دبئی: کوپ 28 افتتاحی اجلاس میں پاکستانی وزیراعظم کی شرکت

کوپ 28 اجلاس کے آغاز پر جمعرات کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے 57 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے فنڈ کے قیام کا اعلان کیا گیا، جسے پاکستان کی جانب سے سراہا گیا۔

عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کے لیے یکم دسمبر 2023 کو دبئی کے ایکسپو سٹی پہنچنے پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ہمراہ (وزیراعظم ہاؤس)

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شہر دبئی میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 28 کے سربراہی اجلاس میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

اجلاس میں شرکت کے لیے جب نگران وزیراعظم دبئی کے ایکسپو سٹی پہنچے تو متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے انہیں خوش آمدید کہا۔

پاکستانی وفد میں نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی، نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر، نگران وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی احمد عرفان اسلم اور نگران وزیر توانائی محمد علی بھی شامل ہیں۔

نگران وزیراعظم دو دسمبر کو پاکستان کو درپیش ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق نیشنل سٹیٹمنٹ یعنی قومی تخمینہ رپورٹ پیش کریں گے۔

اجلاس میں پاکستان سمیت 200 ممالک کے رہنما اور نمائندے شریک ہیں، جن میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں لیکن پاکستانی اور انڈین وزیراعظم کے درمیان کسی دوطرفہ ملاقات کے امکانات سے متعلق دونوں ملکوں کی جانب سے کچھ نہیں کہا گیا۔

جمعرات (30 نومبر) کو اجلاس کے آغاز پر غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 15 ہزار سے زائد فلسطینوں کو یاد رکھا گیا اور ان کے احترام میں کچھ دیر خاموشی اختیار کی گئی۔

اقوام متحدہ کی کوپ 28 ماحولیاتی کانفرنس نے جمعرات کو ہی باضابطہ طور پر 57  کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے ’نقصان اور تباہی‘ (Loss and Damage)  فنڈ کا آغاز کیا، جس کا مطالبہ عالمی حدت سے منسلک قدرتی آفات سے تباہ ہونے والے کمزور ممالک کی طرف سے طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔

ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جس کا مطالبہ ہے کہ 2022 میں آنے والے شدید سیلاب سے 17 سو سے زیادہ افراد کے جانی نقصان کے علاوہ انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نقصان کا تخمینہ 15 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا تھا۔

پاکستان نے 57 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے فنڈ کے قیام کو سراہا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے فنڈ کے قیام کی غرض سے طویل عرصے سے کوششیں کی جا رہی تھیں اور اب اس کے قیام کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا ہے کہ ’پاکستان کوپ 28 میں (فنڈ) کے قیام کی تاریخی کامیابی کو سراہتا ہے، کیوں کہ اجلاس کے آغاز پر ہی ایک گھنٹے میں ہی فنڈ کے لیے 57 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دینے کے وعدے کیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)



وزارت کی طرف سے کہا گیا کہ ’پاکستان اس نازک مسئلے پر ترقی پذیر ممالک کو فعال طور پر شامل کرنے اور ان کی معاونت کے لیے پر عزم ہے۔‘

اس ہفتے کے آغاز میں پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں پاکستان نے امیر ممالک کو یاد دہانی کروائی تھی کہ ماحولیاتی خطرے سے دوچار ممالک کی مدد کرنا ان کی ’اہم‘ ذمہ داری‘ ہے اور عالمی موسمیاتی پالیسیوں میں ’مساوات اور انصاف‘ ہونا چاہیے۔

متحدہ عرب امارات کے کوپ 28 کے صدر سلطان الجابر نے کانفرنس کے آغاز پر کہا تھا کہ ’ہم نے آج تاریخ رقم کی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اس فنڈ میں 10 کروڑ ڈالر دینے کا عہد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی نے بھی 10 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔‘

کئی سالوں تک اس مسئلے پر لیت و لعل سے کام لینے کے بعد دولت مند ممالک نے گذشتہ سال مصر کے شہر شرم الشیخ میں کوپ 27 سربراہ اجلاس میں ایک تاریخی معاہدے میں اس فنڈ کی حمایت کی تھی۔

کوپ28 اور ماحولیاتی تبدیلی کے اہداف

دبئی میں کوپ 28 کے پہلے دن اس کا اجرا اس فنڈ کے میکانزم پر پیچیدہ مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے، جسے عبوری بنیاد پر ورلڈ بینک میں رکھا جائے گا۔

جابر نے کہا: ’اس سے دنیا کو ہمارے کام کی رفتار کا ایک مثبت اشارہ ملتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی کوپ کانفرنس کے پہلے دن کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور جس رفتار سے ہم نے ایسا کیا ہے وہ منفرد، غیر معمولی اور تاریخی بھی ہے۔‘

دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اس اہم اجلاس میں ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج میں کمی پر تفصیلی مباحثے ہوں گے جب کہ عالمی حدت یعنی گلوبل وارمنگ میں کمی کے لیے اقدامات پر بھی بات ہو گی۔

عالمی ماحولیاتی تنظیم نے 2023 کو انسانی تاریخ کا گرم ترین سال قرار دیا ہے اور عالمی تپش کے خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔

کوپ 28 کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینے اور ان کے حل سے متعلق سب بڑا اجتماع قرار دیا جا رہا ہے، جس میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم سمیت 97 ہزار مندوبین شریک ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات