ہزاروں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے والے ایوارڈ یافتہ ورکر

سعداللہ سبطین پراچہ نے 2009 میں محکمہ صحت میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور اور پولیو کیمپین کے دوران اب تک ہزاروں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا چکے ہیں۔

سعد اللہ سبطین کا تعلق میانوالی کے علاقے کالاباغ سے ہے جہاں وہ گذشتہ 14 سال سے محکمہ صحت میں سپروائزر کے فرائض ادا کر رہے ہیں۔

گذشتہ دنوں انہیں انسداد پولیو مہم میں شاندار خدمات پر ’ڈسٹرکٹ بیسٹ ماسٹر ٹرینر‘کا ایوارڈ دیا گیا۔

 سعداللہ سبطین انسداد پولیو مہم کے دنوں میں صبح سات بجے تحصیل ہسپتال کالاباغ پہنچ جاتے ہیں اور اس دوران علاقے بھر میں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے والا طبعی عملہ بھی ہسپتال پہنچ جاتا ہے۔

 تلاوت کے بعد سعداللہ اس عملے کو بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا طریقہ بچوں کے والدین کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کے بارے آگاہی دینا، اور دیواروں پر فگر لکھنے کی ٹریننگ دیتے ہیں۔

 سعداللہ سبطین پراچہ نے 2009 میں محکمہ صحت میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور اور انسداد پولیو مہم کے دوران اب تک ہزاروں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا چکے ہیں۔

 انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے والدین کو بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے لازمی پلانے چاہئیں تاکہ وہ معذوری سے بچ سکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کام میں خدمت سمجھ کر کر رہا ہوں اور مجھے اس کام پر بہت فخر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام بھی اس بات کا حکم دیتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔‘

ہسپتال میں عملے کی ٹریننگ کے بعد محکمہ صحت کا عملہ مختلف علاقوں میں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے نکل جاتا ہے۔ ان جگہوں میں بس سٹینڈ، تنگ و تاریک گلیاں، لوگوں کے گھر جھگیاں اور دشوار گذار علاقے شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عموماً چار دن جاری رہنے والی اس انسداد پولیو مہم میں محکمہ صحت کا عملہ دل و جان سے کام کرتا ہے اور ہر حال میں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی بچہ انسداد پولیو کے قطرے پینے سے رہ نہ جائے۔

سعداللہ کا کہنا تھا کہ 2013 کے بعد تاحال میانوالی ضلع میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ اس پہلے 2013 میں کالاباغ کے نزدیک واقع افغان مہاجرین کیمپ میں پولیو کا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ اس وقت سے پنجاب میں پولیو کوئی بھی کیس نہیں ہے۔‘

 ان کے مطابق ’پاکستان بھر میں پولیو کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد پانچ ہے۔‘

بقول سعد اللہ ’ہمیں بعض علاقوں میں کچھ پریشانی کا سامنا بھی رہتا ہے کیوں کہ بعض والدین اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے پر راضی نہیں ہوتے تو انہیں پھر ہم آگاہ کرتے ہیں ان کو پولیو کے قطروں کی افادیت بتاتے ہیں تو وہ ہ راضی ہو جاتے ہی۔‘

ان کے مطابق ’بعض جگہوں پر سکیورٹی مسائل بھی بنتے ہیں مگر ضلعی پولیس اہلکار ہمارے ساتھ چوکوں اور چوراہوں پر موجود رہتے ہیں جو سکیورٹی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ یہ ایک قومی فریضہ اور عبادت ہے جس پر محکمے کے اہلکار مل کے کام کرتے ہیں۔‘

 ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد صرف نوکری کرنا اور ٹارگٹ پورا کرنا نہیں ہے بلکہ ہمارا مشن ہے کہ پاکستان بھر سے پولیو کا خاتمہ ممکن اس مقصد کے لیے ہم سکولوں کے اساتذہ ، سول سوسائٹی اور بااثرافراد سے مل کے سیمینار اور آگاہی مہم بھی چلاتے ہیں تا کہ وہ آگے طلبا اور عوام کو اس بارے آگاہ کر سکیں۔‘

ان کے مطابق ’جو لوگ اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرتے ہیں ہم انہیں بہت پیار سے پولیو کے قطروں کی افادیت سے آگاہ کرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت