پشاور زلمی کو تمام براعظموں تک پھیلانے کا ارادہ

اگرچہ پشاور زلمی کے شائقین اس سال بھی ٹیم کو اپنے ہوم گراونڈ میں کھیلتے نہیں دیکھ پائیں گے لیکن اس سے ان کے اس سے مبحت میں فرق نہیں آئے گا۔

پشاور زلمی کی بیٹنگ کو بابر اعظم کے آنے سے بہت تقویت ملی، تاہم بولنگ اس ٹیم کا کمزور شعبہ رہی (اے ایف پی)

پشاور زلمی صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی) سے لاکھوں شائقین کی توقعات کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے جن کے لیے کرکٹ، شناخت، فخر اور خوشی کا ذریعہ بن گئی ہے۔

پشتو لفظ زلمی کا مطلب ہے نوجوان، جو خطے کی بھرپور ثقافت میں ایک گہرے معنی رکھتا ہے۔ یہ ان کے لوگو میں بھی شامل ہے، پگڑی ایک اہم علامت کے طور پر اونچی نظر آتی ہے۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرینچائز کے مالک جاوید آفریدی کی سوچ واضح تھی جس کا مقصد پاکستان کے عوام بالخصوص صوبہ خیبرپختونخوا میں خوشیاں واپس لانا ہے۔

جاوید آفریدی کہتے ہیں ’کرکٹ ٹیم کا مالک ہونا، خاص طور پر پشاور زلمی، میرے لیے ایک کاروباری منصوبے کے دائرے سے بالاتر ہے۔ میرے لیے اہم بات کھیل کے لیے غیر متزلزل محبت اور مخلصانہ کوشش اور تڑپ تھی۔‘

پشاور زلمی نے اپنے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے سفر کا آغاز اس وقت شاندار انداز میں کیا جب شاہد آفریدی کی قیادت میں ٹیم 2016 میں کھیلے گئے افتتاحی سیزن کے پلے آف میں پہنچی۔

ڈیرن سیمی ویسٹ انڈین کپتان اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ چیمپئن اس وقت زلمی کا حصہ تھے۔ اس کے بعد سے ڈیرن سیمی پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے پشاور زلمی کے جوش سے مطابقت رکھتے ہوئے فرنچائز سے مضبوطی کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔

لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل زلمی نے جیتا جو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ انجری کی وجہ سے شاہد آفریدی کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ڈیرن سیمی نے پشاور کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف 58 رنز سے فتح دلائی۔

یہ ٹائٹل صرف پشاور زلمی کی فتح نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسی فتح کے طور پر سامنے آئی جس کی گونج پورے پشاور شہر اور اس  کی گلیوں اور وہاں کے لوگوں کے دلوں میں سنائی دے رہی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جاوید آفریدی کا کہنا ہے کہ ’پشاور، بہت سے خطوں کی طرح  چیلنجوں کا سامنا کر رہا تھا جس میں اس کے رہائشیوں کے لیے تفریحی مواقعوں کی نمایاں کمی تھی۔ گھر میں ٹائٹل لانے کی اہمیت محض کرکٹ کی کامیابی کے دائرے سے بڑھ گئی۔ یہ ایک متحد کرنے والی قوت بن گئی جو پوری پشتون کمیونٹی اور اس سے باہر گونج اٹھی۔

’گلوبل زلمی، ہمارا اہم اقدام ہے۔ دنیا بھر میں 32 رجسٹرڈ کرکٹ کلبوں کے ساتھ  کرکٹ کی عالمی ترقی کے لیے ہمارے عزم کا یہ متحرک اظہار ہماری لگن کا ثبوت ہے۔ مستقبل کے منصوبے کے طور پر ہم اس نیٹ ورک کو تمام براعظموں تک پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

اس کے بعد کے سیزن میں، زلمی کی شاندار فارم جاری رہی اور انہیں مسلسل دوسرے فائنل میں پہنچایا۔ ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف رنر اپ کے طور پر ختم ہوئی، جس نے اپنا دوسرا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

2019 میں پشاور زلمی نے مسلسل تیسرا فائنل کھیلا۔ اس بار کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے اسے شکست ہوئی۔

زلمی، لیگ کے پانچویں ایڈیشن میں جو 2020 میں کھیلا گیا اور کوویڈ 19 سے متاثر ہوا چوتھے نمبر پر رہی۔ اگلے سال میں انہوں نے واپسی کی اور اپنے چوتھے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا حالانکہ آخر میں ملتان سلطانز نے ٹائٹل اپنے نام کیا۔

پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن میں ڈیرن سیمی کے ہیڈ کوچ کی حیثیت میں ایک مختلف پشاور زلمی ابھر کر سامنے آئی۔ ٹورنامنٹ میں چھ فتوحات کے ساتھ ٹیم تیسری پوزیشن پر آگئی۔

 اگلے سال بابر اعظم  کی موجودگی میں  پشاور زلمی نے  پلے آف میں جگہ بنائی جہاں وہ دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز سے ہاری۔

پی ایس ایل کے گذشتہ آٹھ ایڈیشنز میں پشاور زلمی کا ریکارڈ متاثر کن ہے کیونکہ وہ چار فائنلز میں حصہ لے چکی ہے اور کم از کم ہر دوسرے موقع پر پلے آف تک پہنچی ہے۔

 آنے والے سیزنوں میں بھی وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے، ساتھ ہی وہ ایک دن اپنے ہوم ٹرف پر کھیلنے کے بھی منتظر ہیں۔

جاوید آفریدی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ذہن میں یہی بات ہے کہ ٹائٹل حاصل کرنا جاری رکھیں، نہ صرف ہماری کرکٹ کی مہارت کے ثبوت کے طور پر بلکہ پشاور کے لوگوں سے ایک وعدے کے طور پر جو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایکشن میں دیکھنے کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ