ٹرمپ کی قسمت کا فیصلہ کانگریس کی بجائے ووٹرز کو کرنا چاہیے: وکلا

وائٹ ہاؤس کے وکلا نے سینیٹ میں امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی میں ان کے دفاع کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یوکرین کے ساتھ معاملات میں کوئی غلط کام نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی براہ راست ٹیلی ویژن پردیکھیں (اے ایف پی)

وائٹ ہاؤس کے وکلا نے سینیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی میں ان کے دفاع کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے یوکرین کے ساتھ معاملات میں کوئی غلط کام نہیں کیا۔

وکلا کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی قسمت کا فیصلہ کانگریس کی بجائے امریکی ووٹرز کو کرنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے وکیل پیٹ سپولون نے کارروائی کے دوران خبردار کیا کہ اگر سینیٹ نے 45 ویں امریکی صدر کو عہدے سے الگ کرنے کے لیے ووٹ دیا تو یہ ’اختیارات کا مکمل طور پر غیرذمہ دارانہ استعمال‘ ہوگا۔

امریکی تاریخ میں کسی صدر کے تیسرے مواخذے کے لیے ہفتے کو چھٹی پر کبھی کبھار ہونے والے سینیٹ کے آج کے خصوصی اجلاس میں وکیل سپولون نے 100 سینیٹروں کے روبرو کہا کہ وہ ان سے ایسا کام کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں جو سینیٹ نے کبھی نہیں کیا۔

سپلون نے مزید کہا کہ ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان، جنھوں نے گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کا یہ کہہ کر مواخذہ کیا تھا کہ انھوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کانگریس کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی، وہ آئینی تقاضے کے مطابق اپنا کیس مضبوط طریقے سے پیش کرنے میں ناکام رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم نہیں سمجھتے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے قریب بھی پہنچے ہیں، جسے پورا کرنے کے لیے وہ آپ سے کہہ رہے ہیں۔

’ہمارے خیال میں جب آپ حقائق سنیں گے تو آپ کی معلوم ہو گا کہ صدر نے قطعی طور پر کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘

سینیٹ کے پراسیکیوٹرز نے پچھلے تین دن تفصیل کے ساتھ اپنا یہ کیس پیش کرنے میں لگائے کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کی فوجی امداد روکی اور انھوں نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران یوکرینی صدر پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کے سیاسی حریف جوبائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر کے خلاف تحقیقات شروع کریں جو یوکرائن کی ایک گیس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے وکیل سپولون نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈیموکریٹس نے 2016 کے صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے تمام ووٹ پھاڑنے کی بات کرتے ہوئے اس سال نومبر میں ٹرمپ کے دوبارہ الیکشن لڑنے سے روکنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس ایوان میں اس لیے آئے ہیں تاکہ امریکی تاریخ میں ہونے والے کسی الیکشن میں سب سے بڑی مداخلت کر سکیں لیکن وہ انھیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ’امریکی عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔‘

امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت ہے۔ ایوان نے 18 دسمبر کو ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا کیس بنا کر اسے سینیٹ کو بھیج دیا تھا، جہاں ری پبلکنز کو 53 نشستوں کے ساتھ ڈیموکریٹس کی 47 نشستوں پر برتری حاصل ہے اور اکثریتی رہنما مچ مکونل صدر ٹرمپ کے حامی ہیں۔

صدر کو ان کے عہدے سے الگ کرنے کے لیے دوتہائی اکثریت یا 67 ارکان سینیٹ کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اب تک ڈیموکریٹس، ری پبلکن ارکان کی دیوار میں کوئی دراڑ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

وائٹ ہاؤس کے وکلا کے سینیٹ میں بولنے سے پہلے صدر ٹرمپ کے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں سرکردہ ڈیموکریٹ رہنماؤں کو توہین آمیز القابات دیے اور اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ٹیلی ویژن پر سینیٹ کی کارروائی کی نشریات براہ راست دیکھیں۔

وکلا کی جانب سے سینیٹ میں اپنی نمائندگی کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے وکلا نے جو کچھ کہا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قدر ناانصافی کی گئی اور وہ ایک جانب دارانہ مواخذے سے متاثر ہوئے۔ ٹرمپ کے وکلا پیر کو بھی اپنے دلائل دیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ