روپے کی قدر میں اضافہ معیشت کے لیے نقصان دہ کیوں ہے؟

شرح مبادلہ کو کنٹرول کرنے کی کوششیں عام طور پر بگاڑ اور بالآخر ناکامی کا باعث بنتی ہیں۔

منی ڈیلرز 12 مارچ 2014 کو اسلام آباد میں ایک کرنسی ایکسچینج میں پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر کی گنتی کر رہے ہیں (عامر قریشی/ اے ایف پی)

پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ پانچ ستمبر کے بعد سے اب تک امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں تقریباً 10 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ 

اس کی وجہ کریک ڈاؤن، ریاستی اداروں کی طرف سے مبینہ طور پر غیر قانونی زرمبادلہ کی تجارت اور مرکزی بینک کے ذریعے ایکسچینج کمپنیوں کے اندر ریگولیٹری اصلاحات کا نفاذ ہے۔ 

مزید برآں، حکام کی جانب سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کو ڈھائی سو کی سطح پر لانے کو ہدف بنانے کے حوالے سے مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ ان افواہوں کی تصدیق کرنا ناممکن ہے، لیکن ان کا اثر ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں روپے کی اٹھان کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔

روپے کی قدر میں بلاتعطل یومیہ اضافہ اس وقت اور بھی غیر معمولی دکھائی دیتا ہے جب ہم بنیادی نکات، جیسے تجارتی سرپلس، ادائیگیوں کے توازن، افراط زر اور حقیقی سود کی شرحوں میں نمایاں بہتری کی عدم موجودگی پر غور کرتے ہیں۔

عام طور پر شرح مبادلہ میں اس طرح کی ڈرامائی تبدیلی انہی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے۔ اس طرح کے عوامل کی عدم موجودگی میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامی اقدامات کے ذریعے روپے کو ڈالر کے برابر لانے کے لیے صرف حکام کا جوش و جذبہ ہی کام کر رہا ہے۔

اگرچہ ایک مضبوط کرنسی ہونے کے ظاہری فوائد ہو سکتے ہیں، جیسے سستی درآمدات اور افراط زر پر کنٹرول، لیکن یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جب ریاست زر مبادلہ کی شرح کے انتظام میں مداخلت کرتی ہے تو وہ مرکزی منصوبہ بندی میں ملوث ہو جاتی ہے۔ 

اس نقطۂ نظر کے تحت کہ مرکزی بینک یا حکومت کے پاس کرنسی کی ’درست‘ قدر کا تعین کرنے کا علم اور صلاحیت ہے، یہ فرض کرتا ہے کہ ایک مرکزی اتھارٹی کو ان فیصلوں کے لیے درکار تمام معلومات تک رسائی حاصل ہے۔ 

حقیقت میں، شرح مبادلہ مختلف عوامل اور مارکیٹ میں بکھری ہوئی لاتعداد معلومات سے متاثر ہوتی ہے جو تیزی سے بدلتی رہتی ہیں۔ کسی بھی مرکزی اتھارٹی کو ان تمام معلومات تک رسائی حاصل نہیں ہو سکتی، اور شرح مبادلہ کو کنٹرول کرنے کی کوششیں عام طور پر بگاڑ اور بالآخر ناکامی کا باعث بنتی ہیں۔ 

مثال کے طور ستمبر 1992 میں برطانیہ پاؤنڈ کی قدر کو ایک مقررہ حد سے زیادہ رکھنے میں ناکام رہا اور یورپی مالیاتی نظام کے زر مبادلہ کے طریقہ کار سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو گیا۔

پاکستان میں روپے کو اپنی قدر سے اوپر رکھنے کے نقصان دہ اثرات کا ریکارڈ موجود ہے۔ وہ صنعتیں جو دوسری صورت میں مقابلہ کر سکتی تھیں، متزلزل شرح مبادلہ کی وجہ سے اپنی پوری صلاحیت تک پہنچنے میں ناکام رہیں اور وسائل کو کم موثر شعبوں میں غلط طور پر تقسیم کیا گیا۔ 

اونچی قدر والی کرنسی کے ساتھ وابستہ کم مسابقت کو حریفوں کے مقابلے میں سست اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے عنصر کے طور پر شناخت کیا جا سکتا ہے۔ 

بدترین صورت میں، 2013 اور 2018 کے درمیان شرح مبادلہ کے نظام نے برآمدات کو دبایا اور درآمدات کو بڑھایا گیا، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بلند ہوا اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہوا۔

تازہ ترین پیش رفت میں، کرنسی کی یک طرفہ نقل و حرکت نے مارکیٹ کے کچھ حصہ داروں کو اس بات کا فائدہ اٹھانے کے لیے آمادہ کیا ہے، جو ایک یقینی طور پر سودمند قدم معلوم ہوتا ہے۔ 

مثال کے طور پر، برآمد کنندگان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنی برآمدی آمدنی کو ریکارڈ کروائیں، جبکہ درآمد کنندگان بیرونی وینڈرز کو ادائیگیاں ملتوی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

تقریباً دو سے تین ماہ کے عرصے کے بعد، ان معاہدوں کو انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہو گی۔ ہو سکتا ہے یہ سب کچھ ایک ہی وقت پر ہو۔ لیکویڈیٹی میں اسی اضافے کے بغیر ڈالر کی مانگ میں اضافے کا امکان ہے۔ نتیجتاً، اچانک زبردست گراوٹ واقع ہو سکتی ہے، جس سے ایک بار پھر زیر انتظام قیمتوں اور افراط زر بڑھ سکتا ہے۔

اونچی قدر والے روپے کے نتیجے میں بگاڑ مزید بڑھ جائے گا، حالانکہ اس کا مقصد افراط زر کو کنٹرول کرنا اور نتیجتاً مانیٹری پالیسی کو آسان بنانا ہے۔ 

اس کے نتیجے میں مرکزی بینک کو شرحِ سود بڑھانا پڑے گی، جس سے قرضوں میں توسیع کی حوصلہ افزائی ہو گی، جب مجموعی میکرو اکنامک صورتِ حال پائیدار نہیں ہو گی، جس کے نتیجے میں ایک عارضی اقتصادی تیزی پیدا ہوتی ہے، جس کے بعد ایک طویل گراوٹ آئے گی۔

اپنے مضمون ’علم کا دکھاوا‘ (The Pretense of Knowledge) میں ماہر معاشیات فریڈرک ہائیک نے ’مرکزی منصوبہ سازوں کے غرور‘ کے خلاف دلیل دی ہے۔ ہائیک کہتے ہیں کہ مرکزی منصوبہ ساز سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس پیچیدہ معاشی نظاموں کو کنٹرول کرنے کے لیے لازمی علم موجود ہے اور وہ اس کا اطلاق بھی کر سکتے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ تسلیم کر لینا کہ آپ کے علم کی کچھ ایسی حدیں ہیں جو آپ کبھی پار نہیں کر سکتے، آپ کو عاجزی کا سبق سکھاتا ہے، جو انہیں معاشرے کو کنٹرول کرنے کی مہلک کوششوں میں شریک ہونے سے بچاتی ہے۔ ایک ایسی کوشش جو انہیں نہ صرف عوام پر آمر بنا کر بٹھا دیتی ہے بلکہ بالآخر اس تہذیب کی تباہی کا بھی سبب بنتی ہے جسے کسی ایک ذہن نے تشکیل نہیں دیا بلکہ وہ تہذیب لاکھوں افراد کی آزادانہ کوششوں سے پروان چڑھی ہے۔‘

پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ہائیک کی بصیرت کو اپنے لیے رہنما اصول کے طور پر دیکھیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ روپے کی ’درست‘ قدر یا شرح سود کا تعین کرنے کے لیے حکومتی جبر کے بغیر، قیمتوں کی دریافت کے عمل کو قدرتی طور پر سامنے آنے دیں۔ پیچیدہ معاشی نظاموں میں مرکزی فیصلہ سازی، جیسے کرنسی اور کریڈٹ مارکیٹوں کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ 

اس کے برعکس، منتشر معلومات کو پروسیسنگ اور استعمال کرنے میں مارکیٹ پر مبنی طرز عمل زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔ ان مارکیٹوں پر غیر ضروری اثر و رسوخ ڈالنے کی کوششوں کے نتیجے میں اکثر غیر ارادی نتائج برآمد ہوتے ہیں، جو ان سے حاصل ہونے والے محدود قلیل مدتی فوائد سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

(بشکریہ عرب نیوز)

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر