زلزلے کے دس روز، ریلیف ورکر کی ڈائری

سردیوں کی آمد آمد ہے اگر فی الفور بھی دو کمرے والے گھروں کی تعمیر شروع کی جائے تو کم سے کم دو سے تین ماہ لگیں گے۔ متمول افراد تو شاید اپنے گھر خود ہی بنا لیں لیکن جو لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان کے لیے گھر بنانا ممکن نہیں ہے۔

(سجاد اظہر)

میرپور آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے کو دس روز گزر چکے ہیں۔ 24  ستمبر کو سہ پہر چار بج کر دو منٹ پر 5.8 شدت کے زلزلے سے 40 افراد ہلاک اور 679 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

سات یونین کونسلوں میں متاثرہ دیہات کی تعداد 114 ہے جن کی آبادی 122787 ہے۔ یہاں کل گھروں کی تعداد 26161 ہے جن میں سے 1619 گھر مکمل اور 7004 گھر جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ زلزلہ زدہ علاقوں میں ہنگامی امداد کا مرحلہ آج کل ختم ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں متاثرہ افراد کو خیمے دیے گئے انہیں پکا پکایا کھانا فراہم کیا گیا اور دور دراز گھروں کو خشک راشن دیا گیا جس میں حکومت کو غیر سرکاری فلاحی اداروں کا بھر پور تعاون حاصل رہا۔

اگر یہ ادارے حرکت میں نہ آتے تو سرکاری اداروں کے لیے متاثرین کی اشک شوئی بہت مشکل ہو جاتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے متمول لوگوں نے بھی دل کھول کر متاثرین کا ساتھ دیا چونکہ یہاں کی ایک بڑی آبادی برطانیہ میں مقیم ہے اس لیے سرکاری اداروں کو یہ گمان بھی ہے کہ یہ بحالی کے کاموں کا بیڑا خود اٹھا لیں گے یہی وجہ ہے کہ ابھی تک حکومتی حلقوں سے متاثرین کی بحالی کے اگلے مرحلے کی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔

ہلاک ہونے والے افراد کو ملنے والے پانچ لاکھ فی کس کی امداد سے بھی متاثرین مطمئن نہیں ہیں اسی طرح ان کے مالی نقصانات کے ازالے کے لیے جو امداد زیر غور ہے ان سے شاید گرنے والے گھروں کا ملبہ بھی صاف نہ کیا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ غیر سرکاری اداروں نے اپنی بساط کے مطابق متاثرین کی بھر پور مدد کی ہے لیکن انہیں یہ گلہ ہے کہ میڈیا نے اس ہولناک تباہی کو صحیح طرح سے اجاگر نہیں کیا جس کی وجہ سے انہیں مطلوبہ تعداد میں عطیات نہیں مل سکے ہیں شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ جب یہ زلزلہ آیا تو میڈیا بحرانی کیفیت سے دوچار تھا اور اس میں اتنے بڑے پیمانے پر چھانٹیاں ہوئی ہیں کہ شہروں سے باہر جا کر کوریج کرنے کے لیے میڈیا کے پاس وسائل نہیں تھے۔ یہاں زیادہ تر میڈیا وی آئی پیز شخصیات کے ساتھ آیا اور انہی کے ساتھ واپس چلا گیا۔

وزیراعظم عمران خان بھی سکیورٹی مسائل کی وجہ سے صرف ہسپتال میں مریضوں کی عیادت تک محدود رہے اور متاثرین تک نہ پہنچ سکے۔ بلاول بھٹو متاثرین تک ضرور پہنچے اور جب متاثرین نے ان سے شکایت کی کہ انہیں ابھی تک خیمے بھی پوری تعداد میں نہیں مل سکے تو انھوں نے سندھ حکومت کو تاکید کی کہ وہ یہاں خیمے بھیجے۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ حکومتی نمائندوں کے دورے صرف تصویری سیشن تک محدود ہیں وہ حاضری لگاتے ہیں اور ہوٹر بجاتی گاڑیوں کے ساتھ یہ جا وہ جا۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے زلزلہ جن علاقوں میں آیا وہ لوگ نہ صرف یہ کہ بہت صابر ہیں بلکہ جب کوئی ان کے پاس جاتا ہے تو وہ کھلے آسمان تلے بے سر و سامانی کی حالت کے باوجود اس کشمکش میں ہوتے ہیں کہ وہ مہمانوں کی کیا خاطر مدارت کر سکتے ہیں۔

میں بطور صحافی کئی علاقوں میں آنے والی آفات کو کور چکا ہوں جس کے بعد میں یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے میرپور جیسی مہمان نوازی کہیں نہیں دیکھی۔

یہاں جو سرکاری مشنری کام کر رہی ہے ابھی تک اس کی تمام تر توجہ غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے میں ہے انھوں نے خود کیا کرنا ہے اس حوالے سے وہ خود بھی کچھ نہیں جانتے۔ کمشنر میرپور جب متاثرین کو یہ مژدہ سنا رہے تھے کہ یہاں ہم نئے شہر تعمیر کریں گے تو ایک صحافی نے یہ پوچھ ہی لیا کہ بالاکوٹ کی تباہی کو 14 سال گزر گئے مگر ابھی تک وہ تو تعمیر نہیں ہوا پھر یہاں آپ کیسے کریں گے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب کہیں کوئی آفت آتی ہے تو بیوروکریسی خوش کن اعلانات سے متاثرین کی امیدیں آسمان تک پہنچا دیتی اور پھر آہستہ آہستہ غائب ہو جاتی ہے متاثرین مایوس ہو کر خود ہی اینٹ گارے کا کام سنبھال لیتے ہیں۔

زلزلے کا متاثرہ علاقہ اتنا بڑا نہیں ہے اگر حکومت اور غیر سرکاری ادارے مل کر کام کریں تو 1619 گھروں کی تعمیر مشکل نہیں ہے۔ ایرا کے پاس 2005 کے زلزلے میں بنائے جانے والے گھروں کا ماڈل موجود ہے۔ دو کمروں۔ کچن، باتھ اور برآمدے پر مشتمل تین سو مربع فٹ کے ایک گھر پر لاگت کا تخمینہ آٹھ سے دس لاکھ ہے۔

گویا ایک ارب 70 کروڑ سے تمام متاثرین کو گھر بنا کر دیے جا سکتے ہیں غیر سرکاری فلاحی تنظیمیں چاہتی ہیں کہ حکومت بتائے کہ وہ کتنے گھر بنا سکتی ہے تاکہ باقی گھروں کی تعمیر کا بیڑا وہ مل کر اٹھا لیں۔

سردیوں کی آمد آمد ہے اگر فی الفور بھی دو کمرے والے گھروں کی تعمیر شروع کی جائے تو کم سے کم دو سے تین ماہ لگیں گے۔ متمول افراد تو شاید اپنے گھر خود ہی بنا لیں لیکن جو لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان کے لیے گھر بنانا ممکن نہیں ہے۔

اسی طرح متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور مویشیوں کے لیے باڑوں کی تعمیر کے لیے بھی کئی فلاحی ادارے میدان میں آ چکے ہیں مگر وہ حکومتی اداروں سے آشیر باد کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں راتیں ٹھنڈی ہو چکی ہیں اور روز بروز سردی کی شدت بڑھتی جائے گی متاثرین کو آنے والے دنوں میں کمبلوں، رضائیوں۔ بستروں  اور گرم کپڑوں کی ضرورت ہو گی اور اس سے زیادہ ایک سائبان کی، وگرنہ جو لوگ زلزلے سے بچ گئے سردی انہیں نہیں چھوڑے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ