امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک نوجوان ٹک ٹاک کا خطرناک تجربہ ناکام ہونے کے بعد بری طرح جھلس گیا، جس پر انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
12 سالہ کیڈن بیلارڈ اور ان کے بڑے بھائی نے سوشل میڈیا ایپ پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں الکحل کو بوتل میں ڈال کر آگ لگائی جاتی ہے جس سے شعلے بوتل سے اوپر کی جانب اٹھتے ہیں۔
کیڈن نے 16 اگست کو پیش آنے والے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کے نیوز چینل ایکس اے این کو بتایا کہ ’میں اور میرے بھائی نے ایسا کیا اور یہ اچھا لگا۔‘ لیکن جب آگ بجھتی دکھائی دی تو ان کے بھائی نے ان سے کہا کہ بوتل کو پھینک دو۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’میرے بھائی نے اسے پکڑا اور کہا ’لو اسے پھینک دو۔‘ تو میں نے اسے پھینکنے کے لیے اٹھایا (اور) میری شرٹ کو آگ لگ گئی۔‘
لڑکوں کو علم نہیں تھا کہ انہوں نے اپنے تجربے کے لیے آئسوپروپائل الکحل استعمال کی جو آگ لگائے جانے پر ایسا شعلہ پیدا کر سکتی ہے جو دکھائی نہیں دیتا۔ نتیجے کے طور پر اس میں سے نکلنے والی آگ نے کیڈن کے جسم کے 11 فیصد حصے پر جلنے کے دوسرے اور تیسرے درجے کے زخم کر دیے۔
جب یہ واقعہ پیش آیا تو لڑکوں کی ماں گھر کے دوسرے حصے میں تھیں اور ایک دوست جنہوں نے لڑکوں کو ہنگامی صورت میں مدد کے لیے ٹیلی فون نمبر پر کال کرتے سنا تو انہوں نے ماں کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
لڑکوں والدہ کرسٹینا بیلارڈ نے پورچ میں کیڈن کو دیکھنے کے خوف ناک لمحے کو یاد کیا۔ انہوں نے ایکس اے این کو بتایا کہ ’ان کا چہرہ، سینہ، بازو، پیٹ سب جلے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کی کھال پگھل گئی ہو۔ انہیں (بیٹوں کو) ٹک ٹاک پر کہانیاں سننا پسند ہے۔ آپ جانتے ہیں ریڈاِٹ کی کہانیاں۔ مجھے کبھی توقع نہیں تھی کہ ایسی صورت حال پیش آئے گی۔‘
انہوں نے کیڈن کے بھائی کے اقدام کی تعریف کی، جنہوں نے فوراً ردعمل دیتے ہوئے ان کی شرٹ اتار دی اور اسے کہا کہ رک جاؤ۔ زمین پر لیٹ جاؤ اور لوٹو تاکہ شعلے بجھ جائیں اور نقصان کم سے کم ہو۔
بیلارڈ کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ آپ کیسے اتنے بہادر تھے کہ شعلوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے بھائی کی شرٹ کھینچ کر اتار دی۔ لیکن میں ہر روز خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ آپ نے ایسا کرنے کی ہمت دکھائی۔‘
خاندان کی طرف سے بنائے گئے ’گوفنڈ می پیج‘ کے مطابق کیڈن کو تیزی سے ڈیلس میں برن یونٹ منتقل کیا گیا اورانہیں اب انہیں گیل وسٹن میں بچوں کے برن یونٹ میں لے جایا جا رہا ہے۔ ان کی پہلے ہی سرجری ہو چکی ہے اور اب انہیں علاج اور بحالی کے لیے انتہائی نگہداشت میں کئی دن تک رہنا ہو گا۔
بیج کے مطابق: ’کیڈن اور مضبوط اور پرعزم نوجوان ہیں لیکن ان کا سفر طویل اور تکلیف دہ ہو گا۔‘
پیج پر مزید درج ہے کہ ’ان کے والدین پوری دیانت داری سے ان کے ساتھ ہیں لیکن مالی دباؤ نے جذباتی بوجھ کو پیچیدہ بنا دیا۔ ہسپتال میں زیادہ دن، کام پر نہ جانا، ڈیلس آنے جانے کے لیے سفر اور گھر پر بڑھتے ہوئے اخراجات۔‘
امداد اکٹھی کرنے کے لیے بنائے پیج کی بدولت 1500 ڈالر جمع ہو چکے۔
اب کرسٹینا بیلارڈ والدین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو آن لائن سٹنٹ دوبارہ کرنے کے خطرات سے آگاہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا: ’ہم بہت خوش قسمت ثابت ہوئے۔ بدقسمتی سے یہ بری بات ہے لیکن کیڈن اور میں بہت خوش قسمت ہیں کہ حالات بہت زیادہ خراب نہیں ہوئے۔‘
© The Independent