صحافیوں کے خلاف اقدامات اور دنیا میں سکڑتے جمہوری حقوق

ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک سیاست پر اثر انداز ہونے والی کمپنیوں اور کارپوریشنز کا راستہ روکیں۔ چند کمپنیوں کے مفادات کے لیے جنگوں کو منقطع کریں۔ اقوام متحدہ کو مزید مضبوط بنائیں۔ صحافتی آزادیوں کا گلا گھوٹنے والے قوانین کا خاتمہ کریں۔

مظاہرین 26 اگست 2025 کو غزہ جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران غزہ شہر میں اسرائیلی حملوں میں قتل ہونے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہوئے (عمر القطا / اے ایف پی)

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا بھر میں جمہوری آزادیوں کے عروج کی توقع پیدا ہوئی تھی لیکن امریکہ، برطانیہ، یورپی ممالک، انڈیا اور پاکستان میں مختلف اقدامات اس امید پر پانی پھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

 دنیا میں جمہوریت کے سب سے بڑے علم بردار امریکہ میں اب سرکار ان غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی چھان بین کرے گی، جو امریکی ویزے کی درخواست دیں گے۔ انسانی حقوق کے علم بردار اس امریکی اقدام کو جمہوری آزادیوں پر ایک بڑی قدغن قرار دے رہے ہیں۔

تاہم بات صرف اس جمہوریت کے چیمپیئن کی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت انڈیا میں بھی جمہوری آزادیاں سکڑتی ہوئی نظر آرہی ہیں، جہاں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرکار کے سائے تلے صحافیوں کے خلاف جبر مسلسل بڑھتا جا رہا ہے جبکہ کچھ صحافیوں کو قتل بھی کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اب سوشل میڈیا پر بھی انڈین وزیراعظم یا انڈین حکومت کے کچھ اراکین پر تنقید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے غیر ملکی صحافیوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں کی آزادی نقل و حرکت پر قدغن بھی اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ یہاں بھی آزادی اظہار رائے اور پریس کی آزادی کے حوالے سے وقت بہت برا ہے۔

حکومت پاکستان نے حال ہی میں اپنے ایک نوٹیفکیشن میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی صحافی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی صحافی کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ کسی بھی جگہ کا دورہ کرنے کے لیے این او سی یا سرکاری اجازت لینے کے پابند ہوں گے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سمیت دنیا بھر کی صحافتی تنظیموں نے اس حکومتی اقدام کی مذمت بھی کی ہے اور اس پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

دنیا بھر کی حکومتیں صحافتی اور جمہوری آزادیوں پر قدغن لگانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکار نے نیشنل پبلک ریڈیو سمیت کئی اداروں کو ملنے والی حکومتی فنڈنگ کو روک دیا ہے۔ ٹرمپ کئی بڑے میڈیا ہاؤسز کو کھلے عام ’فیک‘ قرار دیتے ہیں۔

انڈیا میں حکومت سرکاری اور دوسرے اشتہارات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے جبکہ حکومت کے حمایت یافتہ سرمایہ دار اور کمپنیاں بھی ایسے ذرائع ابلاغ کے اداروں کو اشتہارات دینے سے اجتناب کرتے ہیں جو ممکنہ طور پر مودی حکومت کے غیض و غضب کا شکار ہو سکتے ہوں۔

پاکستان میں بھی صورت حال کوئی بہت زیادہ امید افضا نہیں ہے جہاں حکومت انگریزی اخبار ڈان اور دوسرے آزادانہ ذرائع ابلاغ کے مراکز کو اشتہارات کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے یا انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرتی ہے۔

مغربی ممالک میں سرکاری اشتہارات نسبتاً کم ہوتے ہیں لیکن ان ممالک میں بڑی بڑی کمپنیاں بہت اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ اگر کوئی ذرائع ابلاغ کی کمپنی ان کے خلاف بولنے کی کوشش کرتی ہے تو ان کو قانونی اقدامات کی دھمکی دی جاتی ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ کورٹ کچہری صرف پاکستان اور انڈیا جیسے ترقی پذیر ملکوں میں ایک درد سر ہے لیکن جدید جمہوری ممالک میں بھی عدالتوں کی دھمکی بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔ قانونی کارروائی کی صورت میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کی کمپنیوں کو ایک خطیر رقم کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ تو دیوالیہ بھی ہو جاتی ہیں۔

اس کی ایک واضح مثال بی بی سی کی ہے، جس کے خلاف ٹرمپ نے دس ارب ڈالرز کے ہرجانے کا دعوی کیا ہے۔ اس ہرجانے نے کئی ذرائع ابلاغ کی کمپنیوں پر خوف طاری کر دیا ہے اور وہ غیر محسوس طریقے سے سلیف سینسرشپ پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مغربی ممالک میں اسرائیل نواز لابیاں بھی صحافتی اور جمہوری آزادیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

جو صحافی اسرائیل کی جارحانہ پالیسی پر کھل کر تنقید کرتے ہیں، ان کو نہ صرف اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے بلکہ شدید مالی نقصانات سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔

کئی ناقدین کا خیال ہے کہ اسی طاقتور لابی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے برطانوی حکومت کو فلسطین ایکشن گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا پڑا۔ برطانوی حکومت کے اس اقدام کو ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ سمیت دنیا کی کئی تنظیموں نے تشویش کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اسے جمہوری آزادیوں کے برخلاف قرار دیا ہے۔

روس، چین، شمالی کوریا، مشرق وسطی کی بادشاہتیں اور افریقہ و لاطینی امریکہ کی نیم جمہوری یا آمرانہ حکومتیں تو پہلے ہی جمہوری آزادیوں پر قدغن لگانے کے حوالے سے بدنام ہیں۔ تاہم ان آزادیوں کو کچلنے کی روایت اب یورپ اور دوسرے جمہوری ممالک میں بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔

ہنگری اور پولینڈ سمیت کچھ ممالک میں جمہوری آزادیاں پہلے ہی سکڑ رہی ہیں۔  یہ ممالک بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تارکین وطن کے لیے زندگی پہلے ہی تنگ کیے ہوئے ہیں جبکہ یہ یورپی یونین کے انسانی حقوق کے قوانین کو بھی کسی خاطر میں نہیں لاتے۔

اپنی قومی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کا بہانہ بنا کر وہ ان آزادیوں اور حقوق کو اپنے ملک کے مفاد کے خلاف قرار دے کر ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

جدید جمہوری ممالک میں فلسطین اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے خصوصی طور پر جمہوری آزادیوں پر قدغن لگائی گئیں۔

کہیں امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت نے ان طلبہ کے لیے شدید مشکلات پیدا کیں، جو اس جارحیت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور کہیں یورپ میں یہودیت مخالف قوانین کا سہارا لے کر اس طرح کے مظاہروں اور احتجاجوں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔

روس کے مقابلے میں اپنے آپ کو انتہائی جمہوری ملک قرار دینے والے یوکرین نے بھی بہت ساری شہری، شخصی اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگائی، جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہیں۔

دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آمرانہ ممالک سے بھاگ کر لوگ مغربی جمہوریتوں میں پناہ لیتے ہیں، تاہم اب مغرب سے بھی کچھ لوگ بھاگ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

برطانیہ کے ایک سابق رکن اسمبلی جارج گیلے کو اپنے ملک سے بھاگنا پڑا۔ سنوڈن کو امریکہ سے بھاگنا پڑا جبکہ جولین اسانج کو امریکہ اور دنیا بھر کی دوسری جمہوریتوں کی منافقت کو آشکار کرنے کی پاداش میں ایک طویل عرصے تک پابند سلاسل رکھا گیا۔

کرونا وائرس کے دوران روس، کیوبا، چین، شمالی کوریا اور دوسرے غیر جمہوری ممالک کی بہتر کارکردگی نے پہلے ہی جمہوری مغرب اور دنیا بھر کی جمہوریتوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اور اب اگر مغربی جمہوریتیں صدیوں کی جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی جمہوری آزادیوں پر قدغن لگانے کا سلسلہ جاری رکھیں گی، تو جمہوریت پر مزید سوالات اٹھیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر کے جمہوری ممالک سیاست پر اثر انداز ہونے والی کمپنیوں اور کارپوریشنز کا راستہ روکیں۔ چند کمپنیوں کے مفادات کے لیے جنگوں کے سلسلے کو منقطع کریں۔ اقوام متحدہ کو مزید جمہوری اور مضبوط بنائیں۔ صحافتی آزادیوں کا گلا گھوٹنے والے قوانین کا خاتمہ کریں۔

اس کے علاوہ جمہوری ریاستوں کی پالیسیوں پر غیر منتخب عالمی مالیاتی اداروں کی اجارہ داری کا قلع قمع کریں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر