اسرائیل کی حمایت پر کینیڈین شاعرہ روپی کور نے وائٹ ہاؤس کا دعوت نامہ ٹھکرا دیا

روپی کور نے کہا کہ وہ جنوبی ایشیائی برادری پر زور دے رہی ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ کو اسرائیل کی حمایت کرنے پر جوابدہ بنایا جائے۔

روپی کور 11 اکتوبر 2023 کو نیو یارک سٹی میں ایک تقریب میں شریک ہیں (اے ایف پی/ شون زینی)

انڈین نژاد کینیڈین شاعرہ روپی کور نے امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی دیوالی تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ کھلے عام مسترد کردیا ہے۔

ایکس (جسے پہلے ٹوٗٹر کے نام سے جانا جاتا تھا) پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کور نے لکھا کہ انہیں ’چند دن پہلے‘ ان کا دعوت نامہ موصول ہوا تھا اور انہوں نے تبصرہ کیا کہ ’وہ حیران ہیں کہ دیوالی منانا اس انتظامیہ کو قابل قبول ہے، جب کہ فلسطینیوں کے خلاف حالیہ مظالم کے لیے ان کی حمایت ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے اس دن کے معنی کے بالکل برعکس ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’آج امریکی حکومت ناصرف غزہ پر بمباری کی فنڈنگ کر رہی ہے بلکہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اس نسل کشی کا جواز بھی پیش کر رہی ہے، قطع نظر اس کے کہ کتنے ہی پناہ گزین کیمپوں، صحت کے مراکز اور عبادت گاہوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے، جس کا مطالبہ اقوام متحدہ، ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، ریڈ کراس جیسی تنظیموں اور بیشتر ممالک کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کور نے مزید کہا کہ وہ جنوبی ایشیائی برادری پر زور دے رہی ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ کو اسرائیل کی حمایت کرنے پر جوابدہ بنایا جائے، انہوں نے لکھا کہ ایک سکھ خاتون ہونے کے ناطے وہ وائٹ ہاؤس کو اجازت نہیں دیں گی کہ ان کی ’پسندیدگی‘ کو اس انتظامیہ کے کاموں پر پردہ ڈالنے کے استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا، ’میں ایسے کسی بھی ادارے کی دعوت مسترد کرتی ہوں جو پھنسے ہوئے شہریوں کی اجتماعی سزا کی حمایت کرتا ہو جن میں سے 50 فیصد بچے ہیں۔‘

حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی مہم میں اب تک 10 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے یہ فوجی مہم فلسطینی گروپ حماس کے اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے بعد شروع کی گئی تھی، جس میں ایک ہزار سے زائد اسرائیلی مارے گئے تھے۔

اس گروپ نے اس وقت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا