سرِعام پھانسی کی بحث

نفرت جرم سے کریں، مظلوم کی عمر، جنس، مذہب، تعلق دیکھ کر نہیں۔ ہم بچوں سے ریپ کے مجرم کے گلے میں تو سرِ عام پھانسی کا پھندا تو ڈالنا چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی اس موضوع پر لکھنا چاہے یا کسی بھی ضمن میں اس کا اظہار کرنا چاہے تو اُسی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔

تسلیم ہے کہ معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات بھیانک ترین اور حد درجے کی بربریت ہے لیکن سرِ عام پھانسی اس کا تدارک نہیں۔(پکسابے)

وہ ورجینیا امریکہ میں ایک انتہائی غریب سیاہ فام خاندان میں پیدا ہونے والا اپنے والدین کی دوسری اولاد تھا۔ اس کے والد کے اس سے پہلے تین بچے تھے۔ دو پہلی بیوی سے اور ایک اس کا سگا بڑا بھائی۔

دو بہن بھائی اس کے بعد پیدا ہوئے۔ نو لوگوں پر مشتمل اس وسیع لیکن غریب خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی ایک عذاب تھا۔

دس سال کا تھا تو اس کی ماں مر گئی اور سترہ سال کی عمر میں باپ۔ گھر تو کوئی  تھا نہیں، ایک ٹین کے خالی کھوکھے نما کنٹینر میں جہاں کھاتے اور سوتے تھے اُسی کو گھر سمجھ لیا تھا۔

چھوٹی عمر میں ماں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا تو آوارگی کا بھوت دماغ پر چڑھ گیا۔ شروع شروع میں ایک آدھ جگہ پر چھوٹی چھوٹی نوکری تو کی لیکن بات بنی نہ دل لگا۔

اسی طرح چوری چکاری کے دھندے میں الجھ گیا۔ 23سال کی عمر میں اپنا شہر چھوڑا اورکنٹیکی میں نوکری کی تلاش شروع کری۔ نوکری تو خاک  ملنی تھی ایک متوسط گھرانے میں سامان ڈھونے کی مزدوری مل گئی۔

ایک سال تک وہاں کام کیا۔ دووقت کا کھانا اور سونے کے لیے تہہ خانہ مل گیا تھا، کبھی کبھار چند سکے مزدوری کے بھی مل جاتے۔

اسی دوران مذہب کی طرف بھی رحجان ہوا لیکن نیت صاف نہ تھی تو خدا کو بھی متوجہ نہ کر پایا۔ ہر طرف سے بیزار ہو کر پھر چور ی چکاری پر لگ گیا۔ جیل کی پہلی سزا 29 سال کی عمر میں کاٹی اور 20 ڈالر جرمانہ بھی بھگتا، لیکن باز نہیں آیا۔ جیل میں عادی مجرم لڑکوں کے ساتھ دوستی ہوئی اور پھر سیاہ کاریوں کے دھندے کا چل چلاؤ رواں ہو گیا۔

رہزنی اور دکانوں میں نقب لگانے سے آگے بڑھ کر اس نے اب گھروں میں ڈکیتیاں کرنا شروع کر دیں۔ ڈکیتی اور جیل یا ترا اب اس کے لیے معمول کا لائف سائیکل بن گئے۔ ایسی ہی ایک ڈکیتی کی واردات کی نیت سے 7 جون 1936 کو وہ ایک متمول خاندان کے گھر میں داخل ہوا۔ گھر کی سیکیورٹی چونکہ مضبوط تھی اس لیے آس پاس کی چھتیں پھلانگتا ہوا اوپری منزل کے ایک بیڈ روم کی کھڑکی سے اندر کمرے میں داخل ہوا۔

یہ کمرہ 70 سالہ لیشیا ایڈورڈز کا تھا۔ اس کا بیٹا بہو اور پوتے نواسیاں کسی عزیز کی شادی  میں شرکت کے لیے شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ ملازم لوگ گھر کے تہہ خانے میں سوئے رہے تھے۔ رینی بیتھیا عادی چور تھا تھا ہی لیکن چونکہ جوان تھا اور اپنی سیاہ کاریوں کی وجہ سے کوئی مناسب لڑکی اس سے رشتہ جوڑنے پر راضی ہی نہ ہوتی تھی سو اُس رات ستر سالہ لیشیا ایڈورڈز کو آدھی رات سے پرے اپنے کمرے میں تنہا سوتا پاکر رینی بیتھیا پر حیوان سوار ہو گیا۔ انسانیت تو پہلے ہی اس میں ختم ہوتی جارہی تھی اب تاریک سیا ہ رات میں جو حیوانیت اس پر حاوی ہوئی تو قیامت ہی ڈھا دی۔

انتہائی بے دردی سے متعدد بار ضعیف بزرگ خاتون کی عصمت دری کی اور آخر کار پھندا لگا کر اسے مار ہی ڈالا۔ رینی  بیتھیا اس رات نشے میں مدہوش تھا۔ یہ بربریت کافی نہ تھی کہ جاتے جاتے ستر سالہ لیشیا ایڈورڈز کے کمرے سے قیمتی زیورات بھی چرالے گیا لیکن اس دوران اس کی انگلی سے جیل کی پہنائی ہوئی سیلو لائڈ انگوٹھی گر گئی۔

اگلی صبح جب ملازموں نے ستر سالہ بزرگ خاتون کی لاش کی بھیا نک صورت حال دیکھ کر پولیس طلب کی تو سیلولائڈ انگوٹھی سے شناخت ہوئی کہ یہ کریہہ مجرم کون ہے۔

یہ کنیٹکی کی تاریخ  کا انتہائی خوفناک واقعہ تھا۔ کیس چلا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے امریکہ میں اس کی  خبرپھیل گئی۔ پورے ملک میں اس بھیانک واردات کے خلاف ٖٖغصہ ابھر آیا، مظاہرے اور احتجاج شروع ہو گئے اور زینی بیتھیا کو کڑی سے کڑی سزا سنانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ عوامی غم و غصے کا ایسا دباؤ  تھا کہ دو ہی ماہ میں کیس کا فیصلہ ہوا اور ریپ اور قتل کے جرم میں رینی بیتھیا کو سرِ عام چوراہے میں پھانسی کی سزا ہوئی۔

رینی بیھتیا کو پھانسی لگانے والی ایک خاتون تھی۔ یہ امریکہ میں بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ انہی  وجوہات کی بنا پر 14 اگست 1936 کے دن جب رینی بیتھیا کو لوگ اس پھانسی کو دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ میڈیا کی بہت بڑی تعداد بھی کوریج کے لیے امڈ آئی۔ 14 اگست 1936 کے دن صبح ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا۔ سرِ عام پھانسیوں کے خلاف ایک طرف تو جرم کی نوعیت اور بربریت کیخلاف عوامی غم و غصہ تھا لیکن دوسری جانب سرِ عام پھانسی کے مناظر نے عوام اور میڈیا کی سائیکی پر الگ ہی اثر قائم کیا اور عوام اور میڈیا چوک چوراہوں میں پھانسی لگانے کے خلاف ہو گیا۔

ایک نئی بحث ایک نئی تحریک کا آغاز ہو ا۔ امریکی ریاستوں کی اسمبلیوں میں بحث  شروع ہوئی اور ایک کے بعد ایک ریاست نے قوانین اختیار کرنے شروع کردیے اور سرِ عام پھانسیوں کا سلسلہ  بند ہوگیا۔ امریکہ میں آخری سرِ عام پھانسی 1936 میں رینی  بیتھیا کی تھی۔ سرِ عام پھانسیوں پر پابندی کے بعد امریکہ نے نئی  بحث کی طرف رخ کر لیا کہ کیا پھانسی کی سزا ہونی بھی چاہیئے یا نہیں؟ 

انگلستان میں آخری سرِ عام پھانسی 1868 میں ہوئی۔ جس کے بعد سرِ عام پھانسیوں کے خلاف قانون بناکر پابندی لگا دی گئی۔ سو سال بعد 1969 میں انگلستان میں پھانسی کی سزا ہی ختم کر دی گئی۔ فرانس میں سرِ عام پھانسیاں 1939 تک دی جاتی رہیں۔ فرانس میں سرِ عام پھانسی کا نہایت خوفناک طریقہ رائج تھا، وہاں سر قلم کر دیا جاتا تھا۔ فرانس نے تو باقاعدہ اس کے لیے مشین ایجاد کی تھی جسے گلیٹین کہا جاتا تھا۔ اس کا دوسرا نام قومی بلیڈ یا قومی استرا بھی تھا۔

کینیڈا میں سرِ عام پھانسیاں عام تھیں۔ سرِ عام پھانسیوں  اور پھانسیوں پر ہی پابندی کا قانون کینیڈا میں 1976 سے قائم ہے۔ بیسویں صدی کا وسط وہ دور تھا جب دنیا بھر میں آزادی، شہری حقوق، بنیادی حقوق آہستہ آہستہ زور پکڑ رہے تھے۔ دنیا ترقی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ سائنس کی ترویج ہو رہی تھی، فرسودہ روایات اور سوچ کے مقابلے میں نئے زمانے کے خیالاات پروان چڑھ رہے تھے۔ یہی وہ دور تھا جب دنیا کے بیشتر ممالک میں نہ صرف سرِ عام پھانسیوں بلکہ پھانسیوں پر ہی پابندی لگائی جا رہی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسے میں 2020 میں اگر پاکستان کی پارلیمان سے سرِ عام پھانسیوں کے حق میں قرارداد منظور ہوتی ہے تو انتہائی حیرت اور تاسف کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گی اور ہم معاشرے کے بنیادی اخلاقی جزو سے ہی عاری ہیں۔ قرارداد پیش کرنے والے رکن پارلیمان انتہائی محترم ہیں اور جنہوں نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی اور کر رہے ہیں وہ بھی محترم ہیں لیکن احتراماً عرض ہے کہ سرِ عام پھانسیاں جہاں مہذب اور شائستہ  معاشرے کی نفی ہیں وہیں جرائم کی بیخ کنی میں بھی کہیں معاون ثابت نہیں ہو رہیں۔

کسی کو اگر شک ہے تو برائے مہر بانی تاریخ، اعدادوشمار اور حقائق سے جائزہ لے لیجیئے، جذبا تیت سے نہیں۔ تسلیم ہے کہ معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات بھیانک ترین اور حد درجے کی بربریت ہے لیکن سرِ عام پھانسی اس کا تدارک نہیں۔

قوانین پر سختی سے عمل ہونا اور معاشرے کی اخلاقی و مذہبی اصلاح اس کا حل ہیں۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو بچوں کے ریپ کے مجرم کو تو سرِ عام پھانسی لگانا چاہتے ہیں لیکن کسی بڑی عمر کی خاتون یا مرد کے ساتھ یہ ظلم ہو جائے تو متاثرہ شخص کو ہی  اس کا موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں اور واقعے کے ہونے پر ہزار ہا سوالات اور اعتراضات کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔

نفرت جرم سے کریں، مظلوم کی عمر، جنس، مذہب، تعلق دیکھ کر نہیں۔ ہم بچوں سے ریپ کے مجرم کے گلے میں تو سرِ عام پھانسی کا پھندا تو ڈالنا چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی اس موضوع پر لکھنا چاہے یا کسی بھی ضمن میں اس کا اظہار کرنا چاہے تو اُسی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ پھندا ہمارے گلے میں لگ جاتا ہے کہ حمایت کے دو الفاط تک نکل نہیں سکتے۔ یہ منافقت یہ دوغلا پن آخر کب تک؟ موجودہ قوانین پر عمل ہونا اور معاشرے کی اخلاقی اور مذہبی اصلاح ہی دیرپا حل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر