ٹرمپ کے مواخذے کا اعلان: ’یہ صدر کو ہراساں کرنے کا عمل ہے‘

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے حوالے سے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے لیے بہت برا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرائن کے صدر کو متنازع ٹیلی فون کرکے حد پار کرلی ہے۔ (تصویر: اے ایف پی)

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان امریکی صدر کے لیے اب تک کا سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے یقینی ہو گیا ہے کہ 2020 کے صدارتی الیکشن میں یہ معاملہ چھایا رہے گا۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان کئی ماہ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ ایک ایسے شخص کا محاسبہ کیا جائے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کئی بار اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا۔

سپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرائن کے صدر کو متنازع ٹیلی فون کرکے حد پار کرلی ہے۔

کیپیٹل ہل میں نینسی پیلوسی نے کہا: ’صدر کا محاسبہ ضروری ہے۔ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اس لیے آج میں اعلان کر رہی ہوں کہ ایوان نمائندگان صدر کے مواخذے کی کارروائی کا آغاز کر رہا ہے۔‘

امریکی تاریخ میں عہدے پر برقرار چوتھے صدر کے باضابطہ مواخذے کے لیے سماعتوں کا آغاز کرکے نینسی پیلوسی بڑا خطرہ مول رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ بڑے عرصے سے اس طرح کے اقدام کے معاملے میں خوف کا شکار تھیں کیونکہ اس سے تلخی اور بدنظمی کے راستے پر آگے بڑھنے والی صدارتی انتخابی مہم سے پہلے صدر کے حامی مضبوط ہو سکتے ہیں۔ نینسی پیلوسی کو یہ بھی معلوم ہے کہ جب 1998 میں ری پبلکن پارٹی کے ارکان نے ایوان میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا مواخذہ کیا تھا تو اس کے بعد سینیٹ میں مواخذے کی حمایت نہیں کی گئی تھی۔ بہت سے سینیئر ری پبلکن ارکان کو اگلی مرتبہ ووٹروں کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اشارہ بڑا واضح ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کی تحریک کا کس طرح مقابلہ کریں گے۔ یہ اشارہ خود صدر کی جانب سے کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے کئی ٹوئٹر پیغامات کے ذریعے کیا۔ انہوں نے دن کے وقت نیویارک میں اقوام کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کیا تھا۔

امریکی صدر نے لکھا :’اقوام متحدہ میں اتنے اہم دن کے موقع پر جب اتنا کام اور کامیابی ہے، ڈیموکریٹس نے اپنے مخالف کے حوالے سے بڑی خبروں کا مزید اہتمام کرکے ایک مقصد کے تحت صورت حال کو خراب اور اسے غیر اہم بنانے کی کوشش کی۔ یہ ملک کے لیے بہت برا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں لکھا: ’انہوں نے میری ٹیلی فون کال کا مسودہ نہیں دیکھا۔ ڈیموکریٹس کا اقدام مکمل طور سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ صدر کو ہراساں کرنے کا عمل ہے۔‘

تکنیکی اعتبار سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ پہلے سے جاری ہے۔ ایوان نمائندہ کی عدالتی کمیٹی کے چیئرمین جیری نیڈلر نے گذشتہ ماہ کئی قانونی تحاریک پیش کی تھیں، جن میں 2016 کے امریکی صدارتی الیکشن میں روسی مداخلت سے متعلق خصوصی وکیل رابرٹ ملر کی انکوائری رپورٹ سے وہ شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا جنہیں خصوصی تحفظ حاصل ہے۔

نینسی پیلوسی کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر کے خلاف جاری تحقیقات کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ یہ تحقیقات واشنگٹن میں سب سے زیادہ طاقتور خاتون کے نام پر جا رہی ہے۔ ایوان نمائندگان کی سپیکر نے ڈیموکریٹ پارٹی  کے ارکان کو بتایا ہے کہ اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف چھ کمیٹیاں تحقیقات کر رہی ہیں جنہیں ڈیموکریٹس کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ تحقیقات مواخذے کی چھتری کے نیچے ہونی چاہییں۔

رپورٹروں کا کہنا ہے کہ چھ مختلف کمیٹیاں صدر ٹرمپ کے رویے کی بدترین مثالیں تلاش کرکے ان کا جائزہ لیں گی۔ ڈیموکریٹ ارکان فیصلہ کریں گے کہ آیا صدر پر عدم اعتماد میں پیش رفت کے لیے کافی شواہد موجود ہیں یا نہیں جس کے لیے پہلے ایوان نمائندگان کی عدالتی کمیٹی اور اس کے بعد پورا ایوان آگے بڑھے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ نینسی پیلوسی کی جانب سے مواخذے کے اعلان سے صدر ٹرمپ کو حیرت ہوئی ہے۔ وہ منگل کی صبح اقوام متحدہ میں 25 جولائی کو یوکرائن کے صدر ولودومیرزیلینسکی کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی اپنی گفتگو کا دفاع کرتے رہے۔ انہوں نے یوکرائن کے صدر پر زور دیا تھا کہ وہ سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما جوبائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کریں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا مسودہ جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں یہ تصدیق بھی کی تھی کہ انہوں نے یوکرائن کے لیے چار کروڑ ڈالر کی امریکی امداد روک لی ہے لیکن اس بات سے انکار کردیا کہ انہوں نے یہ امداد زیلینسکی کو وہ تحقیقات شروع کرنے کے لیے دباؤ کی خاطر روکی جس سے سابق امریکی صدرجوبائیڈن کو نقصان پہنچے گا۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو رپورٹروں کو بتایا: ’ہم ایک ملک کی مدد کر رہے ہیں۔ ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ ملک دیانتدار ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’بدعنوانی کے بارے میں بات کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر آپ بدعنوانی کے بارے میں بات نہیں کرتے تو آپ ایک ایسے ملک کو رقم کیوں دیں گے جسے آپ بدعنوان سمجھتے ہیں۔‘

اس ماہ کے شروع میں ایک وارننگ کا انکشاف ہوا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وارننگ امریکی انٹیلی جنس سروس کے ایک رکن کی تھی جس میں صدر کی ٹیلی فون کال کا مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد امریکی صدر مشکل میں آ گئے تھے۔

منگل کو ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے کہا تھا کہ وہ سرکاری عہدیدار جنہوں نے صدر کی ٹیلی فون کال کی شکایت کی تھی، انہوں نے ڈائریکٹرآف نیشنل انٹیلی جنس جوزف میگوائر سے رابطہ کیا ہے۔

شیف نے ٹویٹ کی: ’ہمیں انٹیلی جنس عہدیدار کے وکیل نے بتایا ہے کہ ان کے مؤکل ہماری کمیٹی میں آ کر بات کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے ایسا کرنے کے لیے ڈائریکٹرآف نیشنل انٹیلی جنس سے رہنمائی کی درخواست کی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم وکیل سے رابطے میں ہیں اور معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم جلد سے جلد اس ہفتے انٹیلی جنس عہدیدار کی شہادت ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ