’میں نے اپنی معذوری کو مزے سے جیا ہے‘

لاہور میں ایک نیوز چینل سے منسلک صحافی سحر سعید نے اپنی جسامت کی وجہ سے زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا، لیکن ہمت نہیں ہاری۔

پورے دفتر میں قہقہوں کی آواز گونجتی سنائی دی، آواز میں ایسی کھنک کہ سننے والے کے کان فوراً اس آواز کا پیچھا کریں کہ کدھر سے آئی۔ یہ ہیں ہر دلعزیز اور سبھی کی دوست سحر سعید۔

اعتماد ایسا کہ لوگ ان کی مثالیں دیتے ہیں۔ سحر لاہور میں ایک نیوز چینل سے منسلک ہیں اور ان کا سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ سنبھالتی ہیں۔ سات برس سے وہ اس دفتر کی رونق ہیں، تاہم 32 سالہ سحر کے لیے زندگی کا سفر آسان نہیں رہا کیونکہ ان کا قد باقی لوگوں سے خاصہ چھوٹا ہے۔

سحر کا کہنا ہے کہ وہ بہت چھوٹی تھیں جب انہیں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان میں کچھ مختلف ہے کیونکہ وہ اکثر دیکھتی تھیں کہ لوگ ان کو دیکھ کر یا توطنزیہ ہنستے تھے یا انہیں بار بار مڑ کر دیکھتے تھے۔

انہیں یاد ہے کہ ایک بار سکول میں کوئی ٹیبلو شو ہونے جارہا تھا جس میں انہوں نے بچوں کو ڈانس پریکٹس کرتے دیکھا، تو وہ اپنی استانی کے پاس گئیں اور ان سے ٹیبلو میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مگر استانی نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا اور ان سے کہا کہ ’ڈانس تو نہیں مگر کوئی اور کردار آپ کو دیا جاسکتا ہے‘۔ اور استانی نے انہیں ٹیبلو میں ’سائیں‘ کا کردار دے دیا جس کے لیے سحر کو سبز چوغا اور گلے میں ہار پہن کر صرف گھومنا تھا۔ اس دن سحر کو معلوم ہوا کہ وہ سب سے الگ ہیں اور انہیں سائیں کا کردار کیوں دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی انہیں یہ یقین بھی ہو گیا کہ وہ پرفارم کرنا چاہتی ہیں اور وہ ایک دن اپنے آپ کو منوائیں گی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سحر نے بتایا کہ ان کے والدین نے کبھی انہیں خاص بچوں کی طرح نہیں سمجھا بلکہ جس طرح انہوں نے باقی بچے پالے، ویسے ہی سحر کی بھی پرورش کی۔ یہی وجہ ہے کہ سحر وہ سب کچھ کر پائیں جو کوئی بھی عام بچہ کر سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سحر کہتی ہیں کہ ان کی طرح کے بچے اور خاص طور پر لڑکیاں جب پیدا ہوتی ہیں تو والدین اور ارد گرد کے جاننے والے دوست احباب ایک ہی بات سوچتے ہیں کہ ان کی شادی کیسے ہوگی، یہ بچے ماں باپ کے بعد کیا کریں گے یا پھر اسی طرح کے دیگر سوالات کرتے ہیں، لیکن ان کے والدین نے کبھی ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا: ’میرے والدیں نے کبھی میری شادی کو ایشو نہیں بنایا بلکہ انہوں نے کبھی مجھ سے ایسی بات نہیں کی۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے آگے بڑھنے میں مدد دی اور کہا کہ میں ہر وہ کام کر سکتی ہوں جو میں کرنا چاہتی ہوں۔  میرے خیال میں یہی رویہ ہمارے جیسے لوگوں کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ یہ ہمیں کسی بھی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہونے سے بچاتا ہے۔‘

سحر کا کہنا تھا: ’میری زندگی کا یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا، بہت سے مواقع ایسے تھے جب میں اکیلے بیٹھ کر روتی تھی اور خدا سے سوال کرتی تھی کہ میں ہی کیوں، میرے ساتھ ایسا کیوں ہے؟ میں بھی تو سب بچوں جیسی ہو سکتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ دباؤ تب زیادہ ہو گیا جب وہ ہائی سکول اور کالج میں گئیں کیونکہ انہیں یوں لگتا تھا کہ وہ سب کے لیے ایک مزاح کا سامان ہیں مگر پھر گھر والوں کے تعاون اور اچھے دوستوں کے ساتھ نے انہیں مثبت سوچ دی۔

سحر نے بتایا: ’میں نے ایسے رویے دیکھے جن سے میں لوگوں کی ہمارے جیسے افراد کی طرف نفسیات کو سمجھنے لگی تھی اور پھر میں نے اپنے چھوٹے قد اور جسمانی ساکھ سے لطف اندوز ہونا شروع کردیا۔‘

سحر کہتی ہیں کہ اب لوگ ان کے جیسا بننا چاہتے ہیں۔ ’میرے پاس وہ سب کچھ ہے جو ایک نارمل انسان کے پاس ہوتا ہے، میں پُراعتماد ہوں اور میں نے اپنے چھوٹے قد کو اپنی طاقت بنا لیا۔‘

سحر جس میڈیا چینل میں کام کر رہی ہیں وہاں وہ سات برس سے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی دوسری نوکری ڈھونڈھنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں نوکری دی ہی نہیں گئی۔

انہوں نے کہا: ’لوگ اعتبار نہیں کرتے، پورا انٹرویو لینے کے بعد وہ مجھے سر سے پاؤں تک دیکھتے ہیں اور پھر میرے قد اور جسامت کو دیکھ کر سوال کرتے ہیں، ’کیا آپ یہ کام کر لیں گی؟‘ جس پر مجھے بے انتہا افسوس ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے کام پر اعتماد ہے اور وہ جانتی ہیں کہ وہ کتنی قابل ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’میں ایک سکالر شپ پر امریکہ بھی گئی۔ انہوں نے میرے ٹیلنٹ پر مجھے چنا، انہوں نے میرے قد کو نہیں دیکھا۔‘

سحر کے خیال میں میڈیا کے ’جن‘ ان کے قد کو دیکھ کر ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے ہیں جبکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی تقدیر کا فیصلہ خدا نے لکھنا ہے اور جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ بہت اچھا ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی