’کیا آپ حماس کی مذمت کرتے ہیں؟‘

سات اکتوبر کو جو کچھ ہوا وہ نتن یاہو کی 16 سال کی دیرینہ اور دانستہ پالیسی کا براہ راست نتیجہ تھا، جس کے تحت وہ حماس کو ’سہارا‘ دیتے رہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو 22 جنوری 2023 کو کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (فائل فوٹو/اے ایف پی)
 

اسرائیل میں حزب اختلاف کے اہم رہنما یائر لاپید پیر کو ایک بار پھر سرخیوں میں آ گئے۔ سات اکتوبر کو انٹیلی جنس کی ناکامی پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے لاپید نے اسرائیلی عوام اور حتیٰ کہ موجودہ حکومت کے اندر دائیں بازو کے انتہا پسندوں میں بڑھتے ہوئے جذبات کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے کہا: ’جو اس طرح سے ناکام ہوا وہ آگے نہیں چل سکتا۔‘ لاپید نے مزید کہا کہ نتن یاہو کو ’چلے جانا چاہیے‘ کیوں کہ ان کی حکومت کے دوران حماس کے جنگجو غزہ سے نکلے اور 1200 سے زائد افراد کو مار ڈالا۔‘

میں لاپید سے متفق ہوں۔ نتن یاہو کو رخصت ہو جانا چاہیے۔ تاہم انہیں ان وجوہات کی بنا پر استعفیٰ نہیں دینا چاہیے، جن کا لاپید نے ذکر کیا ہے۔

نتن یاہو کے جرائم اس تصور سے کہیں زیادہ ہیں کہ سات اکتوبر کے واقعات انٹیلی جنس کی ناکامی یا غفلت تھی یا اس کی وجہ منقسم سیاست تھی، جس پر یہ حکومت پہلے ہی دن سے عمل پیرا رہی ہے۔

سات اکتوبر کو جو کچھ ہوا وہ نتن یاہو کی 16 سال کی دیرینہ اور دانستہ پالیسی کا براہ راست نتیجہ تھا، جس کے تحت وہ حماس کو ’سہارا‘ دیتے رہے، جس سے وہ خود حماس کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرتے رہے اور اس کے صدر محمود عباس کو نظر انداز کرتے رہے۔

نتن یاہو کے مذموم منصوبے نے بیک وقت کئی کام سرانجام دیے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے فلسطینی کاز کے لیے ایک ناقابل قبول چہرے کو بااختیار بنایا۔ ایک اسلامی عسکریت پسند تنظیم جسے ایران، جیسی عالمی سطح پر ناپسند ریاست کی حمایت حاصل ہے اور بہت سے ممالک نے اسے دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں رکھا ہوا ہے۔

دوسری طرف انہوں نے خود فلسطینیوں کے اندر تقسیم کو بڑھاوا دیا اور پھر محمود عباس کی اتھارٹی کو کمزور کرنے کے بعد نتن یاہو ہر جگہ بار بار دہراتے رہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کا کوئی مناسب، جائز ہم منصب نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈیڑھ دہائی تک نتن یاہو کو کبھی بھی فلسطینی ریاست کے بارے میں سنجیدگی سے بات نہیں کرنی پڑی۔

اس کے باوجود انہیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ ان کی تین خواہشات پوری ہوئیں: اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کو گلے لگانے، حماس کو بااختیار بنانے اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے سے وہ خواہش اور لالچ جیسی صورت حال میں پھنس گئے۔ ان کے ’شیطان کے ساتھ معاہدے‘ کی ایک قیمت تھی اور یہ قیمت وہی تھی جو سات اکتوبر کو چکائی گئی۔

یقیناً آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک عرب اخبار کا مدیر اسرائیلی وزیراعظم کی سیاست کو بیان کرتے وقت معتصب ہو سکتا ہے- یہی وجہ ہے کہ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ میری بات کا اعتبار بےشک نہ کریں، اسی موضوع کے بارے میں دیکھیں کہ اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کیا کہتا ہے۔

کالم نگار ٹال شنائیڈر کا ایک اہم مضمون: ’برسوں تک نتن یاہو نے حماس کو سہارا دیا۔ اب اس کے غیر متوقع اور تباہ کن نتائج ہمارے سامنے ہیں،‘ پڑھیں۔

انہوں نے آٹھ اکتوبر کو یہ دلیل دی تھی کہ محمود عباس اور فلسطینی ریاست چھوڑ کر حماس کے ساتھ شراکت دار کے طور پر برتاؤ کرنے کی نتن یاہو کی پالیسی کا نتیجہ ’وہ زخم ہیں، جن کو بھرنے میں اسرائیل کو برسوں لگیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نتن یاہو نے ’حماس کو محض ایک دہشت گرد تنظیم سے ایک ایسی تنظیم میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے ساتھ اسرائیل نے مصر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کیے تھے اور جسے بیرون ملک سے نقد رقم وصول کرنے کی اجازت تھی۔‘

اسی مضمون میں نتن یاہو کے 2019 میں ایک نجی اجلاس میں دیے گئے تبصروں کو بھی دہرایا گیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو حقیقت بننے سے روکنے کی ضمانت یہ ہے کہ حماس کی حمایت جاری رکھی جائے۔

اسی وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت بدنام زمانہ تکرار ’کیا آپ حماس کی مذمت کرتے ہیں؟‘ کا فطری جواب یہ ہونا چاہیے کہ ’پھر آپ کو نتن یاہو کی بھی مذمت کرنی چاہیے۔‘

اور یہ دیکھتے ہوئے کہ بہت سے ممالک میں دہشت گردی کے حامیوں کو بھی وہی سزا ملتی ہے جو دہشت گردوں کو ملتی ہے، تو پھر نتن یاہو کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

 

بہرحال، ہم سب جانتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیم مددگاروں اور حمایتیوں کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔

اور یہ دیکھتے ہوئے کہ بہت سے ممالک میں دہشت گردی کے حامیوں کو بھی وہی سزا ملتی ہے، جو دہشت گردوں کو ملتی ہے، تو پھر نتن یاہو کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

درحقیقت اگر اسرائیلی فوج کو حماس کے حق میں وٹس ایپ سٹیٹس پوسٹ کرنے پر نحف قصبے میں خواتین کو گرفتار کرنے کی اجازت ہے تو نتن یاہو کے خلاف اسرائیل میں غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

جیسا کہ حال ہی میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ہم اسرائیل حماس جنگ پر دنیا کے ردعمل میں ’دہرا معیار‘ دیکھ رہے ہیں۔

اگر کچھ عالمی طاقتوں کا غزہ میں جنگ کے دوران اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت دینا جرم ہے، تو خود اسرائیل کے اندر سے نتن یاہو کو بےدخل کرنے کے مطالبے کو نظر انداز کرنا اس سے بھی بڑا جرم ہے۔

(فیصل جے عباس عرب نیوز کے چیف ایڈیٹر ہیں۔)

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر