پاکستان میں نئی حکومت کی تشکیل کیسے ہوتی ہے؟

قانون کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس انتخابات کے تین ہفتے کے اندر صدر کی طرف سے بلایا جانا ضروری ہے اور 336 کے ایوان میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 169 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

نو اگست، 2023 کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے آخری اجلاس میں شرکت کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کی واپسی (عامر قریشی/ اے ایف پی)

پاکستان میں گذشتہ ہفتے ہونے والے عام انتخابات کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق بظاہر ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی کیوں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو قومی اسمبلی میں اتنی نشستیں نہیں ملیں کہ وہ اپنی حکومت تشکیل کر سکے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ن کو الیکشن میں 75 نشستیں ملی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نشستوں کی تعداد 54 ہے۔ دونوں جماعتیں مخلوط حکومت بنانے کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔

جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ 93 نشستیں حاصل کیں۔ وہ بھی حکومت سازی کے لیے اتحاد بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

اسمبلی کی کل 336 نشستوں میں سے 264 نشستوں پر براہ راست انتخابات کے لیے امیدوار میدان میں تھے، اس کے علاوہ 70 مخصوص نشستیں بھی ہیں۔

آنے والے دنوں میں جب نئی حکومت بنانے کی کوششیں کی جائیں گی تو ایوان کے اندر ممکنہ صورت حال کیسے سامنے آ سکتی ہے؟

قانون کے مطابق قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کا اجلاس انتخابات کے تین ہفتے کے بعد صدر کی طرف سے بلایا جانا ضروری ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس عام طور پر پہلے ہی بلا لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد ایوان کا نیا سپیکر منتخب کیا جاتا ہے جس کے بعد قائد ایوان، یا وزیر اعظم کا انتخاب ہوتا ہے جس کے لیے سادہ اکثریت ضروری ہے یعنی 336 میں سے 169 نشستیں.

وزیر اعظم کے لیے کئی امیدوار ہو سکتے ہیں۔ اگر پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار اکثریت حاصل نہیں کرتا ہے تو دوسری بار ان دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا جنہوں نے پہلی مرتبہ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوتے ہیں۔ ووٹنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی امیدوار اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوجاتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد حلف اٹھاتا ہے اور اپنی کابینہ کا اعلان کرتا ہے۔ نگران سیٹ اپ جو انتخابات کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا وہ نئی حکومت کو اقتدار سونپ دیتا ہے۔

جیتنے والی نشستوں کی تعداد کے تناسب سے پارٹیوں کے لیے 70 نشستیں مختص کی گئی ہیں جن میں خواتین کی 60 اور غیر مسلموں کی 10 نشستیں شامل ہیں۔ آزاد امیدوار مخصوص نشستوں کے اہل نہیں ہیں۔

اگر آزاد امیدوار مخصوص نشستیں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بلاک بنانے کے لیے کسی دوسری پارٹی میں شامل ہونا ہوگا۔

آزاد امیدوار اس وجہ سے ایسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں کیوں کہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر بطور پارٹی الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا تھا۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان