امریکہ میں حملہ کرنے والے رحمان اللہ اور ایمل کانسی میں کیا مشترک ہے؟

رحمان اللہ نے کئی لوگوں کو پاکستانی شہری ایمل کانسی کے جنوری 1993 کے حملے کی یاد تازہ کروا دی۔ دونوں کے امریکہ میں کیے گئے حملوں میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

افغانستان کے صوبے خوست سے تعلق رکھنے والے رحمان اللہ لکنوال نے بدھ (26 نومبر) کو واشنگٹن میں امریکہ کے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو زخمی کر دیا، جن میں سے ایک گارڈ ہسپتال میں دم توڑ گئیں۔

29 سالہ رحمان اللہ اس جان لیوا حملے سے قبل امریکہ کی کینیڈا کے ساتھ سرحد کے قریب ساحلی شہر بیلنگہم میں اپنی بیوی اور پانچ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔

حملے کے بعد رحمان اللہ کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا اور ان کی موجودہ حالت کے بارے میں امریکی حکام نے کچھ زیادہ نہیں بتایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رحمان اللہ نے کئی لوگوں کو پاکستانی شہری ایمل کانسی کے جنوری 1993 میں کیے گئے حملے کی یاد تازہ کروا دی۔ دونوں کے امریکہ میں کیے گئے حملوں میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

رحمان اللہ 2021 میں امریکہ منتقل ہونے سے قبل افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ساتھ انٹیلی جنس اور دیگر عسکری سرگرمیوں میں مدد کرتے رہے تھے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایمل کانسی کا بھی حملے سے قبل خفیہ ایجنسی سی آئی اے سے تعلق بتایا جاتا ہے۔

ایمل کانسی نے 1993 میں سی آئی اے کے ورجینیا میں ہیڈ کواٹرز کے باہر دو اہلکاروں کو گولی مار کر قتل جبکہ تین کو زخمی کر دیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر بھی 29 سال کے لگ بھگ تھی، لیکن وہ حملے کے بعد پاکستان آکر روپوش ہوگئے اور 15 جون 1997 کو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک ہوٹل سے گرفتار ہونے تک مفرور رہے۔

انہیں 10 نومبر 1997 کو ایک امریکی عدالت نے سزائے موت سنائی، جس پر عملدرآمد 14 نومبر 2002 کو ہوا۔

روئٹرز کے مطابق رحمان اللہ 2021 میں آپریشن الائیز ویلکم کے ذریعے امریکہ میں داخل ہوئے، جو بائیڈن دور کا ایک امیگریشن پروگرام تھا، جس کا مقصد ان ہزاروں افغانوں کو، جنہوں نے جنگ کے دوران امریکہ کی مدد کی تھی، طالبان فورسز کی انتقامی کارروائی سے بچانا اور آباد کرنا تھا۔ اس پروگرام کے تحت 70,000 سے زائد افغانوں کو امریکہ میں آباد کیا گیا۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے تصدیق کی ہے کہ وہ افغانستان میں ماضی میں امریکی اتحادی فورسز کے ساتھ کام کرتے تھے۔

واشنگٹن ڈی سی میں امریکی اٹارنی جنین پیرو اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بائیڈن انتظامیہ کو رحمان اللہ لکنوال کی غلط جانچ پڑتال کا ذمہ دار ٹھہرایا، حالانکہ انہوں نے اپنے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

روئٹرز کی جانب سے دیکھی گئی وفاقی قانون نافذ کرنے والے دستاویز کے مطابق، رحمان اللہ نے دسمبر 2024 میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی، جو ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے تین ماہ بعد 23 اپریل کو منظور ہو گئی۔

رحمان کی پہلے کسی جرم میں ملوث ہونے کی کوئی معلومات نہیں ہیں، جیسا کہ ڈوزیئر میں بتایا گیا ہے۔ ان کے پاس 2021 میں آمد کے بعد سے امریکہ کے اندر یا باہر سفر کا کوئی دستاویزی ریکارڈ نہیں تھا اور انہوں نے فروری میں افغانستان سے گھریلو سامان کی ایک کھیپ درآمد کی تھی۔

کاش پٹیل کے مطابق بدھ کی رات تفتیش کاروں نے واشنگٹن ریاست میں ان کے مکان سے موبائل فونز، لیپ ٹاپس، آئی پیڈز اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کیے ہیں۔

مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں لیکن خدشہ ہے کہ ایمل کانسی کی طرح امریکی حکام شاید رحمان اللہ کے اس رویے کی وجہ نہ بتائیں۔

ایمل کانسی کی گرفتاری میں مدد کے لیے خفیہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کو امریکی حکام نے بعد میں انعامی رقم بھی دی تھی، لیکن اس کی شناخت آج تک ظاہر نہیں کی گئی۔ تاہم امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی کے ایک مشترکہ بیان کے مطابق ایمل کانسی کو حوالے کرنے والے افغان تھے۔

ایمل کانسی نے جن دو اہلکاروں کو مارا ان کی شناخت فرینک ڈارلنگ اور لینسنگ بینٹ کے طور پر ہوئی۔ ایمل نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بظاہر امریکہ کی اسرائیل نواز اور مسلمان مخالف خارجہ پالیسی کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا تھا۔

اے ایف پی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ رحمان اللہ نے گارڈز کو .357 سمتھ اینڈ ویسن ریوالور سے گولی ماری۔

رحمان اللہ نے NDS-03 میں خدمات انجام دیں، جو افغانستان کی ایک ایلیٹ انسداد دہشت گردی یونٹ ہے جسے سی آئی اے کے زیر انتظام امریکی انٹیلی جنس اور فوجی معاونت فراہم کرتی تھی۔ 

دو مختلف افراد، دو مختلف زمانے، دو مختلف ممالک کے شہری لیکن واردات ایک جیسی۔ تو رحمان اللہ اور ایمل کانسی آخر انتہائی قدام اٹھانے پر کیوں مجبور ہوئے؟ امریکہ کو اس جواب کی تلاش آنے والے دنوں میں رہے گی۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ