صوبہ سندھ میں حکام نے ہفتے کو اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ممکنہ سیلاب کے نتیجے میں صوبے کے 16 لاکھ افراد پر مشتمل ڈھائی لاکھ سے زائد خاندانوں کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے (پی ڈی ایم اے) اور صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلابی ریلے بالائی پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد آئندہ دو سے تین روز میں ہیڈ سدھنائی اور محمد والا کے بعد پنجند پہنچیں گے، جس کے بعد یہ پانی گدو کے مقام پر سندھ کی حدود میں داخل ہو جائے گا۔
اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ ’ملتان اور مظفر گڑھ کے شہری آبادیوں کو بچانے کے لیے محمد والا کے قریب بند میں شگاف ڈالنے کی تیاری مکمل ہے، کیونکہ انتہائی اونچے درجے کے اس سیلاب سے شیر شاہ پل کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔‘
پنجاب کے بعد سندھ میں ممکنہ سیلاب سے متعلق سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے صوبے کے 16 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
سندھ کے وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن اس بارے میں ہفتے کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سندھ میں ممکنہ سیلاب کے باعث 1651 دیہات اور 167 یونین کونسلز میں 16 لاکھ 50 ہزار افراد پر مشتعمل دو لاکھ 73 ہزار خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شرجیل انعام میمن اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے حوالے سے کہا کہ اس وقت 192 ریسکیو کشتیاں اور موبائل ہیلتھ یونٹس فعال کر دی گئی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ جانوروں کے لیے بھی 300 کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق سیلابی صورت حال کی نگرانی کے لیے صوبائی بارش و سیلاب ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل قائم کردیا گیا ہے، جو 24 گھنٹے فعال رہے گا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی ہفتے کو سیلابی صورت حال پر نگرانی کے لیے مقرر کیے گئے وزرا سے رابطہ کیا۔
ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے جاری بیان بھی منگل اور بدھ کی رات دریائے سندھ میں سیلاب آنے کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے دریا کے دائیں اور بائیں کناروں کے بندوں کے نہری نظام کی کڑی نگرانی کا حکم دیا ہے۔