غداری کا ٹائٹل: اسی خاطر تو قتلِ عاشقاں سے منع کرتے تھے

اگر سیاست دان اور مقتدرہ سمجھتی ہے کہ غداری کی سند ایک حقیقت ہے، تو پھر یہ طے کرنا ضروری ہو گا کہ غدار ہوتا کون ہے، اور دوسرے غداری کی سند جاری کرنے کا مجاز ادارہ کون سا ہو گا؟

جنرل مشرف کے خلاف بروقت فیصلہ سنا کر قانونی اشرافیہ تاریخ کا دھارا صحیح معنوں میں موڑ کر اپنا ہر گناہ دھو سکتی تھی، مگر اس نے موقع گنوا دیا (اے ایف پی)

کہا جا رہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار کسی آمر کے خلاف عدالت نے کوئی فیصلہ دیا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ عدلیہ کی اس تاریخ کو دھونے میں کامیاب ہو جائے گا جس کے تصور سے خود عدلیہ ہراساں ہے۔

سچ حالانکہ یہ ہے کہ عدالت نے جنرل یحییٰ خان کے خلاف 18 سالہ عاصمہ (جہانگیر) جیلانی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی تھی۔ عدالت نے اس سماعت کو تب تک کھینچے رکھا جب تک یحییٰ خان کے دانت گر نہیں گئے اور آنت سکڑ نہیں گئی۔ حالات مکمل طور پر سازگار ہو گئے تو یحییٰ خان کو غاصب قرار دے دیا گیا۔ سچ یہ ہے کہ یحییٰ خان کے خلاف آنے والا یہ فیصلہ کوئی مثال قائم نہیں کر سکا۔ یہ فیصلہ بروقت ہوتا تو آج ہمارا اجتماعی حافظہ ہر گز یہ نہ کہتا کہ تاریخ میں پہلی بار کسی جرنیل کو سزا سنائی گئی ہے۔ اجتماعی حافظے کو بجا طور پر عاصمہ جہانگیر یاد ہے، فیصلہ یاد نہیں۔ ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں۔

جنرل مشرف کے خلاف بروقت فیصلہ سنا کر قانونی اشرافیہ تاریخ کا دھارا صحیح معنوں میں موڑ کر اپنا ہر گناہ دھو سکتی تھی، مگر اس نے موقع گنوا دیا۔ اس کا موقع وہی تھا جب وزیراعظم میاں نواز شریف کا اسی کیس میں دلچسپی کی بنیاد پر گھیراؤ ہو رہا تھا۔ جب عوامی جھتے سڑکوں پر کھلے چھوڑ دیے گئے تھے اور اپنی پسند کا رہنما چُننے والے سیاسی کارکنوں پر عرصہ حیات تنگ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ یہ وہ موقع تھا جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں تو نہیں تھے، مگر پاکستانی سیاست میں وہ ابھی غیر متعلق نہیں ہوئے تھے۔ یہی موقع تھا کہ جب میاں نواز شریف کو میڈیا نے اجتماعی طور پر کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا اور مقتدرہ نے رات کے آخری پہر پچھلے دروازے کی کنڈی کھول کر پرویز مشرف کو پتلی گلی سے نکال دیا۔ وہ دبئی کے برج الخلیفہ سے بیٹھ کر پاکستان کی سیاسی صورتِ حال پر آزادانہ تجزیہ دیتے رہے اور وزیر اعظم کو ایوان سے بے دخل کر کے میڈیا سے کہہ دیا گیا کہ اس کی اور اس کی بیٹی کی شکل ٹی وی کے پردے پر نظر نہیں آنی چاہیے۔

عدالتی نہیں، سیاست کی دنیا میں عوامی فیصلے اہم ہوتے ہیں۔ جمہور سے بڑھ کر کوئی حجت نہیں ہے اور ووٹ سے بڑی کوئی شہادت نہیں۔ ہم اُس سزا کو مسترد کرتے ہیں، جو دی گئی ہے۔ اُس بات کی تائید کرتے ہیں، جس کی سزا دی گئی ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے آئین سے انحراف کیا یا نہیں، اس کے لیے عدالت کی تائید کی کچھ ایسی ضرورت نہیں۔ عوامی عدالت میں جنرل پرویز مشرف کے اس اقدام کو انحراف سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان کے پاس بندوق تھی تو اقتدار میں تھے۔ جب سیاسی جماعت بنا کر میدان میں آئے تو عوام نے ان کی ذات والا صفات کو درخورِا عتنا ہی نہ سمجھا۔ گذشتہ پانچ سال کا عدالتی ریکارڈ تاریخ کے حوالے ہو چکا۔ یہ وہ ریکارڈ ہے جس میں منتخب وزرائے اعظم کی تذلیل کی گئی ہے۔

اس ریکارڈ میں جج صاحبان کی طرف سے دیے گئے ناولوں کے تکلیف دہ حوالے اور طنز آمیز شاعری موجود ہے۔ اس ریکارڈ میں ہر وہ جملہ محفوظ ہے جس میں سیاست دانوں، صحافیوں، بزرگ وکلا اور ڈاکٹروں کی تحقیر کی گئی۔ اِس ریکارڈ کو اس بنیاد پر دھندلایا نہیں جا سکتا کہ عدالت نے جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب اس فیصلے کا سہرا آپ عوام کے سوا کس کے سر باندھ سکتے ہیں؟ اس کیس کے پیچھے سے میاں محمد نواز شریف کو ہٹا دیا جائے تو تصور کرنے کو باقی کیا رہ جاتا ہے؟ کسی بھی عصبیت اور بخل سے بالکل بالا ہو کر یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ میاں محمد نواز شریف ہی وہ واحد شہری ہیں جنہوں نے پرویز مشرف کے خلاف دائر ہونے والے کیس کی غیرمعمولی قیمت چکائی ہے۔ وہ قیمت، جو ماضی کے کفارے ہی ادا نہیں کرتی بلکہ زمانہِ حال کو اپنا مقروض کر دیتی ہے۔ نواز شریف کو قیمت اس لیے چکانی پڑی کہ جو بات جس وقت کہنے کی تھی، وہ بات اپنی ہی جماعت کی مخالفت کے باوجود انہوں نے اسی وقت کہی۔

کتنے ہی تحقیقاتی کمیشن اب قائم ہوں اور کتنی ہی کتابیں لکھ دی جائیں، فضیلت تو اس پلے کارڈ کو ہی حاصل رہے گی جو ڈھاکہ آپریشن کے خلاف غلام جیلانی مال روڈ پہ تنہا اٹھائے کھڑے تھے۔ یحییٰ خان کے خلاف عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ، مگر کمسن عاصمہ جہانگیر کو یاد رکھنا تاریخ پر اس لیے لازم تھا کہ اس نے آمر کے ہوتے ہوئے اس کے منصب کو چیلنج کر دیا تھا۔ جن کے نام کے آج ڈنکے پٹ رہے ہیں، وقت کے گزر جانے کا انہوں نے انتظار کیا ہے۔ اس پر تحسین کے ہزار ڈونگرے برس سکتے ہیں، ماضی بعید چھوڑ ماضی قریب ترین کا کوئی کفارہ ادا کرنے کو بھی یہ قیمت بہت کم ہے۔

اس کیس کو عاصمہ جیلانی کیس پر یہ فوقیت بہرحال حاصل ہے کہ اب کبھی ایسا فیصلہ آیا تو کوئی یہ نہیں کہے گا کہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک، یہ کیس سیاست کے پرہجوم قبیلے میں جمہوری اور غیر جمہوری اذہان کے بیچ ایک واضح لکیر کھینچ رہا ہے۔ شہر کی ہوا اب واضح طور پر دیکھ پا رہی ہے کہ کون سے چراغ سرِ رہگزار جلتے رہے اور کون سے چراغ اپنی لو لپیٹ کر طاقوں میں پڑے رہے۔

آزمائش کی ان منہ زور ہواؤں میں سب سے پہلے تحریک انصاف کے چہرے سے نقاب سرکا ہے۔ اس پورے کیس میں حکومت خاموش رہ کر کارکنوں کو عمر بھر کی خفت و ہزیمت سے بچا سکتی تھی، مگر اس نے ہمیشہ کی طرح وہ راستہ چُنا جس میں نیک نامی کا امکان کم سے کم ہو۔ بے بسی کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ پی ٹی آئی کے خوش فہم کارکنوں کے پاس یہ تک کہنے کا موقع بھی نہ رہے کہ دیکھیے صاحب ایک آمر کے خلاف فیصلہ بھی انجامِ کار ریاستِ مدینہ میں ہی سنایا گیا۔ جسٹس وقار سیٹھ کے ڈی چوک والے جملے کو بنیاد بنا کر آج حکومت نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ پرویز مشرف کا دفاع کر سکتی تھی، مگر فیصلہ آنے سے پہلے ہی عدالت پہنچ کر انہوں نے بتا دیا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ مورخ تاریخ کے پنوں پر اب عمران خان صاحب کی سمت کا حوالہ ہی درج نہیں کرے گا، وہ کاغذات بھی ساتھ منسلک کرے گا جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ممکنہ فیصلے کو کسی بھی طور ہرو برو کر دیا جائے۔ یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے۔

 دوسری وجہ لفظ ’غدار‘ ہے۔ اس لفظ نے مقتدرہ اورعوام کا دکھ سانجھا کر دیا ہے۔ عوام کو تو 1958 ہی سے احساس ہے کہ غداری کا ٹائٹل کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے، مگر مقتدرہ کے لیے آج تک یہ ایک ٹائٹل ہی تھا۔ اب جب اپنے ہی دام میں صیاد آیا ہے تو اندازہ ہوا کہ اس لفظ میں کرب کے کیسے کیسے معانی پنہاں ہیں:

اسی خاطر تو قتلِ عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسفِ بے کارواں ہو کر

خیر کی بات یہ ہے کہ غداری کے اس لفظ نے عوامی نمائندوں اور مقتدرہ کے حلقوں کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اس بات پر بحث کریں کہ کیا غداری کے ٹائٹل کو سیاسی دستاویز میں کوئی مقام حاصل ہونا چاہیے؟ اگر نہیں، تو پھر تمام سٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر اس بات کا فیصلہ کرلینا چاہیے کہ ان تمام چھاپے خانوں کو تالے لگادیے جائیں گے جہاں سے غداری کی اسناد شائع ہوتی ہیں۔ فتویٰ سازی کے ہراُس کارخانے کو ضبط کر لیا جائے گا جس کی چمنیوں سے اٹھنے والا دھواں ملک کی سیاسی فضاؤں کو ہر بار آلودہ کر دیتا ہے۔

اگر سیاسی نمائندے اور مقتدرہ کے حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ غداری کی سند ایک حقیقت ہے، تو پھر دو باتیں طے کرنا ضروری ہوں گی۔ ایک، غدار ہوتا کون ہے؟ دوسری، غداری کی سند جاری کرنے کا مجاز ادارہ کون سا ہو گا؟

ظاہر ہے کہ غدار ایک ایسے شخص کو تو قرار نہیں دیا جا سکتا کہ جو آئینی بنیادوں پر اپنا علاقائی، بنیادی اور انسانی حق مانگتا ہو۔ ایسا رہنما بھی نہیں ہو سکتا جو عوام کی رضامندی سے پاکستان کی داخلہ اور خاص طور سے خارجہ پالیسی کا کوئی واضح سیاسی رخ متعین کرنا چاہتا ہو۔ ایسا شخص بھی غدار نہیں ہو سکتا جو علم اور اخلاق پر عقیدے کی اجارہ داری کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ نہ وہ شخص ہوسکتا ہے جو صنف اور جنس، رنگ اور نسل سے بالاتر ہو کر شہری حقوق کا تقاضا کرتا ہو۔

غدار تو پھر وہی شخص کہلایا جا سکتا ہے جو آئین کو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دے کر کوڑے دان میں پھینکنے لائق سمجھتا ہو۔ جو جمہوری بنیادوں پر منتخب حکومت کا دھڑن تختہ کرکے آئین کو معطل کردیتا ہو۔ اگر ہم اس بات پر اتفاق کرلیں کہ آئین سے سرمو انحراف کرنے والا فرد ہی دراصل غدار ہوتا ہے، تو پھر اس نتیجے پر پہنچنا ہمارے لیے آسان ہو جائے گا کہ غداری کی سند جاری کرنے کا اختیار بھی خود آئین کے پاس ہی ہو گا۔

فاطمہ جناح، باچا خان، شیخ مجیب، صمد خان شہید، غوث بخش بزنجو، شیخ ایاز، فیض احمد فیض، ولی خان، ذوالفقار بھٹو، بی بی شہید، محمود خان اچکزئی اور نواز شریف یقیناً غدار ہو سکتے ہیں، مگر یہ سند جنرل ایوب خان، یحییٰ خان، جنرل نیازی، جنرل ضیا اور جنرل مشرف جاری نہیں کر سکتے۔ ان سب کو جمہور کی نمائندہ دستاویز کے حضور پیش ہو کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ جیسے بے نظیر بھٹو اورعاصمہ جہانگیر نے کیا تھا۔ جیسے میاں نواز شریف نے کیا ہے۔

پسِ تحریر: میں ذاتی طور پر اس حق میں ہوں کہ لفظ غدار سے خلاصی حاصل کرلینی چاہیے۔ آئین سے انحراف ایک ناقابلِ معافی جرم ہے، اس کی سزا لازم ہے۔ مگر ہماری سیاست اور عمرانی معاہدوں کو غدار اور کافر جیسی اصطلاحات کی آلودگیوں سے پاک ہونا چاہیے۔ سوال مگر پہلے قدم کا ہے۔ عوام پہلے ہی بہت آبلہ پا ہیں۔ پہلا قدم ریاست اٹھائے، تبھی دور روشن کہیں بہار کا امکان ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ