بحران موخر ہوا ہے، ختم نہیں ہوا

عمران خان تاثر دے رہے ہیں کہ وہ مردِ بحران ہیں اور انھوں نے سیاسی بغاوت کی حالیہ کوشش کو کچل دیا ہے لیکن بحران زیادہ گہرا ہے۔

عمران سرکار کے مستحکم ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس کا سفر اب اونچائی کی طرف نہیں بلکہ تیزی سے ڈھلان کی طرف ہی رہے گا (اے ایف پی)

عمران خان تاثر دے رہے ہیں کہ وہ مردِ بحران ہیں اور انھوں نے بغاوت کی حالیہ کوشش کو کچل دیا ہے لیکن بحران زیادہ گہرا ہے۔

انھوں نے زلزلہ زدہ عمارت پر نیا رنگ و روغن کر دیا ہے، شگاف ڈھک دیے ہیں اور ان پر لیپا پوتی کر دی ہے لیکن بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے لہٰذا یہ بحران ٹلا نہیں اور دوبارہ ظاہر ہو گا۔

لاہور کے اجلاس سے چند گھنٹے پہلے عمران خان نے خیبر پختونخوا کے تین وزرا کو سنے بغیر فارغ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق ان پر الزام تھا کہ وہ ایک اہم ’غیر سیاسی‘ شخصیت کے ساتھ صوبے میں وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے پر صلاح مشورہ کر رہے تھے۔

خیبر پختونخوا، جہاں پی ٹی آئی کو بھاری اکثریت حاصل ہے، وہاں اس طرح کا قدم عمران خان اٹھا سکتے تھے۔ اب باغی ارکان نے عمران سے ملاقات کر کے یک طرفہ قدم کے مضمرات انھیں سمجھائے ہیں اور یہ لوگ شاید کچھ عرصے بعد دوبارہ کابینہ میں واپس بھی آ جائیں لیکن اس کے اثرات اگلے انتخابات کے وقت ضرور سامنے آئیں گے۔

 سیاسی زلزلے کا مرکز پنجاب ہے جہاں عمران خان کے حالیہ اجلاس کے باوجود آئے دن نئے آفٹر شاکس آ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاہور اجلاس نے پی ٹی آئی کے اپنے ارکان کو تنبیہ ضرور کی لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ، جن میں فواد چوہدری بھی شامل ہے، ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق فواد چوہدری دعوت کے باوجود لاہور اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

لیکن پنجاب کا اصل مسئلہ ق لیگ کی حکومت سے ناراضگی ہے۔ عمران خان سب سے ملے لیکن ق لیگ والوں سے نہیں۔ رہی سہی کسر اب مذاکراتی کمیٹی کی تبدیلی نے پوری کر دی ہے۔

چوہدری پرویز الہٰی اور ان کے بیٹے مونس الہٰی نے مذاکراتی کمیٹی کی تبدیلی پر احتجاج کیا ہے۔

عمران نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ بزدار کی تبدیلی کے بعد پی ٹی آئی کے پنجاب سے بوریا بستر گول ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بزدار کو عملی طور پر ربڑ سٹیمپ رکھ کر نوکرشاہی کے ذریعے اسلام آباد سے حکومت چلانا بھی کامیاب تجربہ ثابت نہیں ہوا۔

نہ صرف ق لیگ ناراض ہے بلکہ اکثر پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی بھی ناخوش ہیں اور یہی پنجاب میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔

ق لیگ والوں کو بھی پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت اور بری حکمرانی سے خوف آ رہا ہے۔ وہ اب برملا کہتے ہیں کہ وہ کس منہ سے اگلے انتخابات میں ووٹ مانگیں گے۔

اب جب کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی ہونے ہیں تو یہ مسائل زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔ان مسائل نے نہ صرف پنجاب حکومت کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ خود وفاقی حکومت کے لیے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔

یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب وفاقی حکومت کے اتحادیوں کے مسائل ابھی تک حل نہیں ہوئے۔

ایم کیو ایم ابھی تک وفاقی کابینہ سے باہر ہے۔ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ عمومی معاشی صورت حال میں ابتری بڑھتی جا رہی ہے۔

حالیہ گیلپ سروے جس میں 60 فیصد تجارتی گروہوں کا حکومت کی سمت پر عدم اطمینان، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ اور تمام تر عالمی اداروں کی رپورٹیں جن میں معاشی تنزلی کو اجاگر کیا گیا ہے، عمران سرکار کے لیے اچھی خبر نہیں۔

سٹیٹ بینک کے گورنر کی حالیہ پریس کانفرنس جس میں شرح سود کو 13.25 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے، پراکثر سرمایہ کار اور تجارتی تنظیموں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

سٹیٹ بینک گورنر کی پریس کانفرنس سے ایک دن پہلے کاروباری شخصیات کے ایک گروہ نے عمران خان سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات میں عمران خان اور کاروباری شخصیات میں اس بات پر اتفاق تھا کہ شرح سود کم ہونی چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کا ماحول واپس آ سکے۔

لیکن اس کے بالکل برعکس سٹیٹ بینک گورنر نے نہ صرف شرح سود برقرار رکھی بلکہ شرح نمو کو مزید نیچے کرنے کی بری خبر بھی دی۔

ایسا لگتا ہے کہ نہ معیشت بہتر ہو رہی ہے اور نہ عمران خان کو معاشی مشینری پر کوئی کنٹرول ہے۔

اکنامک افیئرز ڈویژن ایک بات کرتی ہے اور وزارت خزانہ اس کے الٹ، بلکہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی کرتے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف روینیو ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے کے ٹیکس ہدف میں مسلسل ناکامی کی طرف گیا ہے۔

اب جبکہ مالی سال ختم ہونے میں چند ماہ باقی ہیں یہ ناکامی مبینہ طور پر چیئرمین شبر زیدی اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے درمیان ناچاقی کا سبب بن رہی ہے۔

شنید ہے کہ شبر زیدی عنقریب ایک بار پھر علالت کی بنا پر رخصت ہو رہے ہیں اور شاید وہ واپس نہ آئیں۔ معاملات اتنے گمبھیر ہیں کہ عمران خان نے کابینہ اجلاس میں اپنی معاشی ٹیم پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

احتساب کے نام پر انتقام کی 18 ماہ کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ نیب کو آئے دن ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اب جبکہ نیب قانون میں ترمیم کر کے اس کے دانت نکالنے کی تیاری ہو رہی ہے تو عمران حکومت کے پاس بری معیشت، بری حکمرانی کے علاوہ سیاسی سرمایہ کیا ہے؟

اس صورتحال میں پی ٹی ایم، عوامی ورکرز پارٹی اور سول سوسائٹی کے ارکان کے خلاف نئی پکڑ دھکڑ اور سوشل میڈیا کے خلاف نئی قدغنیں اس صورتحال کو مزید پیچیدہ کر رہی ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں ن لیگ کے کچھ رہنما پرامید ہو رہے ہیں کہ آنے والی موسم بہار عمران سرکار کے لیے موسم خزاں ثابت ہو گی۔

چونکہ بحران حل نہیں ہوا اس لیے عمران سرکار کے مستحکم ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس کا سفر اب اونچائی کی طرف نہیں بلکہ تیزی سے ڈھلان کی طرف ہی رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر