ضلع مہمند کا کچا سکول جہاں طلبہ آج بھی زمین پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں

اس سکول کے لیے تعمیر ہونے والے دو مٹی کے بنے کمروں میں سے ایک کی چھت بارش کے باعث گر چکی ہے جبکہ دوسرے پر دروازہ تک نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند کی تحصیل پنڈیالی میں گذشتہ 20 سال سے قائم ایک سکول کلاس رومز، پانی، واش روم اور دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔

تحصیل پنڈیالی کے بازار سے چار کلومیٹر فاصلے پر واقعے اس سکول کا نام کمیونٹی بیسک ایجوکیشن سکول ولی داد کور ہے اور یہ محکمہ تعلیم کے زیرانتظام چل رہا ہے، جہاں اس وقت 83 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

اس سکول کے لیے تعمیر ہونے والے دو مٹی کے بنے کمروں میں سے ایک کی چھت بارش کے باعث گر چکی ہے جبکہ دوسرے پر دروازہ تک نہیں ہے۔

اس سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے اور بچیاں کھلے میدان میں بغیر ٹاٹ کے زمین پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔

سکول میں نہ بچوں کے لیے واش روم کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی پینے کے پانی کا جبکہ یہ سکول چار دیواری سے بھی محروم ہے۔

سکول کے ہیڈ ٹیچر عبدالباسط نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس علاقے میں دو کلو میٹر کے فاصلے تک لڑکیوں یا لڑکوں کا کوئی سکول موجود نہیں ہے۔‘

انہوں نے بتایا: ’سکول کی کمی پوری کرنے کے لیے سال 2003 میں نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تعاون سے یہاں سکول قائم کیا گیا، جس میں پہلے سال 135 طلبہ وطالبات نے داخلہ لیا تھا اور اب تک یہ سکول چل رہا ہے جس میں آج بھی 83 طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالباسط نے مزید بتایا کہ ’نیشنل فاؤنڈیشن نے اس سکول کو فاٹا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے حوالے کیا اور اب بھی یہ محکمہ ایجوکیشن مہمند اور فاٹا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر انتظام چل رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں پر پانچویں جماعت تک بچے پڑھ رہے ہیں، جن میں 33 طالبات اور50 طلبہ ہیں۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’سکول میں بچوں کے بیٹھنے کے لیے کمروں اور واش رومز جبکہ سکول میں پانی اور ٹاٹ کا بھی بندوبست کیا جائے۔‘

عبد الباسط کے مطابق: ’اگر سکول میں کمرے اور واش روم وغیرہ بن گئے تو سکول میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور دیگر بچے بھی سکول آنا شروع ہوجائیں گے۔‘

پنڈیالی کے رہائشی جلات شاہ کا کہنا ہے کہ ’سکول میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے جبکہ دوسرے سکول دور ہیں، اس لیے علاقے کے بچے تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس