آپ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے خاتمے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟       

کچھ کر رہے ہیں تو ہمیں بھی بتائیں، شاید ہم بھی وہ کر سکیں اور لڑکیوں اور خواتین پر ہونے والے تشدد کے خاتمے میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کر سکیں۔

25 نومبر 2009 کو کراچی میں خواتین پر تشدد کے خلاف مارچ کے شرکا نعرے لگاتے ہوئے (اے ایف پی)

اقوامِ متحدہ ہر سال 25 نومبر سے 10 دسمبر تک صنفی تشدد کے حوالے سے ’16 ڈیز آف ایکٹویزم‘ کے نام سے ایک مہم چلاتی ہے، جس کے دوران دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں۔

ان سرگرمیوں کا مقصد لڑکیوں اور خواتین پر ہونے والے تشدد کو اجاگر کرنا، اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرنا اور انسانی حقوق کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔

اس سال کی مہم کا تھیم ’UNITE خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے سرمایہ کاری کریں‘ ہے۔ اس تھیم کے تحت لوگوں اور حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے بارے میں اپنے ان اقدامات کی تشہیر کریں، جن کی مدد سے وہ اس دنیا کو خواتین پر ہونے والے تشدد سے پاک بنا رہے ہیں۔

یہ ایک اہم تھیم ہے۔ ہم ہمیشہ لڑکیوں اور خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کی بات کرتے ہیں لیکن ہم اس تشدد کے خاتمے کے لیے کیا کر رہے ہیں، اس بارے میں بات نہیں کرتے۔

کسی لڑکی نے نوکری کرنی ہو تو اسے کہا جاتا ہے کہ دفاتر کے ماحول خواتین کے کام کرنے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ ہمیں بھی یہی کہا گیا تھا۔

ہم نے جواباً پوچھا: ’انہی دفاتر میں مرد بہت فخر سے نوکریاں کرتے ہیں اور بقول ہر مرد اس نے کبھی کسی عورت پر تشدد نہیں کیا تو دفاتر کا ماحول کیوں خراب ہے اور اگر خراب ہے تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے دفاتر کے مرد کام کیوں نہیں کر رہے۔ ‘

ہمارے کیریئر کا آغاز ایک بہت ہی روایتی دفتر سے ہوا تھا۔ اس دفتر میں مردوں کی بھرمار تھی اور خواتین کی قلت تھی۔ وہاں سب کے استعمال کے لیے ایک ہی بیت الخلا تھا۔ ایک خاتون نے اس پر ہلکا سا اعتراض بھی کیا جو بجٹ کی کمی کے شور میں کہیں دب سا گیا۔

کسی مرد نے کبھی خواتین کے ساتھ بیت الخلا شیئر کرنے پر اعتراض نہیں اٹھایا، نہ ان کے اعتراض اٹھانے پر ان کا ساتھ دیا۔

ہماری دوسری نوکری ایک میڈیا ادارے میں تھی۔ وہاں خواتین کے لیے علیحدہ ریسٹ روم تھا۔ البتہ ہمارے فلور پر مردوں کے لیے ایک ریسٹ روم تھا۔ ہمارے کچھ ساتھیوں نے بتایا کہ وہاں ایک کیمرا لگا ہوا ہے۔ ہم قریباً ایک سال اس دفتر میں رہے۔ ہم نے کبھی کسی مرد کو اس حوالے سے شکایت درج کرواتے ہوئے نہیں دیکھا۔

وہ بھی ایک تشدد تھا، جس کا انہیں احساس ہی نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رمضان آیا تو دفتر کا کیفےٹیریا بند کر دیا گیا۔ پورے دفتر میں کیفےٹیریا وہ واحد جگہ تھی، جہاں انسان ایک گھنٹے کی بریک کے دوران بیٹھ سکتا تھا اور کچھ کھا پی سکتا تھا۔

کیفےٹیریا بند ہوا تو مرد اپنی بریک میں دفتر سے باہر چلے جاتے تھے۔ خواتین ایسا نہیں کر سکتی تھیں۔ وہ مجبوراً اپنے ڈیسک پر بیٹھی رہتی تھی۔

اب اتنی خواتین تھیں۔ ہر خاتون کو حیض بھی آتا تھا۔ ایک خاتون حمل سے تھیں۔ وہ اس وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں۔ دفتر میں کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں یہ خواتین اپنی بریک کے دوران جا کر پانی بھی پی سکیں۔

کچھ خواتین پانی پینے یا کچھ کھانے کے لیے ریسٹ روم جایا کرتی تھیں۔ یہ بھی تشدد تھا لیکن اس تشدد کے حوالے سے ان میں سے بھی بہت سی خواتین آواز نہیں اٹھا رہی تھیں۔ انہوں نے خود ہی ریسٹ روم میں اپنے کھانے پینے کا حل نکال لیا تھا۔

ہم نے اس حوالے سے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کو ایک ای میل بھی لکھی لیکن اس کا ہمارے وہاں رہنے تک کوئی جواب نہیں آیا۔

سالوں بعد ہم نے ایک فیمینسٹ ادارے میں کام کیا۔ اس ادارے کو وہ خواتین چلا رہی تھیں جنہوں نے جنرل ضیا کے دور میں سخت بغاوت کی تھی، دھرنے دیے تھے اور پولیس کے ڈنڈے کھائے تھے۔ بلاشبہ وہ خواتین کے لیے بہت کام کر رہی تھیں لیکن اس دفتر میں دو نگاہیں تھیں جو ہر لڑکی کا پیچھا کرتی تھیں۔

اب دیکھیے ادارہ فیمینسٹ۔ اس ادارے میں کام کرنے والی ہر لڑکی اور ہر عورت فیمینسٹ لیکن ان کے درمیان وہ دو نگاہیں سالوں سے موجود تھیں جو ہر ایک کو محسوس ہوتی تھیں لیکن ان کے بارے میں کوئی بولتا نہیں تھا۔

ایک ماہانہ میٹنگ میں ہم نے بات چھیڑی تو ایک ڈائریکٹر نے شور مچاتے ہوئے بات بدل دی۔

یہ بھی تشدد تھا اور اس تشدد کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا تھا۔

یہ تو صرف دفاتر کی باتیں ہیں۔ ہمارے گھروں میں کیا کچھ نہیں ہوتا۔

ہر گھر کی ایک سی کہانی ہے۔ وہی پابندیاں، دھمکیاں، پیسوں کے حوالے سے تنگ کرنا، گھر میں ہر وقت لڑائی کا ماحول رکھنا، کسی بھی خوشی کے موقعے پر اپنا پنگا ڈال کر بیٹھ جانا۔ اب چاہے یہ عورت کر رہی ہو یا مرد، ہر گھر میں کچھ نہ کچھ ایسا  ہی ہو رہا ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس تشدد کے خاتمے کے لیے ہم اور آپ کیا کر رہے ہیں؟

ہم کم از کم اس بارے میں لکھ رہے ہیں۔ جہاں بول سکتے ہیں بولتے بھی ہیں۔ آپ کیا کر رہے ہیں؟

کچھ کر رہے ہیں تو ہمیں بھی بتائیں، شاید ہم بھی وہ کر سکیں اور لڑکیوں اور خواتین پر ہونے والے تشدد کے خاتمے میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کر سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ