جپسی عورتوں کی پُراسرار زندگی

یورپ میں مقیم جپسی قبائل کو عام طور پر یورپی کلچر سے باہر سمجھا جاتا ہے۔ علم بشریات کے ماہرین کے لیے ان لوگوں کی تاریخ، کلچر اور روزمرہ کی زندگی ایک انتہائی دلچسپ تحقیقی موضوع ہے۔

سپین کی دو جپسی خواتین، فرانسسکو اتیرینو کی پینٹنگ (پبلک ڈومین)

علم بشریات کے ماہرین کے لیے جپسی لوگوں کی تاریخ، کلچر اور روزمرہ کی زندگی ایک انتہائی دلچسپ تحقیقی موضوع ہے۔

 اب اس بات پر مورّخین اتفاق کرتے ہیں کہ جپسی لوگ برصغیر ہندوستان سے گئے تھےاس لیے ان کا تعلق انڈویورپین سلسلے سے ہے۔ لیکن بعد میں انہوں نے خود کو مصر سے تعلق رکھنے والا بتایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مصری تہذیب سے اپنا رشتہ جوڑ کر اپنی اہمیت بڑھانا چاہتے تھے۔

 چونکہ ان کی اپنی کوئی تحریری تاریخ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو خود بھی اپنے ماضی کے بارے میں زیادہ معلومات ہیں۔ اس لیے یہ سوال اہمیت کا حامل رہا ہے کہ آخر کن حالات میں انہوں نے ہجرت کی تھی اور کیوں خانہ بدوشوں کی زندگی اختیار کی تھی۔

خانہ بدوش ہونے کی وجہ سے یہ لوگ نہ تو کہیں مستقل قیام کرتے ہیں نہ بستیاں بساتے ہیں نہ جائیداد رکھتے ہیں اور نہ دولت جمع کرتے ہیں۔ جگہ جگہ آنے جانے کی وجہ سے یہ کئی زبانیں بولتے تھے۔ لیکن اُن کی اپنی زبان ’روما‘ کہلاتی ہے جس میں ہندوستانی زبانوں کے بہت سے الفاظ شامل ہیں۔

یہ اپنے ہی لوگوں میں شادی بیاہ کرتے ہیں۔ دوسرے لوگوں سے بہت کم تعلقات رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے اقلیت میں ہونے کے باوجود ان کی اپنی شناخت ہے جسے وہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بستیوں سے دور رہنے کی وجہ سے ان کا ملنا جلنا دوسروں سے کم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے عام لوگوں میں ان کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں اور تصورات پیدا ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنی رنگت، عجیب و غریب پوشاک اور کانوں میں بالیوں کی وجہ سے یہ علیحدہ نظر آتے ہیں۔ ان کی عورتوں کے لباس کے بارے میں ہمیں اُن کی پینٹنگز سے پتہ چلتا ہے جو کچھ مصوروں نے پینٹ کی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں یہ مشرقی یورپ کے ملکوں میں آئے یہاں سے یہ بازنطینی سلطنت میں گئے لیکن جب یہ سلطنت ترکوں کے ہاتھوں 1453 میں فتح ہوئی تو یہ یورپی ملکوں میں پھیل گئے۔

اگرچہ یہ پُرامن لوگ تھے لیکن اپنی شکل و صورت اور رنگت کی وجہ سے ان کے ساتھ تعصب کا رویہ رکھا گیا۔ جیسا کہ جرمن عالم البرٹ کرانٹس نے 1520 میں ان کے بارے میں لکھا کہ ’وہ کالے رنگ کے ہوتے تھے۔ عجیب و غریب لباس پہنتے تھے۔ کئی زبانیں بولتے تھے۔ جانوروں کی سی زندگی گزارتے تھے۔ عورتیں بچوں کے ساتھ ویگنوں میں سفر کرتی تھیں جنہیں جسمانی طور پر مضبوط جانور گھسیٹتے تھے۔ مرد زیادہ تر پیدل سفر کرتے تھے۔ شادی وغیرہ کا رواج تھا جو وہ آپس میں کرتے تھے۔‘

چونکہ یہ ملازمت نہیں کرتے تھے اور خود کو تمام پابندیوں سے آزاد رکھنا چاہتے تھے اس لیے اپنی گزر اوقات کے لیے کھیل تماشہ کرتے تھے، قسمت کا حال بتاتے تھے، لوہے کے اوزار اور ہتھیار بناتے تھے۔ ان کی عورتیں دھاگہ تیار کرکے کپڑا بُنتی تھیں۔ کڑھائی کا کام کرتی تھیں اور روزمرہ زندگی کے کاموں میں مردوں کی مدد کرتی تھیں۔ پڑھائی لکھائی سے دور رہتے تھے اور اپنے بچوں کو بھی تعلیم سے دور رکھتے تھے۔

جپسی خاندانوں میں جب لڑکیاں 15 یا 16 سال کی ہو جاتیں تو اُن کی شادی کر دی جاتی تھی۔ خواتین تعصب، غربت اور صحت کے مسائل کا شکار رہتیں ہیں۔ گھر کی صفائی اور دیگر امور خانہ داری میں ماہر ہو جاتی تھیں اور یہی اُن کی بنیادی تعلیم و تربیت ہوتی۔

روما عورت کو بچپن ہی سے محنت کرنا پڑتی تھی۔ لیکن جب کسی عورت کو حمل ٹھہر جاتا تو اُسے گھریلو کام کاج سے فراغت دے دی جاتی تھی کیونکہ بچے کی پیدائش کو ایک مقدس ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ کثیر اولاد ہونا معیوب نہیں تھا کیونکہ مانع حمل دوائیاں اور طریقے روما کے ہاں ممنوع قرار پائے تھے۔

 اپنے کلچر اور خاندان سے باہر شادی کم ہی ہوتی ہے۔ اپنے خاندان یا کمیونٹی سے باہر شادی کے خواہش مند کم ہی ہوتے۔ غیر خاندان کا وہ مرد جو روما خاندان میں شادی کرواتا ہے اس کے لیے ایک علیحدہ لفظ گورگر استعمال ہوتا ہے۔

لڑکی کا کنوارا ہونا ضروری ہے۔ کنواری لڑکیوں میں ہی شادی کی جاتی ہے۔ اگر غیرکنواری لڑکیوں سے شادی ہو تو اُس کو معیوب سمجھا جاتا۔ دوسری شادی کو بھی معیوب سمجھا جاتا اس لیے روما خاندان میں لڑکیاں صرف ایک بار شادی کرتی ہیں۔

روما کلچر میں والدین کو بہت عزت دی جاتی ہے۔ اس لیے اُن کی بہت طاقت ہوتی ہے۔ عمومی طور پر والدین ہی اپنی بیٹی کا رشتہ ڈھونڈتے اور طے کرتے ہیں۔ شوہر بھی روما لڑکی کے لیے ایک دیوتا کا درجہ رکھتا ہے جس کی ہر بات ماننا بیوی کے لیے فرض سمجھا جاتا ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ روما کا آپس میں جھگڑا نپٹانے کے لیے کبھی پولیس کو نہیں بلایا جاتا بلکہ آپس میں بات چیت بحث و مباحثے کے بعد فریقین خود ہی وہ مسئلہ حل کر لیتے ہیں۔ شوہر کی بدسلوکی اور زیادتی کو تحمل سے برداشت کیے جانا احسن سمجھا جاتا ہے۔ یہ روما روایت کا حصہ ہے۔ گھر کی صفائی ستھرائی اور اپنے جسم کی صفائی رکھنا بھی عورت کی اہم ذمہ داری ہے۔ روما لڑکیوں کے کپڑے ہمیشہ رنگ دار ہی ہوتے ہیں تاکہ ہونے والے شوہروں کو وہ اچھی لگیں اور شادی کے دیگر معاملات اچھے طریقے سے طے ہو جائیں۔

شادی شدہ عورتوں کو مکان کی بالائی منزل پر رہنے کی اجازت نہیں وہاں صرف مرد اور بچے رہ سکتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں کے مہمان علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ مردوں کے ساتھ مرد اور عورتوں کے ساتھ عورتیں بیٹھتی ہیں۔ روما خواتین زیورات سے بہت محبت کرتی ہیں۔ عورتیں کانوں میں بالیاں پہنتی ہیں جبکہ مردوں کو یہ اجازت نہیں۔

 روما کلچر میں کنواری لڑکیاں سکرٹ نہیں پہن سکتیں جبکہ شادی شدہ لڑکیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوتی ہیں۔ بسوں میں سفر کے دوران مرد اور خواتین علیحدہ علیحدہ دروازے استعمال کرتے ہیں۔ روما عورتیں شادی کے بندھن کا احترام کرتی ہیں۔ زیادتی کی شکل میں بھی مرد کوقبول کیا جاتا ہے کیونکہ یہ روما روایت کا حصہ ہے۔ روما خاندان اپنے والدین کا احترام کرتے ہیں لیکن شادی کے بعد اپنے شوہروں کی اطاعت روما روایت کا ایک اہم جُز ہے۔

 یہ درست ہے کہ بچپن سے ہی لڑکی کو برداشت اور مرد کی حاکمیت کا سبق دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شادی کے بعد وہ اپنے خاوند کو خاندان کے لیڈر کے طور پر دیکھتی ہے جس کی وجہ سے بہت کم خاندانی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور روما جوڑے ایک کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔ صداقت اور صفائی پسندی روما کی خاص اقدار ہیں۔ خواتین کا بنیادی فرض بچوں کی نگہداشت اور تربیت ہے۔ اس لیے روما خواتین نوکری نہیں کرتیں۔

روما کلچر کے خلاف دوسری تمام قوموں نے ایسا تاثر قائم کر رکھا ہے کہ جیسے وہ ایک عدم تہذیب یافتہ کلچر ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ روما کلچر دراصل ایک تہذیب یافتہ کلچر ہے۔ جہاں عورت اپنے عمل برداشت سے اپنی عزت کراتی ہے اور اہمیت کی حامل ہے۔

جدید دور میں بھی جپسی لوگوں کے ساتھ تعصب کا برتا کیا گیا۔ مشرقی یورپ کے ملکوں نے انہیں مستقل آباد کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے آزاد رہنا پسند کیا۔ ہٹلر نے کمیونسٹوں اور یہودیوں کے ساتھ جپسیوں کو بھی گیس چیمبر میں مروایا۔ اس وقت یہ یورپ اور امریکہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور اس سرمایہ دارانہ دور میں ان کے بہت سے ارکان شہروں کی چکاچوند روشنیوں سے دور جنگلوں اور بیابانوں میں اپنا پڑاؤ ڈالتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں انہوں نے زندگی گزارنے کا ایک متبادل طریقہ پیش کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد سادہ زندگی گزار کر خوشی اور مسرت کے ساتھ زندہ رہا جائے۔ اس لیے ان کے ہاں نہ مذہبی فرقہ بندی ہے اور نہ ہی عورت کا استحصال ہے۔ اُسے باعزت اور احترام کا درجہ دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ