’گاؤں کی عورتیں میلان فیشن ویک تک پہنچا سکتی ہیں‘

اٹلی میں ہونے والے میلان فیشن ویک میں پاکستانی ماڈلز مُشک کلیم اور علیشاہ خان نے ڈیزائنر اَسٹیلا جینز کے بنائے گئے ملبوسات میں واک کی، جن پر دستکاری چترال اور ہنزہ کی خواتین نے کی تھی۔

حال ہی میں فیشن کی دنیا کے سب سے بڑے میلے، میلان فیشن ویک میں ڈیزائنر اَسٹیلا جینز نے پاکستان کے علاقوں کیلاش اور ہنزہ کی ثقافت سے متاثر ہو کر ایک فیشن کلیکشن متعارف کروائی۔ اس کلیکشن کی تیاری کے لیے انہوں پاکستان کا رُخ کیا اور ملک کے دور دراز علاقے چترال اور ہنزہ میں خواتین سے دستکاری تیار کروائی اور پھر اس کی بنیاد پر فیشن شو ترتیب دیا۔

اس ضمن میں انہوں نے پاکستان سے دو ماڈلز کا خصوصی انتخاب کیا جنہوں نے میلان میں اِسٹیلا جینز کے تیار کیے گئے ملبوسات پہن کر ریمپ پر واک کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان کی ماڈلز نے اتنے بڑے پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی کی۔

مُشک کلیم اور علیشاہ خان دونوں ہی اس بات پر بہت خوش ہیں کہ انہوں نے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا ہے۔

یاد رہے کہ فیشن کی دنیا میں میلان، نیویارک، لندن اور پیرس فیشن ویک سب سے معتبر سمجھے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں ان کی وطن واپسی کے بعد انڈپینڈنٹ اردو نے ماڈل مشک کلیم سے کراچی میں ملاقات کی اور پوچھا کہ ان کا یہ سفر کیسا رہا۔

مشک کلیم نے بتایا کہ ڈیزائنر اِسٹیلا جینز نے ایک فیشن کلیکشن پر کام کیا جو پاکستان کی ثقافت سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھی، تو اسی دوران یہ تجویز دی گئی کہ اگر کلیکشن پاکستانی ہے تو چند پاکستانی ماڈلز کو بھی ہونا چاہیے۔ اسی ضمن میں پھر ہمارا انتخاب کیا گیا۔

میلان فیشن ویک کی سلیکشن کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انہیں ویزہ شام پانچ بجے ملا تھا اور رات تین بجے ان کی فلائٹ تھی تو انہیں کچھ زیادہ سوچنے کا وقت نہیں مِلا۔ ’بس بھاگم بھاگ پاکستان سے نکلے البتہ خوشی بہت تھی کہ اتنے بڑے پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی کا موقع مل رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مُشک نے بتایا کہ ’اٹلی کا شہر میلان دنیا بھر میں فیشن کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تین دن پہلے بلایا گیا تھا اور وہاں میک اپ وغیرہ پر بات ہوئی، لیکن اس بات پر حیرانی ضرور ہوئی کی انہوں نے کوئی مشق یا ریہرسل نہیں رکھی بلکہ شو سے صرف دو گھنٹے پہلے ہی ریہرسل کی گئی تھی۔‘

میلان فیشن ویک میں جن ملبوسات کو انہیں زیب تن کرنا تھا ان کے بارے میں مُشک کلیم نے بتایا کہ انہیں کوئی بہت زیادہ دِقّت نہیں ہوئی کیونکہ پاکستان کی اپنی فیشن انڈسٹری بہت آگے جاچکی ہے۔ مُشک کے مطابق پاکستانی لباس صرف شلوار قمیص یا دوپٹے کا نام نہیں ہے بلکہ لبرل ازم اور جِدّت کا بھی نام ہے۔ ’جب مجھے اپنے ملبوسات ملے تو پہلا لباس سیاہ رنگ کا ایک اسٹریپ لیس تھا جس پر کالاش کی کڑھائی تھی۔ یہ کڑھائی پاکستان کے علاقے چترال سے تعلق رکھنے والی کیلاش قبیلے کی خواتین نے کی تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں کس قدر ہنر موجود ہے، یہی لباس تھا جس سے میں نے شو کا آغاز کیا تھا‘۔

اپنے دوسرے لباس کے بارے میں مشک نے بتایا کہ ’اس کا پرنٹ پاکستانی ٹرک آرٹ سے متاثر ہوکر بنایا گیا تھا، اس لیے مجھے بہت فخر محسوس ہوا کہ پاکستان کے مقامی کلچر سے متاثر ہو کر یہ فیشن کلیکشن تیار کی گئی ہے۔‘

اپنے میلان کے تجربے کے بارے میں مشک کا کہنا تھا کہ ’وہاں کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ پاکستانی کی فیشن انڈسٹری کس قدر ترقی کرچکی ہے، وہاں کے لوگوں کا خیال تھا کہ کیونکہ یہ ایک اسٹریپ لیس لباس ہے، اس لیے شاید میں اس میں کچھ الجھن محسوس کروں گی، تاہم سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ پھر شو کے بعد جب رپورٹرز اور کیمرا مین سے میرا تعارف ہوا تو وہ حیران رہ گئے کہ اچھا پاکستان کی فیشن انڈسٹری اتنی جدید ہے، مغرب سے اتنی زیادہ قریب ہے اور ایسے کپڑے آپ پاکستان میں بھی ریمپ پر پہن سکتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کو کافی حیرانی ہوئی کہ پاکستان کی خواتین بھی اس طرح کے کام کرسکتی ہیں۔ مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ میں نے وہاں موجود لوگوں کا پاکستان کے بارے میں تاثر تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔‘

مشک کا خیال ہے کہ ان کے میلان جانے سے پاکستانی ماڈلز کے عالمی سطح پر کام کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوگا، کیونکہ وہاں تک پہنچنے کے بہت سے مراحل ہوتے ہیں اور وہ ایک بہت ہی زیادہ بڑی مارکیٹ ہے۔

مشک کلیم نے بتایا: ’مجھے وہاں جاکر اندازہ ہوا کہ ہم اپنے ملک کو بہت کم تر گردانتے ہیں، کیونکہ وہاں نہ میں مشک کلیم تھی نہ میری ساتھی علیشاہ خان تھیں، ہم وہاں پاکستانی تھے۔ وہاں جو کپڑے دکھائے گئے وہ پاکستان کے تھے، پاکستان صرف وہ نہیں جو خبروں میں نظر آتا ہے، پاکستان میں زمین خوبصورت ہے، لوگ خوبصورت ہیں اور یہاں بہت سے ہنر مند افراد ہیں۔ یہ ہم سب کا گھر ہے بس ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن