فائرنگ سے دو نیشنل گارڈز کو زخمی کرنے والا افغان ہے: ٹرمپ

اپنے ویڈیو پیغام میں امریکی صدر نے تصدیق کی کہ وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ملوث شخص ’ایک غیر ملکی ہے، جو افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہوا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب بدھ کو فائرنگ کر کے امریکی نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو زخمی کرنے والا مشتبہ شخص افغان شہری ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کا واقعہ بدھ کو وائٹ ہاؤس سے کچھ ہی فاصلے پر پیش آیا، جس میں ملوث مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی میڈیا اداروں نیویارک ٹائمز، سی بی ایس، این بی ایس اور دیگر نے ملزم کی شناخت 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی ہے۔

امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بتایا کہ دونوں فوجی ’تشویش ناک حالت‘ میں ہیں۔

اس سے قبل ویسٹ ورجینیا کے گورنر پیٹرک مورسی نے غلطی سے کہا تھا کہ ان کی ریاست سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں اہلکار، جو دارالحکومت میں تعینات تھے، جان سے جا چکے ہیں۔

وفاقی اداروں نے پہلے پہل حملہ آور کی شناخت عوام کے سامنے ظاہر نہیں کی، تاہم امریکی میڈیا نے فائرنگ کرنے والے شخص کی شناخت افغان شہری کے طور پر کی۔

بعدازاں اپنے ویڈیو پیغام میں امریکی صدر نے تصدیق کی کہ وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ملوث شخص ’ایک غیر ملکی ہے، جو افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہوا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ملزم 2021 میں ’ان بدنام پروازوں‘ کے ذریعے امریکہ پہنچا۔ یہاں وہ 20 سالہ جنگ کے خاتمے اور افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے موقعے پر فرار ہونے والے افغانوں کی منتقلی کا حوالہ دے رہے تھے۔

امریکی صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا: ’ہمیں اب ہر اس غیر ملکی کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے جو افغانستان سے ہمارے ملک میں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں داخل ہوا۔‘

بقول ٹرمپ: ’ہمیں ہر ضروری اقدام کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی غیر ملکی کو کسی بھی ملک سے نکالا جا سکے جو یہاں کا حصہ نہیں، یا ہمارے ملک کے لیے کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔ اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتے، تو ہم انہیں نہیں چاہتے۔‘

افغانوں کی امیگریشن درخواستوں کی کارروائی غیر معینہ مدت تک روک دی گئی

فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی حکام نے افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی کارروائی مزید جائزے تک غیر معینہ مدت کے لیے روک دی۔

امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کی جانب سے ایکس پر ایک بیان میں کہا گیا کہ ’یہ فوری طور پر نافذ العمل‘ ہے، جس کا مقصد سکیورٹی اور جانچ کے پروٹوکول کا دوبارہ جائزہ لینا ہے۔

مزید کہا گیا کہ ’ہمارے وطن اور امریکی عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا ہمارا واحد مرکزِ توجہ اور مشن ہے۔‘


اس سے قبل ٹرمپ نے فائرنگ کرنے والے کو ’جانور‘ قرار دیا تھا۔

 

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ملزم ’خود بھی شدید زخمی ہے، لیکن اس کے باوجود، اسے اس کی بہت بھاری قیمت چکانا ہو گی۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال جنوری میں اپنی دوسری مدت صدارت کے آغاز کے بعد ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام متعدد شہروں کی سڑکوں پر فوجی دستوں کی تعیناتی کے احکامات کے بعد سے فائرنگ کا یہ واقعہ نیشنل گارڈ سے متعلق سب سے سنگین واقعہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ