لنڈی کوتل کا قدیم قبرستان، جو پانی کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے

لنڈی کوتل کے علاقے اشخیل کے 200 سال قدیم قبرستان میں لوگوں نے پانی کے حصول کے لیے 50 سے زائد چھوٹے ٹیوب ویل بور کر رکھے ہیں جس سے علاقہ مکینوں کی پانی کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔

لنڈی کوتل کے علاقے اشخیل میں 200 سال قدیم قبرستان میں لوگوں نے پانی کے حصول کے لیے 50 سے زائد چھوٹے ٹیوب ویلوں کے بور کر رکھے ہیں۔ جن سے بڑی تعداد میں لوگ اپنی ضرورت کا پانی حاصل کر رہے ہیں۔ 

علاقے میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کی وجہ سے کئی ٹیوب ویلز خشک ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو پانی کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق اس قبرستان کے علاوہ دوسرے مقامات پر پانی یا تو ہے نہیں اور اگر ہے تو بہت ہی کم۔ جس سے بمشکل ان کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جہاں پاکستان بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے وہاں لنڈی کوتل میں بھی بڑے پیمانے پر لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔

اشخیل کے 60 سالہ خان شیر شنواری کہتے ہیں کہ یہ قبرستان 200 سال پرانا ہے۔ یہاں کی آبادی کو پانی کے حصول میں بہت تکلیف تھی، لوگ ٹینکروں سے پانی لیتے تھے جبکہ ان کی خواتین اور بچے میلوں دور سے سروں پر پانی لاد کر لانے پر مجبور تھے۔

اسی قبرستان کی ایک جگہ انہوں نے تجرباتی بنیاد پرایک ٹیوب لگایا۔ جس میں ان کے اندازے سے زیادہ پانی نکل آیا اور اسی ٹیوب ویل سے نہ صرف ان کی ضرورت پوری ہوتی ہے بلکہ علاقے کے دیگر لوگوں کو بھی وہ ٹیوب ویل سے پانی مہیا کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خان شیر شنواری کہتے ہیں کہ ’چونکہ یہ قبرستان شنواری کے سب قبیلوں کا ایک مشترکہ قبرستان ہیں، اس لیے اسی علاقے کے لوگوں نے بھی یہاں اپنی مدد آپ کے تحت ٹیوب ویلز کے بور کرنا شروع کر دیے ہیں۔‘

خان شیر بتاتے ہیں کہ ’یہاں پر پچھلے زمانے میں پانی کے کنویں ہوا کرتے تھے جو خشک ہوگئے کیونکہ بارشوں کا سلسلہ کم ہو گیا تھا۔ اس لیے ہم نے یہاں قبرستان میں ایک بور لگایا جو کامیاب ہو گیا۔

’رفتہ رفتہ لوگوں نے یہاں اپنے لیے ٹیوب ویل لگانا شروع کیے۔ جس سے وہ ضرورت کا پانی حاصل کرتے ہیں۔ یہ قبرستان تقریباً 200 سال پرانا ہے اور تمام اقوام کا مشترکہ قبرستان ہے۔ یہاں پر اب تقریباً 60 سے 70 تک ٹیوب ویل قائم کیے جا چکے ہیں جو تین چار کلومیٹر دور تک لوگوں کی ضرورت پوری کر رہے ہیں۔

’جو لوگ دور ہیں انہیں پانی میسر نہیں ہے تو وہ ٹینکروں سے پانی لینے پر مجبور ہیں یا انہیں دو تین کلومیٹر دور پانی کے حصول کے لیے جانا پڑتا ہے۔‘

قبرستان کے ساتھ منسلک شینواری قبیلے کی دیگر ذیلی شاخیں جن میں یروخیل، میرداد خیل، خوگہ خیل، جہاں پانی کی قلت تھی۔

انہوں نے بھی اسی قبرستان میں ذاتی خرچ پر ٹیوب ویلز کھود لیے ہیں اور ڈھائی سے تین کلو میٹر دور لوگوں کی بھی اسی قبرستان سے پانی کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔

اسی قبرستان سے تین کلو میٹر دور ہائشی نوشاد شنواری جو موٹر سائیکل پر اپنے گھر کے لیے پانی لینے آتے ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہاں ان کے داد پر دادا بھی دفن ہیں اور یہ پورے علاقے کا ایک بڑا قبرستان ہے۔

پہلے یہاں بڑے کنویں تھے، جن سے لوگ پانی حاصل کرتے تھے۔

رفتہ رفتہ پانی کے کنویں خشک ہوئے اور اس علاقے میں پانی کا بڑا بحران پیدا ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی