یوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز کیسے ہوا؟

شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا، تاہم کئی سالوں بعد یہ بدل کر پانچ فروری ہو گیا۔ 

پانچ فروری 2019 کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر   جماعت اسلامی کے ایک جلسے میں خواتین پوسٹر اٹھائے کھڑی ہیں (اے ایف پی)

پاکستان آج (پانچ فروری) کو منقسم کشمیر کے سبھی حصوں میں بسنے والے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن منا رہا ہے۔ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ  30 سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان  اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ تاہم  کم ہی لوگ یہ جانتے ہیں کہ اس دن کو منانے کی شروعات کب اور کیسے ہوئی، کس شخصیت نے سب سے پہلے یہ تجویز پیش کی اور وہ کیا حالات تھے جو پانچ فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باعث بنے۔

اگرچہ احوال و شواہد بتاتے ہیں کہ اس دن کو منانے کا آغاز تقسیم کشمیر سے قبل ہی 1932 میں متحدہ پنجاب سے ہو گیا تھا تاہم یہ سلسلہ ٹوٹتا اور جڑتا رہا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیا جاتا رہا تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مقرر نہیں تھا اور یہ سلسلہ بھی مسلسل نہیں رہا۔

شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975  میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا۔  اس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورا پاکستان بند ہو گیا اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کی سربراہ قاضی حسین احمد کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اس وقت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔

تاہم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کا مطالبہ  1990  میں قاضی حسین نے میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا اور اس کی فوری تائید وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کی۔

 یہ وہ وقت تھا جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اور تنازع کشمیر کے سیاسی طور پر حل ہونے کے امکانات سے مایوس کشمیری نوجوان عسکری تحریک میں شامل ہو رہے تھے۔ ہلاکتوں اور ہجرتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اسی دوران 29 تا 31 دسمبر 1988  جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا اور ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔

ملک میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھی۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ سارک اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات نہ کی جائے اور یہ مشورہ مان بھی لیا گیا۔ نتیجتاً نہ صرف سارک اجلاس کے ایجنڈے سے کشمیر غائب ہو گیا بلکہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے ساتھ ہی واقع پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے ملکیتی ’آزاد جموں وکشمیر ہاوس‘کا سائن بورڈ بھی اتار لیا گیا۔ جب تک اجلاس کے شرکا اور ان کے ساتھ آنے والے وفود اسلام آباد میں موجود رہے، یہ سائن بورڈ بھی غائب رہا۔

سارک اجلاس کے دوران مشترکہ پریس بریفنگ میں بھی تنازع کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کی جانب سے کوئی بات نہ ہوئی البتہ ایک صحافی کے سوال پر راجیو گاندھی بولے کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی بے چینی نہیں، وہاں کے لوگ پانچ چھ بار انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اوروہ نظام سے مطمئن ہیں، وہاں کوئی آزادی کی تحریک نہیں ہے۔ راجیو گاندھی نے تو ان انتخابات کو کشمیر میں استصواب رائے یا ریفرنڈم کا متبادل قراردیا۔

حیران کن طور پر  محترمہ بے نظیر بھٹو نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ’اس معاملے میں ہمارا اپنا موقف ہے۔‘ اس سے آگے نہ تو وزیر اعظم نے پاکستانی موقف کی وضاحت کی اور نہ ہی وزات خارجہ نے اس معاملے پر ایک لفظ بولا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میاں نواز شریف اس وقت اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ تھی اور اس کے سربراہ قاضی حسین احمد اور میاں نواز شریف کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی۔ اسلامی جمہوری اتحاد قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں تھا اور پنجاب کی صوبائی حکومت بھی اسی اتحاد کے پاس تھی۔ میاں نواز شریف اور قاضی حسین احمد نے اس معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

آنے والے سالوں میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک اپنے عروج کی طرف رواں تھی اور بھارت کی افواج اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا کھل کر استعمال کر رہی تھیں۔ نتیجتاً بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتیں روز کا معمول بن گئیں۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان عسکری تنظیموں کاحصہ بن گئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد میں  لوگ اسلحہ اور عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے لگے۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں وہ خاندان بھی شامل تھے جو لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں کے علاوہ کشمیر کے کئی شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کر رہے تھے۔

عسکریت پسندوں کی بھارتی فوج کے ساتھ چھڑپوں کے نتیجے میں فوج کی جانب سے آبادیوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن میں خواتین اور بچوں سمیت ہر عمر کے لوگوں کی ہلاکت اور خواتین کے ریپ کی اطلاعات بین الاقومی میڈیا میں آنا شروع ہوئیں اور پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتوں میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی مشاورت سے کشمیر میں مسلح عسکری تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اور پانچ فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کشمیر کے معاملے پر پہلے ہی اپوزیشن کے نشانے پر تھی لہٰذا وزیر اعظم محترمہ  بے نظیر بھٹو نے بغیر تاخیر اس اعلان کی تائید کی اور آنے والے سالوں میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا۔

تاہم اس دن کو سرکاری طور پر منانے کے آغاز 2004 میں ہوا جب اس وقت کے وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی اور وزیر امور کشمیر و گلگلت بلتستان آفتاب احمد خان شیرپاو نے یہ دن سرکاری طور پر منانے کے اعلان کیا۔ پانچ فروری 2004 کو وزیر اعظم جمالی نے مظفرآباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور جموں وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ تب سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ہر سال اسی دن یہ مشترکہ اجلاس منعقد ہوتا ہے اور وزیر اعظم پاکستان یا ان کا نامزد نمائندہ اس اجلاس میں ضرور شامل ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا