پاکستان میں سنکیانگ کے پکوان

چین کے سنکیانگ خطے سے تعلق رکھنے والی اویغور خواتین آمنہ اور میمونہ نے راولپنڈی میں مزلق مِیل کے نام سے رستوران کھولا ہے جہاں وسطی ایشیا اور چین کے روائتی اور منفرد پکوان ملتے ہیں۔

آمنہ اور میمونہ چین کے سنکیانگ خطے سے تعلق رکھنے والی اویغور ترک خواتین ہیں۔ ان کے والدین نے سنکیانگ سے پاکستان ہجرت کی تھی۔ ان دونوں بہنوں نے ٹھان لی ہے کہ وہ وسطی ایشیا اور چین کے روائتی اور منفرد پکوان پاکستان میں متعارف کرائیں گی چنانچہ انہوں نے راولپنڈی کی مرکزی شارع مری روڈ پہ واقع کاروباری مرکز ’سلک سنٹر‘ میں مزلق مِیل کے نام سے اپنا ایک رستوران کھولا ہے جہاں وہ خود یہ پکوان تیار کرتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس رستوران کو قائم کرنے کا مقصد یہی ہے کہ یہاں کے لوگ بھی ان کھانوں کی لذت سے روشناس ہوں اور دوسرا یہ کہ بحیثت خواتین یہ انہیں بااختیار بنانے کا بھی بہترین اور معقول ذریعہ بنے۔

آمنہ کا کہنا تھا: ’ہمارے کھانوں کی طویل فہرست ہے جس میں مختلف اقسام کے لغمن (نوڈلز)، منتو (ڈمپلنگز) سوپ اور چاول کی ڈشز شامل ہیں۔ ان کھانوں کی خاص بات یہ کہ یہ ہم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں۔ یہ باقاعدہ ایک ہنر ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’ہمارے لیے یہ بڑا چلینج ہے کہ ہمیں ہر آرڈر اُسی وقت تیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ کھانے آپ پہلے ہی بنا کر نہیں رکھ سکتے اسی وجہ سے ہمارے گاہکوں کو نسبتاً 10 سے 15 منٹ زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے مگر یہ کہ الحمدلله بڑی پذیرائی ملتی ہے۔ ہم نے ابھی کوئی ایڈورٹائزنگ نہیں کی پھر بھی لوگ دور دور سے آتے ہیں اور بڑی تعریف کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ مختلف فوڈ کلچر سے وابستہ ہونے کے باوجود پاکستانی یہاں آ کر منتو، لغمن، پھرمن، سومن، سوئق عش، چھیوچی، پلاؤ، فرائڈ ویجی رائس ومنچورین اور دیگر کھانوں سے لطف اندوز ہوتے اور بڑی داد دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’لوگ زیادہ تر ڈمپلنگز اور نوڈلز بہت پسند کرتے ہیں۔ ہم لوگ نوڈلز بھی خود بناتے ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ پکوان تیل کے بغیر بنائے جاتے ہیں اس لیے یہ صحت کے لیے بھی اچھے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’عموماً کہا جاتا ہے کہ چائنیز کھانے پھیکے ہوتے ہے، ان میں ذائقہ نہیں ہوتا تو ایسا نہیں ہے۔ ہمارے کھانے جو بھی کھا رہے ہیں پسند کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ مستقل آنے والے کسٹمرز نے تو اب چوپ سٹکس سے بھی کھانا شروع کر دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا