پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اتوار کو قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی سات جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی الیکشن میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور تاحال الیکشن کمیشن نے باظابطہ طور پر کسی حلقے کے نتائج کا اعلان نہیں کیا۔
پاکستانی میڈیا البتہ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج نشر کرتے ہوئے دعویٰ کر رہا ہے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل ن) کو برتری حاصل ہے۔
ن لیگ نے بھی اپنے آفیشل ایکش آکاؤنٹ پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا کہ ‘الحمد اللہ شیر نے میدان مار لیا۔‘
الحمدللہ شیر نے میدان مار لیا
— PMLN (@pmln_org) November 23, 2025
شکریہ عوام
شکریہ پنجاب
شکریہ پاکستان#VoteSirfSherKa pic.twitter.com/YlYUdd4RyW
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق آج پولنگ سخت سکیورٹی اور غیر معمولی انتظامات کے ساتھ ہوئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق پولنگ کے دوران مجموعی طور پر امن و امان رہا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں عوام کا بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنا حوصلہ افزا رجحان ہے۔
قومی اسمبلی کی جن چھ نشستوں پر الیکشن ہو رہا ہے ان میں ایک خیبر پختونخوا (NA-18 ہری پور) اور پانچ پنجاب کی NA-96 فیصل آباد، NA-104 فیصل آباد، NA-129 لاہور، NA-143 ساہیوال اور NA-185 ڈیرہ غازی خان کی نشستیں شامل ہیں۔
اسی طرح پنجاب اسمبلی کے سات حلقوں پی پی-73 (سرگودھا)، پی پی-87 (میانوالی)، پی پی-98 (فیصل آباد)، پی پی-115 (فیصل آباد)، پی پی-116 (فیصل آباد)، پی پی-203 (ساہیوال) اور پی پی-269 (مظفرگڑھ) میں الیکشن ہو رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لاہور اور ہری پور کے سوا تمام حلقوں میں انتخابات کا باضابطہ طور پر بائیکاٹ کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے مظفرگڑھ کے علاوہ تمام نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے دو قومی اسمبلی اور ایک پنجاب اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا۔
آج صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام پانچ بجے تک بلا وقفہ جاری رہی، جس کے بعد پولینگ سٹیشن میں موجود ووٹروں کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔
پنجاب میں ضمنی الیکشن زیادہ تر ان نشستوں پر ہو رہا ہے جو مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد ارکانِ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نااہلی کے باعث خالی ہوئیں۔
پنجاب کی کُل 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 105 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جن میں سے 82 آزاد امیدوار ہیں۔
زیادہ تر سیٹوں پر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل ن) اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں میں مقابلہ ہے۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق صوبے بھر میں انتخابات کی سکیورٹی پر 20 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات تھے۔
939 مردانہ، 889 زنانہ اور 964 مشترکہ پولنگ سٹیشنز سمیت مجموعی طور پر دو ہزار 792 پولنگ سٹیشنز میں سے 408 کو انتہائی حساس اور 1032 کو حساس قرار دیا گیا۔
ان تمام مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور کنٹرول اینڈ مانیٹرنگ رومز کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ نگرانی ہوئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ دفعہ 144، اسلحہ رکھنے کی ممانعت اور الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی۔
پولیس کے مطابق پنجاب کانسٹیبلری، پی ایچ پی، ایلیٹ فورس، ایس پی یو، ڈولفن اسکواڈ، سپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی سمیت تمام دستیاب فورسز کو پولنگ ڈے سکیورٹی کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ رینجرز اور پاکستان آرمی نے بھی مکمل معاونت فراہم کی۔
معذور افراد، حاملہ خواتین اور بزرگوں کے لیے خصوصی اقدامات
صوبائی الیکشن کمشنر نے آج صبح عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بلا خوف و خطر گھروں سے نکلیں اور اعتماد کے ساتھ اپنا ووٹ ڈالیں۔
انہوں نے کہا معذور افراد، حاملہ خواتین، بزرگ شہریوں اور خواجہ سراؤں کو ہر پولنگ سٹیشن پر ترجیحی بنیاد پر ووٹ کاسٹ کروایا جائے گا تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لانے پر پابندی تھی اور ووٹرز کو بیلٹ پیپر کی تصویر بنانے سے سختی سے منع کیا گیا۔
اسلام آباد میں مرکزی کنٹرول روم اور لاہور میں دفتر صوبائی الیکشن کمشنر میں قائم خصوصی مانیٹرنگ سیل سے انتخابی سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی ہوئی۔
اہم حلقوں میں سخت مقابلہ
اس الیکشن میں سب سے اہم مقابلہ لاہور کی نشست NA-129 پر متوقع ہے، جو سابق گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی رہنما میاں محمد اظہر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی۔
ان کے پوتے چوہدری ارسلان اسی نشست پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن نے حافظ میاں محمد نعمان کو میدان میں اتارا۔
چوہدری ارسلان کے کزن اور پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر نے دعویٰ کیا کہ سمن آباد کے پولنگ سٹیشن نمبر 330 پر پریزائیڈنگ افسر کو فراہم کی گئی بیلٹ پیپر بکس کی تعداد میں گڑبڑ پائی گئی۔
فیصل آباد: متعدد نشستوں پر ن لیگ اور آزاد امیدوار آمنے سامنے
فیصل آباد میں دو قومی اور تین صوبائی سیٹوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔
NA-96 فیصل آباد کی نشست پر مسلم لیگ ن کے محمد بلال بدر چوہدری میدان میں ہیں، جو وزیر مملکت طلال چوہدری کے بھائی ہیں جبکہ NA-104 میں ن لیگ کے دانیال احمد تین آزاد امیدواروں کے مدمقابل ہیں۔
دانیال احمد سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے صاحب زادے ہیں۔ PP-98 فیصل آباد میں ن لیگی امیدوار آزاد علی تبسم نو آزاد امیدواروں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
دوپہر تک مختلف پولنگ کیمپوں پر ’تقریباً کوئی ووٹر نہ ہونے‘ کی اطلاعات سامنے آئیں۔
فیصل آباد کے دو صوبائی اسمبلیوں کے حلقے PP-115 میں ن لیگ کے طاہر پرویز تین آزاد امیدواروں اور ایک AJPP کے امیدوار کا مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ PP-116 میں ن لیگ کے نامزد امیدوار احمد شہریار (داماد رانا ثنا اللہ) چھ امیدواروں کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رانا ثنا اللہ نے آج میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پولنگ پر کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اور امید ہے کہ عوام کارکردگی اور خدمت کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔
انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس
اس سے قبل الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کیا تھا۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانے کے ساتھ نوٹس جاری کیا گیا جبکہ وفاقی وزیر اویس لغاری اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ 18 ہری پورمیں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شہرناز عمر ایوب، ن لیگ کے بابر نواز خان اور پیپلزپارٹی کی ارم فاطمہ ترک کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
ساہیوال میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 143 پر بھی 11 امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ ن نے چوہدری طفیل جٹ کو ٹکٹ جاری کیا جبکہ تحریک انصاف نے یہاں کسی امیدوار کی حمایت کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔
ڈیرہ غازی خان میں این اے 185 پر، جو پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی نااہلی سے خالی ہوئی، پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار دوست محمد کھوسہ اور مسلم لیگ ن کے محمود قادر لغاری کے درمیان سخت مقابلے ہے۔