 1948 میں فرنٹیر کور (ایف سی) قلعہ بالا حصار میں آباد ہوئی جو تاحال ان کا مرکزی دفتر بنا ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ