کشمیر میں یتیم بچوں کے سکول نے یو اے ای کا عالمی ایوارڈ جیت لیا

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشمیر آرفنز ریلیف ٹرسٹ نے 2024 کے لیے متحدہ عرب امارات کا عالمی ایوارڈ زاید سسٹین ایبیلیٹی پرائز اپنے نام کر لیا۔

کورٹ ایجوکیشنل کمپلیکس کی طالبات نے دوبئی میں کوپ 28 کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے زاید سسٹین ایبیلٹی پرائز وصول کیا (تصویر کورٹ)

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے کشمیر آرفنز ریلیف ٹرسٹ (کورٹ) کو سالانہ عالمی کانفرنس برائے ماحولیاتی تبدیلی (کوپ 28) کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے 2014 کے عالمی ایوارڈ زاید سسٹین ایبلٹی پرائز نامی انعام سے نوازا ہے۔

یہ انعام جنوبی ایشیا میں بہترین عالمی ہائی سکول کے زمرے میں کورٹ ایجوکیشنل کمپلیکس میرپور کو ان کے کلائمیٹ ایکشن منصوبے کے تحت پانی کے استعمال پر پائیدار حکمت عملی اپنانے اور مثبت زرعی سرگرمیوں کے اجرا پر دیا گیا۔

سکول کی طالبات نے یہ انعام دبئی میں جاری کوپ 28 کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے وصول کیا۔ اس موقعے پر ادارے کے چیئرمین چوہدری محمد اختر بھی تقریب میں شامل تھے۔

عالمی ہائی سکول کے اس زمرے میں پاکستان سے کورٹ ایجوکیشنل کمپلیکس کے علاوہ انڈیا سے انڈیا انٹرنیشنل پبلک سکول اور بنگلہ دیش سے اوبھزترک سکول کو بھی فائنلسٹ کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم یہ انعام کورٹ کے حصے میں آیا۔

’زاید سسٹین ایبلٹی پرائز‘ کے فاتحین کے اعلان کے بعد کورٹ نے اپنی پریس ریلیز میں اس انعام کو ’ادارے کی 18 سالہ منفرد خدمات کا اعتراف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کوپ 28 میں کورٹ کی موجودگی نہ صرف زیر کفالت بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کورٹ کی خدمات کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ مثبت تبدیلی کی جستجو میں عالمی رہنما کے طور پرشناخت کرتی ہے۔‘

متحدہ عرب امارات نے 2023 کو پائیداری کا سال قرار دیا اور رواں سال کوپ 28 کی میزبانی کا اعزاز بھی دبئی کو حاصل ہوا۔

اس کانفرنس کے تناظر میں متحدہ عرب امارات نے زاید سسٹین ایبیلٹی پرائز کے لیے کلائمیٹ ایکشن کا نیا زمرہ متعارف کرایا ہے۔

منتظمین کے مطابق اس زمرے میں  کل 3,178 نامزدگیاں موصول ہوئیں۔ زاید سسٹین ایبلٹی پرائز کی جیوری نے صحت، خوراک، توانائی، پانی، موسمیاتی ایکشن، اور گلوبل ہائی سکولز کے زمروں میں موصول ہونے والی 5،213 نامزدگیوں میں سے 33 فائنلسٹ منتخب کیے۔

زاید سسٹین ایبیلٹی پرائز کیا ہے؟

یہ انعام متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا عالمی ایوارڈ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں اور عالمی ہائی سکولوں کو پائیدارمنصوبے پیش کرنے پر بطور اعتراف جاری کیا جاتا ہے۔

اس انعام کے ہر زمرے میں فاتح قرار پانے والے اداروں کو چھ لاکھ امریکی ڈالرز کی رقم بطور انعام دی جاتی ہے، جو وہ اپنے مجوزہ منصوبوں پر خرچ کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرتے ہیں۔

اس پرائز کا آغاز 2008 میں انسانی ہمدردی کے منصوبوں کی معاونت اور ان کی خدمات کے اعتراف کے لیے کیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کے اعزاز میں  جاری عرب امارات کا سب سے بڑا عالمی ایوارڈ اب تک 106 اداروں کو دیا جا چکا ہے، جن میں درمیانے درجے کے کاروباری ادارے، غیر منافع بخش تنظیمیں، اور عالمی ہائی سکول شامل ہیں۔

پرائز کے منتظمین کے بقول اس انعام کے ذریعے اب تک 151 ممالک کے 378 ملین افراد مستفید ہو چکے ہیں۔

کشمیر آرفنز ریلیف ٹرسٹ کا تعارف

کورٹ کا قیام پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 2005 کے ہولناک زلزلے کے بعد عمل میں لایا گیا اور اب تک یہ ادارہ سینکڑوں یتیم بچوں کی مکمل کفالت کے ذریعے انہیں معاشرے کا کار آمد شہری بنا چکا ہے۔

اس ادارے کے بانی چوہدری محمد اختر کے بقول ’2005 کے زلزلے سے متاثرہ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری عارضی طور پر ہم نے لی تھی، مگر پھر خیال آیا کہ جب ہم ان کی دیکھ بھال چھوڑ دیں گے تو یہ بچے کہاں جائیں گے۔ تو اس مقصد کے لیے پھر ہم نے اسے باقاعدہ ایک ادارے کی شکل دی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2007 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے میرپور کے قریب جڑی کس نامی علاقے میں 104 کنال زمین عطیہ کی تو اس پر کورٹ کمپلیکس کی تعمیر شروع ہوئی اور بعد میں مزاید 500 کنال زمین عطیہ کی گئی۔

اس عمارت میں 1000 بچوں کے لیے رہائش کا بہترین انتظام موجود ہے تاہم اس وقت کورٹ میں 350 بچے اور بچیاں رہتی ہیں اور اتنی ہی تعداد میں بچے یہاں سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔

میرپور کے بعد اسی طرز کا دوسرا ایجوکیشنل کمپلیکس خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی میں قائم کیا گیا ہے جہاں 500 کے قریب بچوں کی رہائش اور تعلیم کا انتظام موجود ہے۔ اس کمپلیکس کا افتتاح رواں سال آٹھ اکتوبر کو کیا گیا۔

چوہدری اختر کے مطابق ’ہم صرف 16 سال کی عمر تک ان کی ذمہ داری نہیں لیتے بلکہ ان کو اعلیٰ تعلیم دیتے ہیں، اچھا شہری بناتے ہیں۔

’یہاں سے کئی بچے اور بچیاں فارغ ہو کر بڑے بڑے اداروں میں چلے گئے، بیرون ملک ملازمتیں کرنے لگے مگر وہ سب کے سب اب بھی اس ادارے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘

چوہدری اختر کے مطابق: ’یہ ادارہ مستحق بچوں کے لیے بنا ہے اور یہاں ذات پات، رنگ نسل یا مذہب نہیں پوچھتے بلکہ انسانیت کو اول درجہ دیتے ہیں۔

’یہ ادارہ صرف کشمیر کا نہیں پورے پاکستان کا ہے اور پورے پاکستان سے بچے یہاں آتے ہیں۔‘

2005 کے زلزلے کے بعد قائم ہونے والے اس ادارے کو برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کا مالی تعاون حاصل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان