قومی اسمبلی: کون سے بڑے نام سیٹ بچا سکے، کون سے برج الٹ گئے؟

یوں تو ماضی کے الیکشنوں میں بڑے سیاست دان ہارتے آئے ہیں لیکن اس مرتبہ یہ تعداد کافی زیادہ رہی۔

نو فروری، 2024 کو لاہور میں پاکستان کے قومی انتخابات کے ایک دن بعد لوگ ٹیلی ویژن پر تازہ ترین انتخابی نتائج براہ راست دیکھ رہے ہیں(اے ایف پی)

پاکستان میں آٹھ فروری، 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی زیادہ تر نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

ان غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ملکی سیاست میں کئی بڑے سیاست دان اپنی نشستیں جیت گئے جبکہ بعض ہار کر میدان سے باہر ہو چکے۔

کچھ پارٹی سربراہان نے دو یا دو سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستوں پر حصہ لیا لیکن سب پر کامیاب نہیں ہو سکے۔

ان عام انتخابات میں بڑے ناموں کو زیادہ تر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں سے شکست ہوئی۔

کئی حلقوں میں نئے اور گمنام امیدوار نامور امیدواروں کو چت کر گئے۔

پارٹی سربراہان جنہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا

سب سے بڑا اپ سیٹ مانسہرہ سے قومی اسمبلی کی نشست 15 پر ہوا، جہاں مسلم لیگ ن کے قائد اور تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہزادہ گشتاسپ خان کے ہاتھوں 25 ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی۔

تاہم وہ لاہور میں اپنے آبائی حلقے این اے 130سے پی ٹی آئی کی امیدوار یاسمین راشد کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے۔

دوسرا بڑا سرپرائز جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کی آبائی نشست این اے 44 پر شکست کی صورت میں سامنے آیا۔

انہیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار علی امین گنڈا پور کے ہاتھوں بڑی ہار ہوئی تاہم وہ بلوچستان کے علاقے پشین سے اپنی دوسری نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو لاہور کے حلقہ این اے 127میں مسلم لیگ ن کے امیدوار عطااللہ تارڑ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

تاہم وہ بھی سندھ سے قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اپنی آبائی نشست این اے 6 لوئر دیرسے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار بشیر خان سے بڑی لیڈ کے ساتھ شکست کا کھا کر میدان سے باہر ہو گئے۔

استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین ملتان اور لودھراں میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 149اور این اے 155 سے ہار گئے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد راولپنڈی این اے 56 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار حنیف عباسی سے ہار گئے۔

شمالی وزیرستان سے قومی اسمبلی کی نشست 42 سے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ محسن داوڑ نے ایکس پر بتایا کہ انہیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار اقبال وزیر کے مقابلے میں شکست ہوئی مگر ابھی تک اس نشست کا الیکشن کمیشن نے نتیجہ جاری نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی بھی راولپنڈی کی نشست این اے50  سے ہار گئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان این اے 25 سے ہار گئے۔

سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم شہباز شریف، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی ، مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق اپنی نشستیں بچانے میں کامیاب رہے۔

بڑے برج الٹ گئے

ان انتخابات میں کئی حلقوں میں ناقابل یقین بڑے امیدوار بھی ہارے ہیں۔

فیصل آباد سے ن لیگ پنجاب کے صدر سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللّٰہ، لاہور سے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، روحیل اصغر، شیخوپورہ سے جاوید لطیف، گجرانوالہ سے خرم دستگیر، خیبر پختونخوا سے اے این پی کے امیر حیدر ہوتی، غلام احمد بلور، سابق وزیر اعلی کے پی محمود خان، راولپنڈی سے غلام سرور خان، چوہدری نثار علی خان، ملتان سے شاہ محمود قریشی کی صاحب زادی مہر بانو کو حالیہ الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

 

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست