’سیکس کا خفیہ دھندا منظرعام پر لانے کے لیے شناخت چھپانی پڑی‘

شیخ کا خیال ہے کہ میں دانتوں کاعراقی ڈاکٹر ہوں اور لندن سے بغداد پہنچا ہوں۔ شیخ نہیں جانتے کہ میرا خفیہ کیمرا ان کی ریکارڈنگ کر رہا ہے۔ وہ عارضی دلہن کے طور پر میرے لیے 12 سالہ لڑکی تلاش کرنے پر بہت خوش ہیں۔

کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی عمل کا دھندہ کرنے والے وہ طاقتور عناصر ہیں جو معاشرے میں بااثر مقام کے مالک ہیں(تصویر: بی بی سی)

’کیا آپ میرے لیے ایک ایسی لڑکی تلاش کرنے پر رضامند ہیں جس کی عمر 12 برس کے لگ بھگ ہو؟‘

میں یقین نہیں کر سکتا کہ یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے ہیں۔ میں عراقی دارالحکومت بغداد کے وسط میں ہوں اور میرے سامنے ایک شیعہ شیخ کھڑے ہیں جنہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ شیخ ایک شادی دفتر چلاتے ہیں جو مذہبی بنیاد پر شادیوں کے لیے اشتہار دیتا ہے۔ جو کچھ وہ اشتہار میں نہیں دیتے وہ یہ ہے کہ وہ متعہ شادیاں بھی کرواتے ہیں۔ متعہ عارضی شادی ہوتی ہے جس کے تحت یقینی بنایا جاتا ہے کہ نوجوان لڑکی کے ساتھ جنسی عمل حلال یا اسلام کے تحت جائز ہے۔

میں نے افواہیں سنی ہیں کہ شیخ اس مذہبی رعایت کو لڑکیوں کی جسم فروشی کے لیے استعمال کرنے پر تیار ہیں، چاہے لڑکیوں کی عمر 12 برس ہی کیوں نہ ہو۔

شیخ کو علم نہیں ہے کہ میں صحافی ہوں، اور میرا تعلق برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی عربی سے ہے۔ شیخ کا خیال ہے کہ میں دانتوں کا ایک عراقی ڈاکٹر ہوں جو لندن سے بغداد پہنچا ہے اور  اپنے کاروباری سفر کو زیادہ پُر لطف بنانے کے لیے نوجوان لڑکی کی تلاش میں ہے۔ شیخ نہیں جانتے کہ میرا خفیہ کیمرہ ان کی ریکارڈنگ کر رہا ہے۔ وہ عارضی دلہن کے طور پر میرے لیے 12 سالہ لڑکی تلاش کرنے پر بہت خوش ہیں۔ بلاشبہ وہ اس کا معاوضہ وصول کریں گے۔

میں نے سوال کیا: ’اگر میں نے لڑکی کو تکلیف پہنچائی تو کیا ہو گا؟‘ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ شیخ اس بارے میں کیا جواب دیتے ہیں کہ میرے جیسا بالغ مرد ایک نوجوان لڑکی کو جسمانی یا نفسیاتی نقصان پہنچا سکتا ہے؟ میرا خفیہ کیمرہ میرے ہاتھ میں چھپا ہوا ہے اور اس کا رخ شیخ کے چہرے کی طرف ہے۔ میں کرسی پر پیچھے کی جانب جھکتے ہوئے عدم دلچسپی کا اظہار کرتا ہوں۔

شیخ نے جواب دیا کہ ’اس کا کنوارہ پن مت ختم کریں لیکن پیچھے سے سیکس کرنا ٹھیک رہے گا۔ اسے تکلیف ہو تو معاملہ آپ کے اور اس کے درمیان ہے کہ وہ درد برداشت کر سکتی ہے یا نہیں۔‘

شیخ نے مجھے کچھ مشورے دیے۔ ’آپ جو کچھ بھی کریں لڑکی کے خاندان سے مت ملیں، نہ انہیں یہ پتہ چلنے دیں کہ آپ کہاں رہتے ہیں۔ حقیقت میں ایسی لڑکی بہتر ہے جس کا خاندان نہ ہو۔‘ ان مشوروں کے  بعد میں شیخ کے دفتر سے نکل آیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جو کچھ میں نے سنا مجھے اس پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ جیسا کہ ہماری ایک سال تک جاری رہنے والی تحقیقات سے پتہ چلا کہ شیخ اس قسم کی خدمات فراہم کرنے والے واحد مذہبی شخصیت نہیں ہیں۔ درجنوں ملاقاتوں اور کئی بار کی خفیہ ریکارڈنگ کے بعد مجھے ٹھوس ثبوت مل گیا کہ مذہبی شخصیات، جن میں سے بعض عراق میں بڑے اثر و رسوخ کی مالک ہیں، نہ صرف اجازت دیتی ہیں بلکہ ملک میں حالات کی سب سے زیادہ ماری ہوئی کم عمر لڑکیوں کے ساتھ معاوضے پر جنسی تعلق قائم کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔

میں عارضی شادی کے تصور سے آگاہ تھا اور بدقسمتی سے عراق سمیت مشرقِ وسطیٰ کے بعض ملکوں میں بچوں کی شادی عام سی بات ہے۔ لیکن حقیقت میں مجھے جس بات نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، وہ یہ جاننا ہے کہ ایسے مرد موجود ہیں جو دو قسم کی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ ایسی لڑکیاں اور نوجوان خواتین تلاش کرتے ہیں جو موصل میں لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئیں یا خاندان کے رویے سے تنگ آ کر گھر چھوڑا جس کے بعد وہ سڑک پر آ گئیں۔

کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی عمل کا دھندا کرنے والے وہ طاقتور عناصر ہیں جو معاشرے میں بااثر مقام کے مالک ہیں۔ اگر کسی کو پتہ چل جائے کہ میں کیا کر رہا ہوں تو قتل کر دیا جاؤں۔

میں نے پتہ نہیں چلنے دیا کہ میں بی بی سی کے لیے کام کرتا ہوں اور عراق سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے اپنی فوٹیج سکیورٹی افسروں کے ہاتھ لگنے سے بھی بچا لی۔

اب وقت تھا ویڈیوز اور متاثرہ خواتین کی شہادتوں کو ایک جگہ رکھنے کے بعد فلم کے انتظار کا کہ وہ کب منظرعام پر آتی ہے۔ فلم کا عنوان ہے: ’انڈر کور وِد دا کلرکس: عراق سیکرٹ سیکس ٹریڈ۔‘

عراقی خواتین اور لڑکیاں ایسے خوفناک تجربات سے گزری ہیں کہ جنہیں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے سوچا کہ کیا ہماری ٹیم کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا یا ہمارے اُن ذرائع کے ساتھ اور بھی زیادہ برا ہو گا جنہوں نے ہمیں بچانے کے لیے بے حد جدوجہد کی؟ کیا یہ فلم کرپٹ ملاؤں کے احتساب کا سبب بن سکتی ہے اور اس قسم کے مکروہ دھندے کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ کیا فلم سے کسی کی زندگی ہی بدل سکتی ہے؟

مجھے ان سوالات کا جواب جاننے کی خواہش تھی، خاص طور پر عراق میں رہنے والے لوگوں کے جواب کا۔ کچھ روز بعد میں یوٹیوب کے عربی ورژن پر لوگوں کے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔ ایک تحریر پر میری نظریں خاص طور پر رک گئیں۔ لکھا تھا: ’تحریر سکوائر میں ہونے والے مظاہرے میں آئیں۔ کل ہم بدعنوان مذہبی رہنماؤں کو حکومت سے الگ کرنے کا مطالبہ کریں گے۔‘ بظاہر ایسا لگا کہ کسی ایسے شخص کو مخاطب کیا گیا تھا جو فلم دیکھ رہا تھا۔

میں اب بھی اپنی شناخت ظاہر نہیں کر سکتا اور نہ ہی میں کچھ عرصے تک عراق واپس جا سکوں گا لیکن جب میں اُن شیخ صاحب جنہوں نے مجھے ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ سیکس کی پیش کش کی یا ان خواتین کی آنکھوں میں دکھائی دینے والی جھلک کے بارے میں سوچتا ہوں جن کے ساتھ ساتھ بی بی سی عربی نے بات کی تو اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اہم بات حقیقت کو منظرعام پر لانا ہے۔


مصنف بی بی سی کے انڈرکور رپورٹر ہیں، جن کا نام تحفظ کی غرض سے مخفی رکھا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا