فضائی آلودگی کا آلات، مقدمات سے مقابلہ کرتے پاکستانی

گذشتہ پانچ سالوں میں پاکستان میں فضائی آلودگی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس سے نمٹنے کے لیے ایک شہری نے گھریلو ساختہ ہوا صاف کرنے کا آلہ ایجاد کر لیا توایک نے پنجاب حکومت پر مقدمہ کر دیا ۔

6 دسمبر کو لاہور میں تاریخی بادشاہی مسجد کے ارد گرد سموگ کی صورت حال (اے ایف پی)

گذشتہ کئی ماہ سے حسن زیدی کا فون مسلسل بج رہا ہے۔ انہیں ان پاکستانی شہریوں کی جانب سے مسلسل فون آ رہے ہیں جو ان کا ایجاد کردہ گھریلو ساختہ ہوا صاف کرنے والا آلا یعنی ایئر پیوریفائیر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آلا فضا میں چھائے گہرے سموگ سے صاف ہوا نکالتا ہے جو کہ اب کئی پاکستان شہریوں کی ضرورت بن گیا ہے۔ 

آلودہ فضا میں سانس لینے کی مشکل کے شکار حسن زیدی نے چھ ماہ کے عرصے میں ایک کم قیمت گھریلو ساختہ آلا تیار کیا جو کہ فضا میں موجود آلودگی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

حال ہی میں اپنی ورکشاپ میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے حسن زیدی نے بتایا: ’کئی دن تو مجھے اتنی بار کال کی جاتی ہے کہ میں اٹھا بھی نہیں سکتا۔‘

رواں موسم سرما میں ہی یہ 31 سالہ انجینئیر اس آلے کے پانچ سو یونٹ فروخت کر چکے ہیں جس کی قیمت 103 امریکی ڈالر یعنی تقریباً 16 ہزار پاکستانی روپے ہے۔

حسن نے اعتراف کیا کہ حالیہ ہفتوں میں افرادی قوت اور وسائل کی کمی کے باعث وہ سینکڑوں خریداروں سے معذرت کر چکے ہیں۔

حسن زیدی کے بنائے گئے ہوا صاف کرنے کے یہ ’گھریلو جنگلات‘ ائیر پیوریفائیر غیر ملکی ساختہ آلات کی نسبت دو سے پانچ گنا سستے ہیں۔

اپنے 180 ملازمین کے صاف ہوا میں سانس لینے کو یقینی بنانے کے لیے حسن زیدی سے ایک درجن پیورفائر خریدنے والی کمپنی آٹو سافٹ ڈائنامکس کی سرپرست سعدیہ خان کہتی ہیں: ’یہ اب سہولت سے زیادہ ضرورت بن چکا ہے۔‘

گذشتہ پانچ سالوں میں پاکستان میں فضائی آلودگی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ غیر معیاری ایندھن، فصلوں کی باقیات کا جلائے جانا اور سرد موسم کے باعث ہوا میں موجود سموگ کے بادل ہیں۔

سائنسی جریدے ’دا لانسٹ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 2015 میں ایک لاکھ 35 ہزار پاکستانی فضائی آلودگی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

پنجاب میں موسم سرما کے دوران فضائی آلودگی کی بدترین صورت حال رہتی ہے خاص طور پر ایک کروڑ سے زائد آبادی کے شہر لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

نومبر میں فضائی آلودگی کے باعث شہر کے سکولوں کو کئی روز کے لیے بند کرنا پڑا تھا جس کی وجہ فضا میں موجود زرات تھے جو خون کی نالیوں کے ذریعے اہم اعضا میں داخل ہو کر صحت کے لیے پیچیدہ مسائل پیدا کر سکتے تھے۔ ان زرات کی مقدار دو سو مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک جا پہنچی تھی۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر یہ سطح 25 مائیکروگرام تک ہی محفوظ ہے۔

فضائی آلودگی کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ائیر ویژیول کے مطابق فضائی آلودگی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے آلودہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے جبکہ لاہور مسلسل طور پر دنیا کے سموگ سے متاثرہ دس بدترین شہروں میں سے ایک ہے۔

لیکن پنجاب کی ماحولیاتی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل تنویر وڑائچ ان اعدادوشمار کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لاہور کے بارے میں لیے جانے والے اعدادوشمار نگران اداروں اور اس حوالے سے سرگرم افراد سے لیے گئے ہیں بجائے کہ ’مصدقہ مشینوں ‘ سے۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ کہنا کہ پاکستان اور لاہور آلودہ ترین علاقوں میں شامل ہیں حقیقت پر مبنی نہیں۔‘ گوکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کی فضا ناقابل قبول حد تک آلودہ ہے۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے چلائی جانے والی مہم کے بعد عوام میں کافی آگاہی پیدا ہو رہی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پاکستان پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ائیر ویژیول کے شریک بانی یین بوکوئیلڈ کے مطابق اس سال پاکستان سے ان کی ویب سائٹ سبسکرائبرز کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پاکستان میں یہ ایک مسئلہ تھا لیکن کسی کو اس حوالے سے آگاہی نہیں تھی لیکن پاکستانی اب اس حوالے سے سرگرم ہو رہے ہیں۔‘

سرکاری حکام کی سست روی کے باوجود عام پاکستانیوں نے اس حوالے سے خود اقدامات لینے شروع کر دیے ہیں۔

2016 میں عابد عمر نے پاکستان کے لیے مخصوص پاکستان ائیر کوالٹی ویب سائٹ لانچ کی جس کا مقصد ملک میں بڑھتی آلودگی کے حوالے سے معلومات جمع کرنا اور اس پر تحقیق شائع کرنا تھا۔

پاکستان ائیر کوالٹی کے مطابق 2019 کے پہلے 11 مہینوں میں لاہور نے صرف ’دس گھنٹے‘ ہی ڈبلو ایچ او کی مرتب کردہ اچھی ائیر کوالٹی کا تجربہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محتاط اندازے کے مطابق رواں سال کے 223 دن شہر کی فضا ’بری‘ اور ’خطرناک‘ کے درمیان معلق رہی۔

لاہور میں ماسک خریدتے ہوئے ایک راہگیر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’سموگ نے ہماری زندگیوں کو اجیرن کر رکھا ہے۔‘

اس حوالے سے حکام پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرتے افراد میں سے ایک احمد رافع عالم نے پنجاب حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ انہوں نے ایسا اپنی بیٹی اور دو اور نوعمر بچوں کی ایما پر کیا ہے۔ ان کے مطابق حکام نے درست انداز میں اس مسئلے پر توجہ نہیں دی۔

سرگرم افراد اور مقدمہ بازی کے علاوہ کئی افراد فضا میں خطرناک مواد کے اخراج کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماسک اور سموگ سے بچاو کی اشیا بیچنے والی کمپنی انٹرئیر سورس ڈاٹ پی کے کی ڈائریکٹر آئزہ عمر کا کہنا تھا: ’گذشتہ سال تک بہت عجیب لگتا تھا کہ کوئی اس حوالے سے تشویش کا شکار نہیں ہے۔ اس سال اس حوالے سے بہت سرگرمی دیکھی گئی اور ہم نے پہلے دو ماہ میں ہی سب کچھ فروخت کر دیا ہے۔‘

ان کے مطابق رواں سال فروخت ہونے والے ماسکس کی تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ گذشتہ سال یہ محض چند درجن تھی۔

لاہور میں اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد کے ایک گروپ نے آٹھ میٹر بلند فضا صاف کرنے والے پیوریفائر کے افتتاح کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ فضا میں موجود خطرناک زرات کو ہٹایا جا سکے۔

اس آلے کی تیاری میں حصہ لینے والی ایک ڈیزائنر مریم سعید کا کہنا ہے: ’یہ اس مسئلے کے حل میں مدد دے گا لیکن یہ صورت حال کو مکمل طور پر نہیں بدل سکتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات