خواتین کی معاونت کے لیے چیٹ بوٹ بنانے کی خواہاں خاتون

زارا تاجور اپنے انیشی ایٹو ’لا ویمن‘ کے ساتھ یو این ڈی پی، جاز اور سکول آف لیڈر شپ کے اشتراک سے منعقدہ وائز بوٹ کیمپ میں شریک ہوئیں، جس کے تحت اب تک 13 شہروں میں 400 دیہی خواتین کو 200 سٹارٹ اپس میں معاونت فراہم کی جاچکی ہے۔

’پاکستان میں 15 سے 60 سال کی عمر کی تقریباً ایک کروڑ خواتین نے زندگی میں کم از کم ایک بار تشدد کا سامنا ضرور کیا ہوتا ہے۔ ہماری خواتین پردہ دار ہوتی ہیں اور انہیں ایسی بات مردوں سے کرتے ہوئے حیا آتی ہے، لہذا ہمارا مقصد ہے کہ ہم ایسی خواتین کو خواتین وکلا سے جوڑیں، تاکہ وہ آرام سے ان سے بات کرسکیں۔‘

پشاور سے تعلق رکھنے والی وکیل اور انٹرپرینور زارا تاجور سے ملاقات ضلع ایبٹ آباد کے پر فضا مقام ٹھنڈیانی میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، ٹیلی کام کمپنی جاز اور سکول آف لیڈر شپ کے اشتراک سے منعقدہ خواتین کے ایک بوٹ کیمپ میں ہوئی، جہاں وہ اپنے انیشی ایٹو ’لا ویمن‘ کے ساتھ موجود تھیں۔

زارا نے بتایا کہ ’لا ویمن‘ کے ذریعے وہ خواتین کو خواتین وکلا کے ہی ذریعے قانونی معاونت فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’اکثر خواتین گھروں میں بند ہوتی ہیں، لہذا ہم چاہتے ہیں کہ ہم انہیں آن لائن قانونی معاونت فراہم کریں۔‘

بقول زارا: ’ہم آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے ذریعے ایک چیٹ بوٹ اور ایپ بنائیں گے تاکہ خواتین اس کے ذریعے اپنے حقوق کے بارے میں جانیں اور پھر اگر انہیں ضرورت پڑے تو وہ خواتین وکلا سے رابطہ کریں۔‘

یہ چیٹ بوٹ بنانا اور خواتین کو قانونی معاونت فراہم کرنا زارا کا خواب ہے اور اسی خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ اس بوٹ کیمپ میں موجود تھیں۔

’قابل خواتین، کامیاب کاروبار‘ کے سلوگن کے ساتھ ویمن انیشی ایٹو اِن سوشل انٹرپرینورشپ یعنی ’وائز‘ (WISE) کے نام سے اس بوٹ کیمپ میں زارا جیسی دیگر خواتین بھی اپنے سٹارٹ اپس کے آئیڈیاز کے ساتھ شریک تھیں، جہاں انہیں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے یو این ڈی پی، جاز اور سکول آف لیڈر شپ کے ماہرین موجود تھے۔

یو این ڈی پی میں بطور یوتھ اکنامک امپاورمنٹ آفیسر کام کرنے والے جہانگیر اشرف نے بتایا کہ وائز پروگرام میں یو این ڈی پی کا کردار تکنیکی صلاحتیں فراہم کرنا ہے۔

’ہم پائیدار ترقی کے اہداف یعنی Sustainable Development Goals (ایس ڈی جیز) پر عملدرآمد کے لیے کام کرتے ہیں۔ جاز ہمارا ڈونر ہے اور ان کی سپورٹ سے ہم وائز بوٹ کیمپس کا انعقاد کرتے ہیں، جس میں ہمیں سکول آف لیڈرشپ کی شراکت بھی حاصل ہے۔‘

جہانگیر اشرف نے بتایا کہ اس طرح کے اقدامات خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے بہت اہم ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہماری تقریباً 50 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن مختلف سماجی مسائل کی وجہ سے وہ ملک کی معیشت کا حصہ نہیں بن پاتیں، تو اس طرح کے انیشی ایٹو کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ خواتین کو تھوڑی سی سپورٹ دے سکیں تاکہ وہ نہ صرف اپنے بزنس، ایس ڈی جیز اور کمیونٹی بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت میں بھی اہم اور فعال کردار ادا کرسکیں۔‘

جاز میں بطور سسٹین ایبلٹی ہیڈ کام کرنے والے فہد رحمان نے بتایا کہ یو این ڈی پی، ایس ڈی جیز پر کام کرتا ہے اور جاز بھی اسی کو سپورٹ کرتا ہے۔

فہد کے مطابق 2019 میں شروع کی گئی اس شراکت داری کے تحت چاروں صوبوں کے 13 شہروں میں چار دن پر مشتمل بوٹ کیمپس کا انعقاد کیا گیا، جن کے دوران 400 خواتین کو 200 سٹارٹ اپس میں ہر طرح کی معاونت فراہم کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ان بوٹ کیمپس کے دوران مختلف ایس جی ڈیز  کا احاطہ کرنے والے خواتین کے سٹارٹ اپس کو حصہ بنایا گیا، جس میں ابتدائی سٹیج سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ وغیرہ سب کچھ انہیں سکھایا جاتا ہے۔ 

فہد نے بتایا کہ ہم دیہی علاقوں کی خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ان بوٹ کیمپس میں آئیں اور اپنی سکلز کو سوشل پلیٹ فارم پر لے کر آئیں۔

بقول فہد اس چار روزہ بوٹ کیمپ کے بعد وہ ان خواتین کو ان کے شعبے کے ایکسپرٹس سے جوڑتے ہیں، جو مختلف سیشنز میں ان کے سوالات کے جواب دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب کسی خاتون کا سٹارٹ اپ کامیاب ہو جاتا ہے تو ہم انہیں کیش ہینڈلنگ اور ویب سائٹ بنانے سمیت دیگر تکنیکی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ ’یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین