ہمیں مریخ پر موجود زندگی سے خطرہ ہو سکتا ہے: امریکی سائنسدان

امریکہ کے سابق سینئیر سائنسدان گلبرٹ وی لیون کے مطابق مریخ سے خلا نوردوں کی واپسی پر انہیں یا ہمیں مریخ پر پائی جانے والی زندگی سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس لیے مریخ پر زندگی کا مسئلہ ہمارے لیے ایک محاذ اور توجہ کا مرکز ہے۔

خلائی جہاز ’دا وائیکنگ‘ کو 40 سال پہلے مریخ کی سطح پر بھیجا گیا(ناسا)

امریکہ کے ایک سابق سائنس دان کے مطابق خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کو 1970 میں خلائی زندگی کے شواہد ملے تھے جنہیں نظرانداز کر دیا گیا۔

خلائی جہاز ’دا وائیکنگ‘ کو 40 سال پہلے مریخ کی سطح پر بھیجا گیا۔ اس مشن کا مقصد سیارے پر تحقیق کرنا تھا۔

اس تحقیقی پروگرام میں ایک بائیولوجیکل تجربہ بھی شامل تھا جسے’لیبلڈ ریلیز‘یا ایل آر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تجربے کا مقصد سیارے پر زندگی کے آثار تلاش کرنا تھا۔

مریخ پر ہونے والی تحقیق کے نتائج 1976 میں سامنے آئے، جن سے ظاہر ہوا کہ سیارے کی سطح پر کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔

 انجینیئر اور ایجادات کرنے والے گلبرٹ وی لیون مریخ کی سطح پر تجربے کرنے والی محققین کی ٹیم کے سربراہ تھے۔

اب انہوں نے ایک طویل مضمون تحریر کیا ہے جس کے مطابق ان کی تحقیق کے جو نتائج سامنے آئے ان سے اشارہ ملتا ہے کہ مریخ پر زندگی موجود ہے، تاہم ناسا نے اس حوالے سے شواہد کو نظرانداز کر دیا۔

لیون نے امریکی جریدے سائنٹیفک امریکن میں چھپنے والے مضمون میں لکھا، ’30 جولائی 1976 کو ایل آر نے اپنے ابتدائی نتائج واپس بھیجے جو حیران کن طور پر مثبت تھے۔‘

’تجربے میں پیش رفت پرکُل چار مثبت نتائج سامنے آئے جن کی پانچ مختلف طریقوں سے تصدیق ہوئی۔ یہ نتائج چار ہزار میل کے فاصلے سے دا وائیکنگ نام کے دو خلائی جہازوں سے بھیجے گئے تھے۔ اکٹھے کیے گئے شواہد سے ایسے اشارے ملے جن سے سرخ سیارے پر سانس لینے والے جراثیم کی شناخت ہوئی۔‘

’مریخ پر زندگی کے ملنے والے شواہد وہی تھے جو زمین پر مٹی کے ٹیسٹوں سے سامنے آئے تھے۔ ایسا لگا کہ ہم نے حتمی سوال کا جواب دے دیا ہے۔‘

لیکن ناسا کے تجربات نامیاتی مواد تلاش کرنے میں ناکام رہے: خود زندگی کا مادہ، صرف جراثیم کے سانس لینے کے اشارے نہیں جو ایل آر تجربے میں دریافت ہوئے تھے۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ ناسا اس نتیجے پر پہنچا کہ مریخ پر ہونے والی تحقیق کے نتائج ایک ایسے مواد سے ملے ہیں جو زندگی کی نقل تو ہے لیکن خود زندگی نہیں۔

تب سے ناسا نے اس قسم کا مزید کوئی تجربہ نہیں کیا بلکہ اپنی توجہ یہ جائزہ لینے پر مرکوز کر لی ہے کہ کیا مریخ کا ماحول خلائی زندگی کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔

لیکن لیون کہتے ہیں مریخ پر ہونے والی تحقیق کے نتائج سے درحقیقت یہ پتہ چلتا ہے کہ سیارے پر زندگی موجود ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا ناسا کو اس ضمن میں مزید تحقیق کرنی ہوگی کیونکہ اس سے زمین پرموجود زندگی کو بڑا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

لیون مزید لکھتے ہیں ’ناسا کا موقف ہے کہ خلائی زندگی کی تلاش اس کی اعلیٰ ترین ترجیحات میں شامل ہے۔‘

13 فروری 2019 کو ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم برائیڈن سٹائن نے کہا تھا ’ہمیں مریخ پر جراثیم کی شکل میں زندگی مل سکتی ہے۔‘

’اب ہمارے ملک نے خلانوردوں کو مریخ پر بھیجنے کا عزم کر رکھا ہے۔ خلانوردوں کی واپسی پر انہیں یا ہمیں مریخ پر پائی جانے والی زندگی سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس لیے مریخ پر زندگی کا مسئلہ ہمارے لیے ایک محاذ اور توجہ کا مرکز ہے۔‘

خلائی زندگی کے شواہد کو سمیٹتے ہوئے لیون نے مزید لکھا کہ ان کے تجربے سے بہت بڑی تعداد میں مثبت نتائج سامنے آئے، لیکن شاید سب سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ ایسا کوئی تجربہ نہیں کیا گیا جس کی مدد سے مریخ پر موجود جراثیم پر ہونے والی تحقیق کے نتائج کی متبادل سطح پر وضاحت ہوتی۔

’مریخ پر زندگی کے امکان کے خلاف کون سے شواہد موجود ہیں؟ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں۔ مزید یہ کہ لیبارٹری میں ہونے والی تحقیق سے سامنے آیا کہ کچھ غیرزمینی خودربینی اجسام مریخ پر زندہ رہ اور بڑھ سکتے ہیں۔‘

مضمون کے اختتام پر لیون نے ناسا سے کہا کہ وہ ماضی میں مریخ پر کیے تجربات دوبارہ کرے۔ اگلے ممکنہ سفر کے موقعے پرمریخ پر نئے تجربے کے طریقہ کار تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے کہا سائنس دانوں کو بلا کر مریخ پر 40 برس قبل ہونے والے تجربے کے نتائج دکھائے جائیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا وہ واقعی مریخ پر زندگی کے ثبوت ہیں۔

انہوں نے لکھا ’سائنس دانوں کی جیوری ایسا ہی کوئی نتیجہ نکال سکتی ہے جیسا میں نے نکالا کہ وائیکنگ ایل آرمیں مریخ پر زندگی ملی تھی۔ بہرحال اس سلسلے میں ہونے والی تحقیق کے بارے میں امکان ہے کہ وہ اپنے مخصوص طریقہ کار پر کاربند ناسا کے لیے اہم رہنما ثابت ہوگی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق