آپا، آئی ایم سوری، میں پچھلے ایک سال آپ کو فون تک نہیں کر سکا !

بہت کچھ ہے جو کہنے سے رہ گیا ہے، بعد میں یاد آتا رہے گا۔ اسی فیس بک پر جہاں آپا سے ملا تھا وہیں وال پہ سکرول کرتے کرتے انگوٹھا دوبارہ گھوم گیا جب ثویلہ بہن کا لکھا دکھائی دیا کہ صدیقہ آپا فوت ہو گئیں۔

آپا کے لیے بڑی عام سی بات تھی یہ کہہ دینا کہ داستان سرائے آ جاؤ، فقیر کا بس نہیں چلتا تھا کہ الٹی قلابازیاں لگائے۔(تصویر۔ امجد شیخ، فیس بک)

میں ایسے ہی ایڈیٹر پیدا نہیں ہوا تھا۔ بچپن میں کتابیں پڑھنا اچھا لگتا کیوں کہ سست تھا۔ باقی کھیلوں میں جان مارنی پڑتی ہے، اس میں سکون سے گھر بیٹھے دنیا بھر کی سیر ہو جاتی تھی۔ ادب کا بھی کوئی شوق نہیں تھا۔ بچوں کے رسالے، عمران سیریز، جاسوسی، سسپنس سب کچھ رج کے پڑھا۔ میرے باپ کی پسند سب رنگ تھا۔ ان کو شاید امپریس کرنے کے لیے میں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا۔

تب پتہ لگا کہ یہ ترجمے اور یہ ادب اور یہ کہانیاں، یہ سب کیا ہوتا ہے۔ پھر تارڑ صاحب کے راستے اس دنیا میں پیر رکھا۔ روسی ادب سے دور رہا، اپنے دکھ کم ہیں جو بندہ ان کے بھی پالے۔ انگریزی میں پڑھنے کا مزہ نہیں آتا تھا۔ وہ اب کوئی پینتیس سال کی عمر میں آنا شروع ہوا پتہ نہیں کیوں۔ تو خیر، بس جو ہاتھ لگا پڑھتے پڑھتے بڑا ہو گیا۔

 

خوش قسمتی ہے کہ فیس بک آ چکا تھا۔ چن چن کے سارے ادیب شاعر اکٹھے کرنے شروع کر دئیے۔ وہ سب بڑے لوگ تھے۔ فرینڈ ریکوئسٹ بھیجتا تھا تو ایڈ کر لیتے تھے۔ میں صرف فین تھا۔ بلکہ ایک ایسا لڑکا جو ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے، ان کے آٹو گراف لینے کے خواب دیکھتا تھا۔ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں، دس سال یا گیارہ سال، اس سے پیچھے کیا ہو گا۔ تو جن لوگوں کو میں دور بہت دور سے بس پڑھتا تھا، یا سوچتا تھا، وہ ساتھ ایڈ ہو گئے۔ بڑا مزہ آنے لگا۔ وہ تو اپنے جیسے ہی لگتے تھے۔ ایک لہر آئی اور میں نے زندگی کی پہلی تحریر لکھی۔ جو دوست قریبی ہیں، یا فیس بک پر شروع سے فقیر کے ساتھ ہیں، انہیں یاد ہو گا کہ وہ میرے باپ کا خاکہ تھا۔ 

ہزار بارہ سو لفظوں کی وہ تحریر میں نے فیس بک پر لگا دی۔ آج کل کی طرح اردو ٹیکسٹ نہیں لگتا تھا۔ ان پیج کی فوٹو بنا کے لگانی پڑتی تھی۔ نیا تجربہ تھا، جیسے تیسے کر لیا۔ خاکہ جب لگا دیا تو اب دنیا کو اس طرف متوجہ کیسے کیا جائے کہ بھائیو پہلا انڈہ دیا ہے، آ کے دیکھ تو جاؤ۔ تو بس سارے بڑے بڑے لوگوں کو ٹیگ کر دیا۔ چالیس پینتالیس لوگ، خدا مجھے معاف کرے، بغیر کوئی شرم کیے، اس پر ٹیگ کر دئیے۔ وہ اچھا دور تھا، فیس بک پر ٹیگ کرنے سے کوئی مائنڈ نہیں کرتا تھا۔ تو ہر ایک نے ذاتی طور سے پڑھا اور کمنٹس میں کافی داد اکٹھی ہو گئی۔ صدیقہ آپا نے بھی پڑھا تھا۔ ان کا لائک مل گیا۔ مزید کوئی بات نہیں ہوئی۔

سال دو سال گزر گئے۔ ایک دن آپا کا میسج آیا کہ اپنا پتہ بھیجو تمہیں ادب لطیف بھیجنا ہے۔ آپ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ چار پانچ چیزیں لکھنے والے ٹٹ پونجیے کو ادب لطیف کا ایڈیٹر پوچھ لے اور جو اس کی حالت ہو، تو وہ آپ کیسے سوچ سکتے ہیں؟ دیا، پتہ دیا، فیصل ٹاؤن میں رہتا تھا۔ تیسرے دن شاہد بخاری ادب لطیف کی ایک کاپی دے گئے۔ کیا نشہ تھا؟ ایک کل کے بچے کو اتنی اہمیت دی صدیقہ بیگم نے؟ سوچتا تھا اور خود اپنی بلائیں لیتا تھا۔ پڑھ لیا رسالہ۔ اب دل چاہتا تھا کہ اس میں کچھ لکھوں اور چھپ جائے۔ میسج کیا، صدیقہ بیگم کا فون نمبر لیا، انہوں نے کہا بھیج دو۔ جو بھی تھا، شاید آرٹ، چائے، شام کے عنوان سے تھا، تو وہ چھپ گیا۔ ایک ہزار لوگوں کے پاس میری تحریر گئی ہو گی؟ یہ سوچ سوچ کے بھائی ساتویں آسمان پہ تھا۔ اس سے پہلے ایک دو چیزیں ادھر ادھر چھپی ہوں گی لیکن ادب لطیف؟ مطلب نیکسٹ لیول تھا بھائی! 

ایک دن ان کا میسج آیا کہ فلاں کتاب پڑھ لو اور فلاں تاریخ کو داستان سرائے آ جاؤ، بک کلب شروع کرنا ہے جس میں ینگ لوگ زیادہ ہوں گے، تو وہ کتاب لو اور پڑھو اور تم آ جاؤ۔ یہاں سے میں آپا لکھوں گا چونکہ وہاں جانے کے بعد وہ آپا کہلائیں، سب انہیں یہی کہتے تھے۔ 

آپا کے لیے بڑی عام سی بات تھی یہ کہہ دینا کہ داستان سرائے آ جاؤ، فقیر کا بس نہیں چلتا تھا کہ الٹی قلابازیاں لگائے۔ اشفاق احمد وہیں جا چکے تھے جہاں آپا اب ہیں لیکن بانو قدسیہ تب زندہ تھیں۔ سب سے بڑا لالچ ان سے ملنا تھا اور اس کے بعد یہ کہ حسنین جمال تو ادیبوں میں بیٹھے گا؟ کیسے ہو گیا، تو اتنا اہم کیسے ہو گیا؟ یہ آپا کی مہربانی تھی۔ جان نہ پہچان اور بس بلا لیا۔ کتاب فریگرنس آف گاوا تھی۔ ایک ادیب ہوتے ہیں مارکیز، تو میں نے بھی ان کا بس نام سنا تھا، انگریزی پڑھنے سے بھاگتا تھا، انہیں کیوں پڑھتا اور پھر ان کی وہ ڈسکشن جو انہوں نے اپنے کسی دوست سے اپنے بچپن کے بارے میں کی تھی، اس پر لکھی کتاب کیوں پڑھتا؟ خیر یہ دریا بھی پار کرنا پڑا، کہ لالچ اتنا بڑا تھا۔ حسنین جمال داستان سرائے سے ہو آیا۔ آپا ایسی اچھی لگیں جیسے اپنی کسی دادی نانی سے بندہ بیٹھ کے باتیں کرتا ہے، تو ان سے گپ شپ ہو گئی۔

دو تین بک کلب ہو گئے تو ایک دن آپا نے کہا کہ تم مجھے کچھ چیزیں ایڈٹ کر کے دو میرے پاس کام بہت زیادہ ہے۔ وہ غریب جیب سے پیسے لگا کے ادب لطیف نکالتی تھیں اور اس کے سارے کام یا تو خود کرتی تھیں یا بھاگ دوڑ کر آس پاس کے بندوں سے مدد لیتی تھیں۔ تو کاٹا پیٹ کر لمبے لمبے مضمون آدھے کر کے انہیں بھیج دیے۔ کسی کے لکھے پر قینچی چلانے کی ایک کمینی سی خوشی جو کسی بھی نئے ایڈیٹر کو ہو سکتی ہے، ہوئی۔ تو آپ کا بھائی اب پرانے لکھنے والوں کی تحریر سیدھی کرے گا، آں ہاں؟ یعنی اتنا عظیم ہو گیا تو حسنین؟ آپا کی مہربانی تھی، ان کا اعتماد تھا، میں اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ واقعی بس یہ سب کچھ انہوں نے ہی شروع کروا دیا ورنہ اپنی کیا اوقات تھی، یا ہے؟ تو شروع شروع میں دو چار مہینے انہوں نے کچھ مضمون دیے، میں وہاں ان کے گھر جا کر لے آتا، سیدھے پدھرے کر کے واپس دے جاتا۔ ان کا گھر بہت بڑا تھا۔ ایسے گھر میں نے کم دیکھے تھے۔ لیکن بہت خوبصورت۔ انیس بھائی اور ثویلہ بہن، وہ سب لوگ وہاں رہتے تھے۔ تب انیس بھائی بھی زندہ تھے۔ وہ تو بہت ہی جلدی چلے گئے۔ انیس بھائی اشفاق احمد کے بیٹے تھے اور ثویلہ صدیقہ آپا کی بیٹی۔ تو وہ جو کہا تھا کہ صدیقہ آپا کے لیے داستان سرائے بلوا لینا عام سی بات تھی، وہ یوں تھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی دوسری رشتہ داریاں اور پکی والی دوستی تھی آپا کی اور داستان سرائے کے رہنے والوں کی۔ اس گھر میں آپا والا کمرہ اب بھی ویسا ہی ہو گا۔ وہ لمبے کوریڈور کے بعد شاید لاؤنج کی سائیڈ سے گزر کے آخر میں لیفٹ پر، اب تو یاد بھی نہیں، لیکن ہر دسمبر ان پہ بھاری ہوتا تھا۔ وہ یا اس کمرے میں ہوتی تھیں، یا ملک سے باہر یا ہسپتال۔ سردیاں کاٹ جانا ہر بار ان کے لیے اتنا ہی مشکل ہوا کرتا تھا۔ 

ایک دن آپا نے کہا کہ اب تم معاون ایڈیٹر ہو، چلاؤ ادب لطیف۔ میرے باپ کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی۔ میرے بعد ہر بڑی بات جس کا تعلق لکھنے لکھانے سے ہو، وہ ان کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی میرے لیے۔ تو وہ رسالہ جس کے ایڈیٹر انتظار حسین جیسے بڑے لوگ گزرے ہیں اور جس میں فیض صاحب جیسے لوگ اور منٹو جیسے لوگ چھپتے تھے، وہ حسنین چلائے گا؟ بے شک رسالے پہ زوال آ چکا تھا لیکن نام تو ادب لطیف تھا نا؟ مجھے اپنی صلاحیت اور رتبے کا برابر پتہ ہے لیکن سوچیں یار، اردو کا سب سے پرانا رسالہ ہو اور آپ اس کے سیکنڈ ان کمانڈ بن جائیں؟ اور آپ ایویں کل کے بچے ہوں۔ یہ آپا کا مان تھا، ان کا پیار تھا، ان کی محبت تھی۔ ان کے ساتھ ڈیڑھ دو سال کام کیا، چند مرتبہ تو سرورق بھی بنائے، کون کسی کو اتنا اختیار دیتا ہے؟ 

پھر آپا کو یہ شکایت تھی کہ پرانے لکھنے والے کچھ اگنور ہو رہے تھے اور جینوین تھی، کچھ کا لکھا زیادہ کٹ جاتا تھا؛ بالکل درست بات تھی، کچھ غزلیں رہ جاتی تھیں؛ وہ اصل میں فقیر نظموں پہ فوکس کے چکر میں ہوتا تھا۔ تو آہستہ آہستہ ادب لطیف واپس آپا نے دیکھنا شروع کر دیا لیکن بک کلب کی ملاقاتیں وہی رہیں۔ اس کے علاوہ بھی جب ان کے پاس کتابیں زیادہ جمع ہو جاتیں تو فون آتا اور دفتر سے واپسی پہ دس پندرہ کتابیں گاڑی میں ڈالے بھائی گھر واپس آ جاتا۔ کبھی کبھی ویسے ہی آپا سے ان کے پرانے قصے سننے چلا جاتا۔ کرید کرید کے شہاب صاحب، مفتی صاحب، اشفاق احمد اور بانو آپا کی باتیں سنتا۔ آپا نے کیسے ادب لطیف سنبھالا، وہ سب کچھ، لیکن دماغ فارغ ہے، بھول چکا، کیا لکھوں۔ اس کے بعد نوکری کی مصروفیت بڑھتی گئی، پھر وجاہت بھائی نے ہم سب نکالا تو اس میں ایڈیٹری شروع کر دی، آپا سے ملاقاتیں کم ہونا شروع ہو گئیں۔ لیکن، اس سارے عرصے میں آپا نے جس مان سے ٹریننگ کی، کیسے کیسے بڑے لوگوں سے ملوایا، موقع دیکھ کے نصیحتیں بھی کیں، وہ سب ایک دم کیسے ختم ہو سکتا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہت کچھ ہے جو کہنے سے رہ گیا ہے، بعد میں یاد آتا رہے گا۔ اسی فیس بک پر جہاں آپا سے ملا تھا وہیں وال پہ سکرول کرتے کرتے انگوٹھا دوبارہ گھوم گیا جب ثویلہ بہن کا لکھا دکھائی دیا کہ صدیقہ آپا فوت ہو گئیں۔ ایک منٹ کے لیے میں سوچتا رہا لیکن وہاں افسوس کا پیغام نہیں لکھ سکا۔ اتنے عرصے کی یادیں ایک جملے میں کیسے لپیٹوں گا؟ اور جو سمٹ بھی جائیں تو کیا میرا لہجہ اس لکھے میں سنائی دے گا؟ اسلام آباد میں تھا، لاہور بھی ہوتا تو شاید جنازے پہ نہ جا سکتا۔ میرے لیے تو انہیں ہمیشہ سردیوں میں دمے سے بے حال دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ بات کرتے بندے کو ایک دم کیسے آپ مٹی میں چھوڑ کے آ سکتے ہیں؟ بند آنکھیں دیکھنے سے زیادہ کھلی آنکھیں یادوں میں شاید زیادہ بہتر لگیں گی۔ آپا تھک بھی گئی تھیں۔ ٹو مچ ہو گیا تھا۔ وہ سکون سے ہوں گی۔ دنیا چلتی رہے گی، اس گھر میں آپا کی سب چیزیں بھی ویسے ہی پڑی ہوں گی لیکن۔ لیکن اب کوئی ایسا بڑا آدمی ہو گا جو ایک جونئیر کو انگلی پکڑ کے ساتھ کھڑا کرے گا اور کہے گا کہ حسنین، ہن توں ایڈیٹنگ سنبھال! شاید وہ بھی نکل ہی آئے گا، شاعروں ادیبوں کی باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ آپا، آئی ایم سوری، میں پچھلے ایک سال آپ کو فون تک نہیں کر سکا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ