عمران حکومت ’گرانے‘ کی پیشکش: ’بلاول سنجیدہ نہیں ہیں‘

پیپلز پارٹی چیئرمین نے متحدہ قومی موومنٹ کو پیشکش کی تھی کہ کراچی اور کراچی کے عوام کی خاطر جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو یم کے پاس ہیں، اتنی ہی وزارتیں ہم دینے کو تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما اور میئر کراچی وسیم اختر کے مطابق یہ  صرف ایک سیاسی بیان ہے، بلاول بھٹو کی اس بات میں مجھے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ (اے ایف پی)

کراچی میں گذشتہ روز چار نئے منصوبوں کے افتتاح کے موقعے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کو اس شرط پر سندھ میں وفاق کے برابر وزارتیں اور سندھ حکومت میں شمولیت کی پیشکش کی تھی کہ ایم کیو ایم  کو وفاق میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد توڑنا ہوگا، تاہم ایم کیو ایم رہنما وسیم اختر پیپلز پارٹی چیئرمین کے اس بیان کو سنجیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا: ’ایم کیو ایم وفاق میں پی ٹی آئی کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرے۔ گرادو! گرادو عمران کی حکومت کو! کراچی کو بچاؤ ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔ سو فیصد ساتھ دیں گے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے پیشکش کی: ’کراچی اور کراچی کے عوام کی خاطر جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو یم کے پاس ہیں، اتنی ہی وزارتیں ہم دینے کو تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ عمران کو گھر بھیجیں۔ کراچی کو اور اس صوبے کو اس کا حصہ دلوادیں۔ ہم ساتھ مل کر اس صوبے کو ترقی دلوا سکتے ہیں۔‘

بلاول بھٹو نے شہر قائد میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کہا کہ ’ہم کراچی کے انفراسٹرکچر کو بنا رہے ہیں کیوں کہ کراچی کو فائدہ ہونے سے پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ شہرِ قائد میں پورے پاکستان کے لوگ بستے ہیں، ہمارا کام نظر بھی آتا ہے اور ہم اپنا کام دکھا بھی سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم چیئرمین پیپلز پارٹی کی پیشکش کے حوالے سے ایم کیو ایم کے رہنما اور میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف ایک سیاسی بیان ہے، بلاول بھٹو کی اس بات میں مجھے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ پچھلے 12 سال سے سندھ اور بالخصوص کراچی کے مسائل پیپلز پارٹی ہی دیکھ رہی ہے، جس میں ان کی کارکردگی زیرو ہے۔‘

مستقبل میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے معاملے پر وسیم اختر نے کہا کہ: ’یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں دونوں پارٹیاں سندھ اور کراچی کے مسائل پر متحد ہوں، جس طرح این ایف سی ایوارڈ، مردم شماری، پانی یا گیس کے مسائل پر ہم ایک ہیں، کیوں کہ ایم کیو ایم عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے سیاست کرتی ہے۔‘

جب وسیم اختر سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی نے ایم  کیو ایم سے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کیا اور کیا وہ وفاق اور کراچی میں ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟ جس پر میئر کراچی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’پی ٹی آئی کی کارکردگی کے لیے لفظ مطمئن کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوئے ڈیڑھ سال ہوگیا ہے لیکن وہ اس پر ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھی۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے کی گئی پیشکش کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک سروے بھی کروایا، جہاں قارئین سے سوال کیا گیا کہ کیا ایم کیو ایم بلاول بھٹو کی دعوت قبول کرے گی؟ جس پر زیادہ تر لوگوں نے ’نہیں‘ میں جواب دیا جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ ایم کیو ایم یہ پیشکش قبول کرلے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف 2018 کے انتخابات میں سب سے زیادہ یعنی 116 نشستیں حاصل کرنے کے باوجود بھی سادہ اکثریت یعنی 172 نشستیں حاصل نہیں کرسکی تھی۔ جس کے بعد وفاق میں حکومت بنانے کے لیے پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے آزاد امیدواروں سمیت متحدہ قومی موومنٹ سمیت دیگر جماعتوں کو اتحاد کی دعوت دی تھی۔

ایم کیو ایم کے چھ ارکان نے وزیراعظم عمران خان کے کراچی کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی یقین دہانی پر تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت کی تھی، جس کے بعد ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سینیٹر فروغ نسیم کو وزارت قانون کا قلمدان دیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان