آئیے آپ کو جن نکالنے کا طریقہ بتائیں

جن نکالنا مشکل نہیں ہے، ہمارے بتائے ہوئے طریقے پر چلتے ہوئے آپ بھی کسی کا ’جن‘ کامیابی سے نکال سکتے ہیں۔

ہسٹریا کے مریضوں کی بڑی تعداد دیہات سے تعلق رکھتی ہے جہاں توہمات کی بھرمار ہوتی ہے۔ (تصویر: پکسا بے)

لڑکی کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، ہاتھ مڑ رہے تھے، جسم ہر ایک منٹ کے بعد بالکل ایسے ہی سخت ہو جاتا جیسے کپڑے نچوڑے جاتے ہیں۔

باپ کبھی خوف چھپانے کی اداکاری کرتے ہوئے اضطراب میں ڈوبے اہل خانہ کو حوصلہ دیتا تو کبھی سخت تکلیف میں مبتلا بیٹی کو بے بسی سے دیکھتا۔ ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی بجائے ایک انجانے خوف کی جھلک نمایاں تھی۔ لڑکی کی آواز کبھی بھاری ہو جاتی تو کبھی چیخوں سے آسمان سر پر اٹھا لیتی۔ ماں اور باپ بار بار دروازے کی جانب دیکھتے۔ اسی اثنا میں لڑکی کا چھوٹا بھائی بھاگتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔

’پیر صاحب آگئے ہیں!‘

’میرے پاس ایک ایسا منتر ہے جس سے میں اس جن کو جلا کر بھسم کر دوں گا۔‘ پیر صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہی با آوازِ بلند اعلان کیا۔

انہوں نے جیب سے کچھ جڑی بوٹیاں نکالیں۔ فرش پر پھینک کرماچس سے آگ لگائی اور پھر کاغذ کی بتّی بنا کر اسی آگ سے بتی کو قدرے سلگایا۔ جب دھواں اچھی طرح پھیلنے لگا تو لڑکی کے ناک کے قریب لے آگئے۔ نامعلوم منتر پڑھے۔ چلاتے ہوئے ’جن صاحب‘ کو لڑکی کے جسم سے نکل جانے کا حکم اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں دھمکیاں دیتے رہے۔

پھر کچھ منٹوں بعد لڑکی نے پانی مانگا اور یوں جن واک آؤٹ کر گیا۔

ایسے واقعات آپ تقریباً ہر گلی محلے میں سن یا دیکھ رکھے ہوں گے۔ بعض اوقات ’جن‘ فوری بھاگ جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پیر صاحب متاثرہ فرد پر تشدد کرتے ہیں، جس سے مریض زخمی ہو جاتا ہے یا بعض دفعہ موت کی وادی میں چلا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دنیا بھر میں اس مرض کو ہسٹریا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی ہسٹریا کی کئی اقسام مختلف مریضوں میں دیکھی گئی ہیں۔

ان کی علامات بعینہ وہی ہیں جو ہمارے ملک میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے ہم انہیں ’جن‘ کی کارستانی قرار دیتے ہیں جبکہ میڈیکل سائنس اسے نفسیاتی مسئلہ قرار دیتی ہے۔ تشنج یا ہسٹریا کے دوروں میں مریض کی قوت ارادی انتہائی کمزور پڑ جاتی ہے، دماغ پر گرفت نہیں رہتی، پراگندہ خیالات حاوی ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے جو منہ میں آئے مریض بولتا چلا جاتا ہے۔ جسم پر سوئیاں چبھتی محسوس ہوتی ہیں۔ بعض اوقات یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کانوں میں سیٹیاں بج رہی ہیں۔ اس دورے کی نوعیت سخت ہو تو کچھ ہوش نہیں رہتا۔

ہسٹریا کے مریضوں کی بڑی تعداد دیہات سے تعلق رکھتی ہے جہاں توہمات کی بھرمار ہوتی ہے۔

جن اور چڑیلوں پر یقین اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ ہر دسواں دیہاتی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے جن کو دیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس نوعیت کا کوئی مریض سامنے آتا ہے تو پراسرار حرکات کی وجہ سے فوراً اس بیماری کو جن کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ چونکہ مریض کا بھی جنوں چڑیلوں پر حد درجہ یقین ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی یہی سمجھتا ہے کہ اس کا مذکورہ دورہ جن کی مرہون منت ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن نکالنے کے لیے پیر صاحب، قاری صاحب یا مسجد کے امام ہی کیوں موثر ثابت ہوتے ہیں ؟

خاکسار نے جب اسی بنا پر تحقیق کی تو مختلف ڈاکٹر صاحبان کی آرا سامنے آئیں۔ ان کے مطابق ہسٹریا کے مریضوں کو ’اونچا بولنے کی مشق‘ کرتے ہوئے ٹھیک کیا جاتا ہے۔

میڈیکل سائنسز میں اس طریقہ علاج کو ’تحریک‘ یا Suggestion کہا جاتا ہے۔ اس طریقۂ علاج کے لیے بہت مغز کھپائی اور مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ اسی طریقہ علاج کو مد نظر رکھتے ہوئے بالخصوص مغربی ممالک میں ہر ڈیپارٹمنٹ میں ایک ماہر نفسیات ضرورتعینات کیا جاتا ہے جو ہسپتال میں داخل ہر قسم کے مریضوں کی قوت ارادی بہتر کرنے کے لیے بار بار مریض کا دماغ کھاتا رہتا ہے۔ مسلسل اسے تحریک کرتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گا یعنی قوتِ یقین بڑھانے کے لیے دن رات ایک کرتا ہے۔ اس طرح دوا کے ساتھ ساتھ اعتماد دینے سے مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔

 ایک ایسے ہی پاکستانی ڈاکٹر ایسے بہت سے مریضوں کو ٹھیک کر چکے ہیں جو ’جن‘ کی جارحیت کا نشانہ بن چکے تھے۔ ڈاکٹر کیپٹن اختر علی راز نے واقعات سناتے ہوئے بتایا کہ ان کا تبادلہ کسی گاؤں میں ہوا جہاں ہسٹریا کے مریض دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک لڑکی کو دورہ پڑا تو انہیں بلایا گیا۔

ڈاکٹر صاحب نے کمرے میں آتے ہی بلند آواز سے کہنا شروع کر دیا کہ اس جن کی ایسی کی تیسی۔ میرے پاس ایک دوا ہے جو امریکہ سے منگوائی ہے اسے کھاتے ہی جن بھاگ جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب Suggestion سے کام لیتے ہوئے اونچا اونچا بولتے چلے گئے، لڑکی کے کانوں میں آواز پڑتی چلی گئی، قوت یقین کچھ بہتر ہوئی اور آہستہ آہستہ دورہ کم ہوتا چلا گیا اور چند منٹوں میں ہی ٹھیک ہو گئی۔

اسی طرح ایک ایسے ہی لڑکے کو ان کے پاس لایا گیا جو تین روز سے کچھ نہیں کھا رہا تھا۔ آسمان کو تکتا رہتا، کبھی چیخیں مارتا تو کبھی اپنے آپ کو مارنا شروع کر دیتا۔ کہتا تھا مجھے ایک جن نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اسی طریقہ علاج سے کام لیتے ہوئے اونچی آواز میں کہا: ’کل ہی ایک انجیکشن ایجاد ہوا ہے جس سے جن کبھی واپس نہیں آتے!‘

ڈاکٹر صاحب مذکورہ بیان بازی کرتے رہے، لڑکا چند منٹوں میں ہی ٹھیک ہو گیا اور کھانا مانگا۔

اب سوال یہ ہے کہ عامل صاحبان کیوں ’عملیات‘ سے جن نکالتے ہیں؟ تو اس کا جواب انتہائی سادہ ہے۔

عامل بھی چیختے ہیں۔ مریض کا شعور جگاتے ہیں، مریض دورے کی حالت میں اس بلند آواز کو سنتا ہے، اپنے منتشر خیالات سمیٹنے کی جنگ لڑتا ہے، پیر صاحب کو مسیحا سمجھتا ہے اور ٹھیک ہو جاتا ہے۔ نا تجربہ کار عامل اس لیے ’جن‘ کے آگے ہار مان جاتے ہیں کیونکہ ان کے لہجے کی سختی، تحریک اور قوت ارادی بحال کرنے کی مشق نہیں ہوتی۔ اسی تذبذب میں عامل ایسے مریضوں کو ڈنڈے سے مارتے ہیں۔

غور طلب امر یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر بھی ہار جائے گا جو مناسب ’تحریک‘ پر گرفت نہیں کر پائے گا اور ایسے عامل کو بھی ایسی ہی ناکامی ملے گی۔

یاد رکھیں، نہ تو طبی میدان میں ہسٹریا کے دورے روکنے کا کوئی علاج ہے اور نہ ہی عامل کے پاس کوئی ایسے جڑی بوٹی یا کرامت ہے۔ مریض ٹھیک ہوتا ہے تو صرف تب، جب اسے کوئی یقین دلاتا ہے۔ اس کے منتشر خیالات کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس طریقے پر چلتے ہوئے آپ بھی کسی کا ’جن‘ نکال سکتے ہیں اور خاکسار ایسے دو کیسوں میں کامیاب رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ