امریکی حکام نے جمعے کو بتایا ہے کہ پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلہ روک دیا گیا ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اس ہفتے ایک افغان شہری کی جانب سے مبینہ طور پر نیشنل گارڈ کے دو ارکان کو گولی مارے جانے کے بعد تارکین وطن مخالف مؤقف کو سخت کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے کہا کہ ان کے ادارے نے ’پناہ کے تمام فیصلے اس وقت تک روک دیے گئے ہیں جب تک ہم اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتے کہ ہر غیر ملکی کی ممکنہ حد تک مکمل جانچ پڑتال اور سکریننگ نہ ہو جائے۔‘
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا کہ امریکہ نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کو ویزے جاری کرنا عارضی طور پر روک دیا ہے۔
یو ایس سی آئی ایس کا کہنا ہے کہ وہ ان گرین کارڈز کا دوبارہ جائزہ لے گا جو ان افراد کو جاری کیے گئے تھے جو انہی 19 ممالک سے ہجرت کر کے امریکہ آئے تھے جن کا ذکر محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے بھی کیا۔
اے ایف پی کی جانب سے تجزیہ کیے گئے امریکی امیگریشن ڈیٹا کے مطابق اس فہرست میں شامل ممالک میں پیدا ہونے والے گرین کارڈ ہولڈرز کی تعداد 16 لاکھ سے زائد ہے، جو کہ مستقل رہائشیوں کی کل آبادی کا تقریباً 12 فیصد ہے۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے گرین کارڈ ہولڈرز کی تعداد ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد ہے۔
فوجی انخلا کے بعد ملک میں افغانوں کی آبادکاری میں مدد کرنے والی تنظیم ’افغان ایویک‘ کے صدر شان وین ڈائیور نے تمام ویزوں کے اجرا کو روکنے کے روبیو کے اقدام پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’وہ ایک تنہا پرتشدد شخص کو اس پالیسی کے لیے آڑ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کی انہوں نے طویل عرصے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق واشنگٹن، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی اٹارنی جنرل نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکی نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے ملزم افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے خلاف الزام پہلے درجے کے قتل تک بڑھا دیا گیا جب کہ تفتیش کار اب بھی فائرنگ کا محرک تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
20 سالہ سپیشلسٹ سارہ بیکسٹروم اور 24 سالہ سٹاف سارجنٹ اینڈریو ولف کو بدھ کی دوپہر وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والی فائرنگ کے بعد تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شام اعلان کیا کہ بیکسٹروم چل بسیں۔
امریکی اٹارنی جینین پیرو کے دفتر نے کہا کہ رحمان اللہ لکنوال، جو 29 سالہ افغان شہری ہیں اور افغانستان کی جنگ کے دوران سی آئی اے کے ساتھ کام کرتے رہے، اب ان پر پہلے درجے کے قتل اور جان سے مارنے کے ارادے سے مسلح حملے کی دو الزامات لگائے گئے ہیں۔
بیکسٹروم اور وولف، ٹرمپ کے جرائم کے خلاف مشن کے تحت ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈز کے ساتھ تعینات تھے۔ اس مشن میں میں ڈی سی پولیس فورس کو وفاقی اختیار دیا گیا تھا۔ صدر نے دیگر شہروں میں بھی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی کارروائیوں میں مدد کے لیے نیشنل گارڈ اہلکاروں کو تعینات کیا ہے یا کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کارروائی کو عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
فوکس نیوز پر ایک انٹرویو میں اٹارنی جینین پیرو نے کہا کہ افغان شہری پر قتل کے سخت کیے گئے الزام کے علاوہ ’مزید بہت سے الزامات سامنے آنے والے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں بیکسٹروم کے خاندان کے ساتھ ہیں جنہوں نے رضاکارانہ طور پر خدمات پیش کیں اور جو ’واشنگٹن ڈی سی کی سرد سڑکوں پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں گولی کا نشانہ بن گئے۔‘
پیرو نے کہا کہ حکام مشتبہ شخص کے محرک کا تعین کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ تفتیش کار ریاست واشنگٹن، جہاں افغان شہری رہتے تھے، اور ملک کے دیگر حصوں میں وارنٹس کی تعمیل کر رہے ہیں۔
پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ روکنے پر تنقید
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس پناہ کی درخواست کے لیے جانچ پڑتال کا سخت نظام موجود ہے۔ یو ایس سی آئی ایس کے ذریعے ملک کے اندر سے دائر کیے جانے والے پناہ کے دعووں کو طویل عرصے سے التوا کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران اس سست روی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔