تھانہ تشدد کلچر: آپ کو کیا جاننے کی ضرورت ہے؟

گرفتاری وارنٹ تحریری حالت میں ہوتا ہے۔ اور اس پر پریزائڈنگ افسر یا عدالت کے بینچ کے کسی بھی ممبر کا دستخط ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر عدالت کی ایک مہر بھی لگی ہوتی ہے۔ گرفتاری دینے سے پہلے ایک  شہری کا حق ہے کہ وہ پولیس سے  گرفتاری وارنٹ دکھانے کا مطالبہ کرے۔

 پولیس کی حراست میں ملزم یا مجرم پر کسی قسم کا تشدد کرنا منع ہے۔ کیونکہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہوتا ہے۔(سوشل میڈیا)

ضلع رحیم یار خان واقعے کے حوالے  سے پنجاب پولیس کی کارکردگی پر  تنقید اور بحث مباحثے ابھی جاری تھے کہ دو روز قبل  پشاور  میں بھی یونیورسٹی ٹاؤن پولیس سٹیشن   کی حراست میں ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی ۔ جس کے بعد   تھانہ تشدد کلچر کے خلاف مزید آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ پشاور واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ٹاؤن پولیس سٹیشن کے  حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ  انھوں نے  نوجوان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا ہے۔ بلکہ وہ خود اپنی طبعی موت مرا ہے۔

انھوں نے مزید  بتایا کہ یہ نوجوان ہیروئین کے نشے کا شکار تھا جس پر ایک نجی ہاسٹل کے طالب علم نے 25 ہزار روپے اور ایک موبائل چوری کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اسے حوالات میں بند کرنے کے بعد اگلی صبح دیگر قیدیوں نے دیکھا کہ اس کے منہ سے جھاگ بہہ رہی تھی اور بعد میں معلوم ہوا کہ دراصل اس کی موت واقع ہو چکی ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز ظہور آفریدی نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد مجسٹریٹ کو آگاہ کر دیا گیا۔  لہذا وہ خود اس واقعے کی انکوائری کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک صاف شفاف انکوائری ہوتی ہے جس میں عینی شاہدین ، قیدیوں اور پولیس سے پوچھ گچھ ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب  پنجاب پولیس کی حراست میں وفات پا جانے والے صلاح الدین کے واقعے کے بعد تھانوں کے نظام پر نظرثانی کے حوالے سے ملکی سطح پر کئی اہم میٹنگز ہو رہی ہیں۔  ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس انوسٹی گیشن  آفس نے لاہور کے تمام تھانوں کو پولیس حراست میں ہلاکت اور فرار جیسے معاملات سے متعلق اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

1- کسی بھی ملزم کے خلاف ثبوت و شواہد اکٹھے کرنے کے بعد اسے گرفتار کیا جائے اور ریمانڈ حاصل کرکے ریکوری کرنی چاہیے۔ ریکوری کے فوراً بعد  اسے حوالات جوڈیشل دی جائے، بلاوجہ ریمانڈ گزاری نہ کی جائے۔

2- نامزد ملزم کے علاوہ اس کے خاندان کے کسی اور فرد کو حراست میں نہ لیا جائے۔

3- جس ملزم کو بھی حراست میں لیا جائے اس کا حراست سے قبل اور دوران حراست طبی معائنہ لازمی کروایا جائے۔

4- ایس پی ڈویژن اور ایس ڈی پی او سرکل روزانہ کی بنیاد پر تھانے کی صفائی ستھرائی اور مناسب ہوا اور روشنی کا معائنہ کریں گے۔

5- ڈکیتی کے مقدمات کی صورت میں مدعی کے بیان کی بجائے شناخت پریڈ کا مروجہ طریقہ ہی قابل قبول ہوگا۔

عوام کو کیا جاننا چاہیے؟

پشاور ہائی کورٹ کے وکیل مطیع اللہ مروت نے پاکستان کے تھانوں میں تشدد کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ آئین کی رو سے ملزم پر کسی قسم کا تشدد منع ہے لیکن اس کے باوجود تھانوں میں بے انتہا تشدد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے پاکستانی ضابطہ فوجداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو گرفتاری سے متعلق کم از کم بنیادی معلومات ہونی چاہئیں۔ پاکستان کے ضابطہ فوجداری کے مطابق جب بھی پولیس کو کسی گھر کی تلاشی لینا مقصود ہوتا ہے یا کسی شخص کو گرفتار کرنا ہو تو عدالت سے  اجازت نامہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اسے گرفتاری وارنٹ بھی کہتے ہیں ۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تمام قسم کے جرائم قابل وارنٹ نہیں ہوتے۔ جیسے کہ ڈکیتی، قتل، فرار، یا اس طرح کے اور جرائم جن کے بارے پولیس کو یقینی اطلاع ہوتی ہے۔

گرفتاری وارنٹ تحریری حالت میں ہوتا ہے۔ اور اس پر پریزائڈنگ افسر یا عدالت کے بینچ کے کسی بھی ممبر کا دستخط ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر عدالت کی ایک مہر بھی لگی ہوتی ہے۔ گرفتاری دینے سے پہلے ایک  شہری کا حق ہے کہ وہ پولیس سے  گرفتاری وارنٹ دکھانے کا مطالبہ کرے۔ خاص کر اگر گرفتاری کے حوالے سے کسی قسم کا شبہ ہو۔ 

گرفتاری کے بعد ملزم کا ذاتی سامان اس کے اہل خانہ کو دے دیا جاتا ہے یا پھر پولیس اپنے پاس رکھ کر بعد میں دے دیتی ہے۔ گرفتاری کے بعد یہ ایک شہری کا حق ہوتا ہے کہ اس کے اہل خانہ یا جس کو بھی وہ مطلع کرنا چاہتا ہے ان کو مطلع کر دے۔ اس کا انتظام خود پولیس کرتی ہے۔

 پولیس کی حراست میں ملزم یا مجرم پر کسی قسم کا تشدد کرنا منع ہے۔ کیونکہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہوتا ہے۔ جسمانی ریمانڈ کا مطلب صرف اور صرف ملزم سے پوچھ گچھ ہوتی ہے۔ یہ ایک فزیکل موجودگی ہوتی ہے ۔ لہذا متعلقہ معلومات حاصل کرنے کے لیے ملزم پر کسی قسم کا ذہنی یا جسمانی  تشدد آئین کی رو سے منع ہے۔ جسمانی ریمانڈ سے پہلے اور اس کے بعد کی میڈیکل رپورٹ بننا اہم اور لازمی ہے۔

سی آر پی سی ( کوڈ آف کریمینل پروسیجرز)  کے سیکشن 61 کے مطابق پولیس سٹیشن کے پاس ملزم کو  24 گھنٹے تک رکھنے کا اختیار ہے۔ اس کے بعد  ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

مجسٹریٹ کے پاس سی ار پی سی کے سیکشن 167 کے تحت یہ اختیار ہے کہ ملزم کو مزید 15 دن کے لیے تھانے میں رکھے یا پھر جیل بھجوا دے۔ کسی نابالغ کو  اگر کسی ایسے جرم میں گرفتار کر لیا جائے جس کی سزا دس سال سے کم ہو اور بچے کی عمر 13 سے کم ہو۔ تو اس کی ضمانت  ہو سکتی ہے۔ بالفرض ایسا جرم ہو جس کی سزا دس سال سے زیادہ ہے تو ایسے بچے کو چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے کیا جاتا ہے۔ جس کی اطلاع اس کے سرپرست کو دی جانا لازمی ہوتی ہے۔

اگر کسی خاتون کو کسی  ناقابل ضمانت جرم میں گرفتار کر لیا جائے تو اس دوران وہ ویمن سنٹر میں خواتین کی حراست میں ہوں گی۔ خواتین کو سورج نکلنے کے بعد اور غروب ہونے سے پہلے  جیل بھجوایا جائے گا۔ یعنی ان کو اندھیرے میں جیل بھجوانا منع ہے۔ خواتین کی تلاشی صرف خواتین ہی لے سکتی ہیں۔ تاہم تلاشی تہذیب کے دائرے میں کی جائے گی۔

ہر وہ شہری جسے بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا گیا ہو اور جس پر کسی ناقابل ضمانت جرم میں گرفتار نہ کیا ہو اس کی ضمانت ہو سکتی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان