انڈیا: دل کی دھڑکن ایک گھنٹے تک بند رہنے کے بعد مریض زندہ بچ گیا

مہاراشٹر میں ڈاکٹر ایک 38 سالہ شخص کی جان بچانے میں کامیاب رہے جنہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور ان کے دل کی دھڑکن ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک بند رہی تھی۔

24 ستمبر، 2021 کو نئی دہلی میں روہنی کورٹ کے اندر ایک ایمبولنس نظر آ رہی ہے (اے ایف پی/ منی شرما)

انڈین ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگ پور میں ڈاکٹر ایک ایسے 38 سالہ شخص کی جان بچانے میں کامیاب رہے جنہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور ان کے دل کی دھڑکن ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک بند رہی تھی۔

انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ناگ پور کے رہائشی کو، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، 25 اگست کو دل کا دورہ پڑا۔ انہیں شہر کے کے آئی ایم ایس ۔ کنگزوے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں دل کی دھڑکن کی بحال کرنے کے عمل (سی پی آر) سے گزارا گیا۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق دل کی دھڑکن بحال نہ ہونے کی صورت میں سی پی آر کو 40 منٹ کے بعد بند کر دیا جاتا ہے۔

مذکورہ مریض کے معاملے میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر رشی لوہیا نے مریض کی عمر اور مانیٹر پر دکھائی دینے والی دل کی حالت کے پیش نظر دل کی بحالی کا عمل 40 منٹ کی حد سے زیادہ دیر تک جاری رکھا۔

دل کے مقام پر اس وقت برقی آلے سے جھٹکے لگائے جاتے رہے جب تک مریض کے دل کی دھڑکن بحال نہیں ہو گئی۔ ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق مریض کو 45 منٹ تک سی پی آر کے عمل سے گزارا گیا۔

ڈاکٹر لوہیا کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ سی پی آر کا عمل 20 منٹ سے زیادہ دیر تک جاری رہا جس کے نتیجے میں 30 سیکنڈ کے لیے دل کی دھڑکن ریکارڈ کی گئی لیکن ہنگامی صورت حال کی وجہ سے اسے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر لوہیا کے مطابق: ’دل کے خانے میں حرکت دکھائی دینے کی صورت میں دل کے مساج کے ساتھ ساتھ برقی آلے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ اس سے دل کو دوبارہ کام شروع کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘

زیادہ دیر تک سی پی آر جاری رکھنے سے پسلیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور مسلسل جھٹکوں سے جِلد جل جاتی ہے۔ ڈاکٹر لوہیا نے مزید کہا کہ ’یہ مریض اچھے سی پی آر کی وجہ سے کسی ضمنی اثر سے متاثر نہیں ہوئے۔‘

مذکورہ شخص ایک آئی ٹی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے تین چار دن تک سینے میں جلن کی شکایت کی اور 25 اگست کو علی الصبح کے آئی ایم ایس - کنگزوے ہسپتال پہنچنے سے پہلے دو بار بے ہوش ہوئے۔

اگرچہ مریض نے آٹھ دن بعد ردعمل کا اظہار کرنا شروع کر دیا لیکن انہیں 40 دن تک وینٹی لیٹر کی ضرورت رہی۔ 45 دن تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رہنے اور موت کے منہ سے معجرانہ طور پر بچ نکلنے کے بعد انہیں 13 اکتوبر کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا