اسٹیبلشمنٹ  کا ڈیزل اور عوامی پیٹرول

دور اندیش تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان، عمران خان کی ’دوٹکیاں دی نوکری‘ کے خاتمے کے لیے کسی پِری پلان منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف تڑیاں دینے سے لگتا ہے کہ سادہ لوح عمران خان بھی اپنی نوکری پکی سمجھ بیٹھے ہیں۔

ایک مولانا ہی تو کیا، یہ سارے ہی اسٹیبلشمنٹ  کے ڈیزل پر چلنے والے مہرے رہے ہیں۔  اے اہلِ سیاست، اے شائقینِ حکمرانی! تڑیاں لگانی چھوڑو، پتے کی  بات  سمجھو کہ تمہاری پکی نوکری تب لگے گی، جب تمہارے انجن اسٹیبلشمنٹ کے ڈیزل کی بجائے بیلٹ باکس کا پیٹرول چلائے گا۔ (اے ایف پی)

 جمہوری حکومت کے ایک وزیر اپنے چپڑاسی کی کسی کوتاہی پر خفا ہو گئے۔ آپ  نے اسے دفتر میں طلب کرکے جھاڑ پلا دی۔ نائب قاصد ڈانٹ کھا کر نکلا تو کسی نے پوچھا کہ منسٹر صاحب کیا کہتے ہیں؟ پوٹھوہاری چپڑاسی نے غصے سے جواب دیا: ’ایویں اے کچے اساں پکیاں کی تڑیاں لانڑیں (یہ کچی نوکری والے خواہ مخواہ ہم پکی ملازمت والوں کو تڑیاں لگاتے ہیں)۔‘

شمس السیاست، فخر السیاست، بابائے سیاست، مادرِ ملت، قائدِ ملت، قائدِ عوام، دخترِ مشرق۔۔۔سب بلبلے تھے پانی کے۔ ہماری شاندار تاریخ انہیں ووٹ کی بے وقعت پرچی کے ذریعے کچی نوکری پر لگنے والے احمق قرار دیتی رہی ہے۔ ان کی ملازمت کی اوقات ٹی وی پر ’میرے عزیز ہم وطنو برانڈ‘ کے ایک خطاب کی مار ہی ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو کی نوکری کچی تھی۔ جسے وہ عوامی حمایت کے زعم میں پکی سمجھ بیٹھے۔ اپنی کرسی پر ہاتھ مار کر کہتے تھے کہ یہ بڑی مضبوط ہے۔ تڑیاں بہت دیتے تھے۔ 1973 کا پہلا متفقہ آئین، جمہوری کلچر، ایٹمی  پروگرام کی بنیاد، سٹیل ملز، ٹینک بنانے کی واہ فیکٹری، کامرہ کمپلیکس اور اسلامی سربراہی کانفرنس ان کی بڑی خوش فہمیاں تھیں۔ ان تڑیوں سے ایک مردِ مومن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ 1977 میں ساون کی برکھا رُت دہلیز سے آ لگی  تو اُس نے  بھٹو سے یہ کہا: ’تیری دو ٹکیاں دی نوکری، میرا لاکھوں کا ساون جائے۔‘ مضبوط کرسی والے صاحب رات کی تاریکی میں یوں نوکری سے نکالے گئے، جیسے مکھن سے بال نکالا جاتا ہے۔ تڑیاں دینے کی پاداش میں پھر دار سے جھول گئے۔ اپنے ووٹ سے بھٹو کو خیالی مضبوط  کرسی عطا کرنے والے بہت چیخے مگر انہیں کوڑوں اور جیلوں کی وساطت سے سمجھایا گیا کہ تم تو خود کچے ہو، کسی کو پکی نوکری کیسے دے سکتے ہو بھلا؟ کچی نوکری دینے اور لینے والوں نے مگر کچھ نہ سیکھا۔

محمد خان جونیجو کو بھی اسی خوش فہمی نے آلیا تھا۔ غیر جماعتی انتخابات کی پیداوار تھے مگر تڑیاں لگانے کے شوق پر قابو نہ پا سکے۔ کہتے تھے کہ آپ مارشل لا کب اٹھا ر ہے ہیں؟ سب کو سوزوکی پر بٹھاؤں گا۔ بے نظیربھٹو کی  وطن واپسی پر انہیں ریلییاں نکالنے کی اجازت دے  ڈالی۔ جینیوا معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل مشاورت کی خاطر سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس بلالی۔ جو مستند سکیورٹی رِسک تھے انہیں بھی بلا کر برابر بٹھالیا۔ جناب ضیا الحق  کے پسندیدہ  وزرائے کرام  ڈاکٹر محبوب الحق، عطیہ عنایت اللہ اور ڈاکٹر اسد محمد خان کو کابینہ سے فارغ  کر دیا۔ اوجھڑی کیمپ سانحے پر انکوئری کرا ڈالی۔ تڑیاں دینے میں حد سے گزر گئے تو اپنے ایک غیرملکی  دورے  سے واپسی پر دیکھا کہ ان کی ’دوٹکیاں دی نوکری‘  پر 58-2/B کا کلہاڑا چل چکا ہے۔

2 دسمبر 1988 کو پہلی مسلمان خاتون وزیراعظم  کا حلف اٹھاتے، پری پیکر بے نظیر بھٹو کی باڈی لینگویج کہہ رہی تھی کہ وہ  کم از کم  پانچ سال تو رہیں گی۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ان سے بہتر لوگ  تیار ہو رہے ہیں۔ باپ کی طرح وہ بھی تڑیاں لگاتی تھیں۔ مکمل اختیارات چاہتی تھیں۔ سو صرف 18 ماہ ہی ان کی نوکری چل سکی۔ بابا اسحاق خان نے انہیں گنڈاسہ 58-2/B کے ذریعے جانکاری دی کہ اسمبلی سمیت ان کی کچی نوکری  ختم  ہوچکی۔

1993 میں بے نظیر دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ بابا اسحاق رخصت ہو کر پشاور جا چکا تھا مگر اپنا کلہاڑا ایوانِ صدر میں ہی چھوڑ گیا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت  کام آئے۔ بوقت ضرورت فاروق بھائی نے اسی تیز دھار آلے کی مدد سے اپنی بہن کی کچی ملازمت ختم کر دی۔ عوامی حمایت کے جوش میں وزارت عظمیٰ کی نوکری کا شوق مگر ان کے دل سے نہ گیا۔ عہدے کے لالچ کو یہاں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، لہذا ملک کے وسیع تر مفاد میں نظیر کانٹا ہی نکالنے کا فیصلہ ہوا اور 27 دسمبر 2007 کو انہیں دنیا ہی سے آگے بھیج دیا گیا، تاکہ وطن عزیز میں کوئی غلط روایت پنپنے نہ پائے۔

نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم رہ کر بھی اپنی نوکری کی حقیقت سے نا آشنا رہے۔ ہر مرتبہ تڑیاں لگا کر ملازمت سے فارغ ہوتے رہے۔ پہلی دفعہ نوکری ملی تو تڑی لگا بیٹھے کہ ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ 58/2b کا گنڈاسہ ’وحشی جٹ‘ بابا اسحاق مناسب وقت تک کے لیے دفن کر چکا تھا۔ نواز شریف کی بات سن کر اسے لگا کہ یہ آدمی تو اپنی نوکری پکی سمجھ  بیٹھا ہے۔ بابا جذباتی ہوگیا۔ اس مولا جٹ نے ’باہر آ اوئے گنڈاسیا‘ کا نعرہ مستانہ بلند کیا اور اسے سر سے اونچا کرکے اپنے پڑوس میں واقع منتخب ایوان پر چلا دیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے ایوان بحال کیا مگر کشیدگی برقرار رہی تو جنرل وحید کاکڑ نے دونوں کی کچی نوکریاں ختم  کردیں۔ 1997 میں نواز شریف بھاری مینڈیٹ لے کر دوبارہ وزیراعظم  بنے مگر تڑیوں اور پنگے بازیوں سے باز نہ آئے۔

مجبوراً فاتح چہارم پرویز مشرف نے ان کو کچی نوکری سے  برطرف کرکے جیل میں ڈال دیا۔ وہ پارٹی اورعوام کو دغا دے کر ملک سے باہر چلے گئے۔ امید تھی کہ برادر اسلامی ملک میں طویل فارغ وقت کے دوران انہوں نے دنیا کے ساتھ اپنی نوکری کی بے ثباتی پر بھی کافی غوروفکر کیا ہوگا، مگر افسوس کہ وہ خادمین حرمین شریفین کی مہمان نوازی سے ہی لطف اندوز ہوتے رہے۔ 2002 کے انتخابات کے بعد ’اصحاب ق‘ میں سے میر ظفر اللہ جمالی اور چوہدری شجاعت حسین کی بھی مختصر وقت کے لیے کچی نوکری لگی۔ 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تویوسف رضا گیلانی کی کچی نوکری لگی، جواسٹیبلشمنٹ کے ایک اور مہرے اور بدنامِ زمانہ منصف افتخار چوہدری کے ہاتھوں مہا کچی ثابت ہوئی۔

2013 کے انتخابات میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے مگر ماضی کے کسی بھی سبق سے ان کا دامن خالی تھا۔ بے نظیر کی طرح انہیں بھی خوش فہمی تھی کہ عوامی مقبولیت میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا مگر وہ بھی اس حقیقت سے نا آشنا تھے کہ ان سے  کہیں بہتر لوگ تیار ہو رہے ہیں۔ اس مرتبہ نوازشریف کا واسطہ سلسلہ انقلابیہ کے ڈیزل سے چلنے والے ایک اور انجن سے پڑگیا۔ اس انقلابی مہرے نے نواز شریف کی نوکری ختم کرانے کے لیے دھرنے دیے، ریلیاں نکالیں اور احتجاجی جلسے کیے۔ نواز شریف تڑیاں دینے سے باز نہ آئے۔ حتیٰ کہ فاتح چہارم اورآئین کے آرٹیکل چھ کے مجرم کے خلاف کارروائی پر کمربستہ ہوگئے۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار جیسے جان نثاروں کی کاوشیں رائیگاں گئیں۔ پانامہ لیکس سے نوازشریف کا دامن آلودہ  تھا۔ پس ’غیرجانبدار عدلیہ‘ کے توسط  سے ’دوٹکیاں دی نوکری‘ سے فارغ  ہوگئے۔ ان سے یہ توقع فضول ہے کہ وہ جیل میں غورو فکر جیسی کوئی حرکت کریں گے۔ اب اس سے بڑا انہوں  نے کیا ہونا بھلا کہ سمجھ  دار ہوں گے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب نوازشریف اپنی پارٹی، خصوصاً اس کے معتدل رہنماؤں کے لیے ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘ کی مجسم  تصویر بنے کبھی جیل اور کبھی ریمانڈ پر ہوتے ہیں۔ مریم نواز سے لوگوں کو ہمدردیاں بہت ہیں کہ وہ نوکری  لگنے سے پہلے ہی فارغ ہوگئیں۔ انہوں نے تو وزیراعظم  ہائوس میں کئی اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کی صدارت کرکے اورافسران کو احکامات دے دے کر اپنی ’دوٹکیاں دی نوکری‘ کے لیے خاصی پریکٹس بھی کرلی تھی مگر خدا کے کاموں میں کسے دخل ہے؟

پیپلز پارٹی اور ن  لیگ کو 2018 کے عام انتخابات کے شفاف ہونے پر بھی تحفظات ہیں۔ اب دونوں جماعتیں ایک مرتبہ پھر کسی میثاقِ جمہوریت کی تاک میں ہیں۔ یہ کچی نوکریوں والے ایسا ہی کرتے ہیں۔ پہلے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں اورجب  سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی ’سرکاری پارٹی‘  کے مقابلے میں دیوار سے لگایا جا رہا ہے تو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرتے ہیں، جسے حالات بہتر ہوتے ہی ردی کی ٹوکری میں ڈالنا نہیں بھولتے۔

آج ملک کی یہ دونوں بڑی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے ڈیزل سے چلنے والے ایک گھاگ اور مستند انجن  کے زیرِاثر گومگو کی کیفیت میں ہیں۔ دور اندیش تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان، عمران خان کی ’دوٹکیاں دی نوکری‘ کے خاتمے کے لیے کسی پِری پلان منصوبے پر کام  کر رہے ہیں۔ دوسری طرف تڑیاں دینے سے لگتا ہے کہ سادہ لوح عمران خان بھی اپنی نوکری پکی سمجھ بیٹھے ہیں۔ عوام  پرعرصہ حیات  تنگ کرنے والا یہ نااہل ترین حکمران سمجھتا ہے کہ لنگرخانے کھولنے سے وہ مقبول عوامی لیڈر بن چکا ہے، حالانکہ اس کی کچی نوکری تو کسی بنیاد پر بھی آئینی ملازمت نہیں۔

حرف آخر یہ ہے کہ ایک مولانا ہی تو کیا، یہ سارے ہی اسٹیبلشمنٹ  کے ڈیزل پر چلنے والے مہرے رہے ہیں۔ انہیں  کون سمجھائے کہ تمہاری حیثیت محض ایک کٹھ  پتلی جتنی ہے، جس  پر دنیا ہنستی ہے۔ اے اہلِ سیاست، اے شائقینِ حکمرانی! تڑیاں لگانی چھوڑو، پتے کی  بات  سمجھو کہ تمہاری پکی نوکری تب لگے گی، جب تمہارے انجن اسٹیبلشمنٹ کے ڈیزل کی بجائے بیلٹ باکس کا پیٹرول چلائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ