خلیل الرحمن قمر کے ڈرامے کو بخش دو بھائی

ڈرامے کو لکھنے والے کی ذات اور نجی خیالات یا گفتگو کی روشنی میں کیوں پرکھا جا رہا ہے؟

نوے فیصد فلموں میں کامک رول مرد کا ہوتا ہے، اسے چھتر پڑتے ہیں، کامیڈی سین میں ٹنڈ پہ تھپڑ پڑتے ہیں، سٹیج شو میں عوامی جگتیں لگتی ہیں، کوڈو یاد کریں، رنگیلا یاد کریں، جانی لیور کو دیکھ لیں، اپنے امان اللہ، مستانہ صاحب ہو گئے، کیا کیا سچوئشنز ان لوگوں نے ڈراموں اور فلموں میں نہیں نبھائیں؟(ٹوئٹر)

سہاگن وہ جسے پیا چاہے، ڈراما وہ جو ویور من بھائے۔ دو جمع دو کا فارمولا ہے قدردان، کوئی بڑی بات نہیں۔
مجھے مسلسل ایک چیز پر توجہ رکھنے میں الجھن ہوتی ہے اس لیے میں ڈرامے، فلمیں، طویل ویڈیوز یہ سب دیکھنا چھوڑ چکا ہوں۔ ایک ایسا آدمی جس نے ڈرامہ دیکھا نہ ہو تو وہ اس پر رائے کیسے دے سکتا ہے؟ یوں کہ وہ اس ڈرامے کے ایک منظر اور اس کے آفٹر ایفیکٹس پر رائے دے رہا ہے جو اس نے دیکھ رکھے ہیں۔
ڈراما سیریل ’دریا‘ پی ٹی وی کا ایک مشہور سیریل تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب ہم لوگ چھوٹے ہوتے تھے۔ اس میں دو کردار جو میاں بیوی بنے ہوئے تھے وہ اصل زندگی میں بھی اسی رشتے میں بندھے تھے۔ ثمینہ پیرزادہ اس ڈرامے کے لیے عثمان پیرزادہ کی بیوی کا رول کر رہی تھیں۔ اب سیریل کا تقاضا تھا، ایک سین میں عثمان پیرزادہ نے ثمینہ پیزادہ کو طلاق دے دی۔ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کیا طوفان کھڑا ہوا۔ علما نے فتوے دے دیے کہ آج کے بعد یہ دونوں میاں بیوی کے طور پر ساتھ نہیں رہ سکتے۔ سوشل میڈیا شکر ہے نہیں تھا ورنہ وہ بے چارے طویل عرصے تک روسٹ ہوتے رہتے بلکہ مفتی قوی بھی حلالے کی آفر لگا دیتے۔

جب بحث شخصیات پر اتر آئے تو بحث کرنے والے کی شخصیت میں گڑبڑ نظر آنے لگتی ہے۔

خیر، تو یہ معاملہ ایسا پھیلا کہ ثمینہ اور عثمان پیرزادہ سے بھی سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ جامعہ الازہر سے فتویٰ آیا اور جان بچائی گئی۔ تو سوچیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور سوچیں کہ اگر ہم یہ کہیں کہ ڈرامہ لکھنے والا ڈائیلاگ بھی وہی لکھے جو ہماری مرضی کے ہوں تو کیا وہ زیادتی نہیں ہو گی؟ فقیر خلیل الرحمن قمر کے کسی مباحثے، مناظرے یا انٹرویو کی بات ہرگز نہیں کر رہا، نہ ہی ان کی شخصیت زیر بحث ہے، بات صرف ایک ڈرامے کی ہے۔ کیا ضروری ہے ڈرامہ اسی اخلاقیات کا پرچار کرے جو ہمیں سوٹ کرتی ہے؟

ایسا ہے تو آپ دعوی کر دیں کہ ناول ’لولیٹا‘ پر بھی مملکت پاکستان میں پابندی لگائی جائے، وہ ملک کی سو فیصد آبادی کے اخلاقی معیار پر بالکل پورا نہیں اترتا لیکن کھلے عام بکتا ہے۔ جس شاعری میں شراب کا ذکر ہو اسے بین کر دیں، جس افسانے میں جنس کا ذکر ہو اسے آگ لگا دیں، اور اگر ہم ڈرامے کو بطور ڈراما ہضم نہیں کر سکتے تو ہمیں سرمد سلطان کی فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز کے لیے بھی یہ بڑی بڑی پوسٹیں نہیں لگانا چاہیں۔
جب بحث شخصیات پر اتر آئے تو بحث کرنے والے کی شخصیت میں گڑبڑ نظر آنے لگتی ہے۔ بحث آپ کسی نظریے پہ کر سکتے ہیں، کسی تھیوری پہ کر سکتے ہیں، خیال پہ کر سکتے ہیں۔ خیال یہ ہے کہ ڈرامے کے سین میں اگر گنجائش بنتی ہے کہ دو ٹکے کی عورت کا ڈائیلاگ بولا جائے تو اسے بولنے کے بعد پورے چینل والوں پر عذاب کیوں نہیں اترتا؟ وہ لکھاری کے حصے میں ہی کیوں آتا ہے؟ آخر ڈرامے کی پوری ٹیم نے وہ سکرپٹ پڑھا، ادارے کے اعلی دماغوں نے وہ قسط فائنل کی، اسے جانے دیا، وہ سوپر ہٹ ہو گئی، اس کے بعد ڈراما راتوں رات کہاں سے کہاں پہنچ گیا، تو ڈرامے کو ڈراما سمجھنے والے آخر کہاں گئے؟ ڈرامے کو لکھنے والے کی ذات اور نجی خیالات یا گفتگو کی روشنی میں کیوں پرکھا جا رہا ہے؟ 

لوگوں کی بات کریں تو ڈرامے کی پسندیدگی اس لیول پہ تھی کہ ہزاروں لوگوں نے سینیما جا کر دیکھا، دانش مرا اور اگلے دن سوشل میڈیا پہ کوئی ایک بندہ ایسا نہیں تھا جس نے دانش کی بے وقت یا بے سری موت پہ افسوس نہ کیا ہو۔ جس نے ڈراما نہیں بھی دیکھا تھا اس نے بھی یہ اعلان کیا کہ دنیا کا اکیلا آدمی میں ہوں جو یہ ڈراما دیکھنے کی نعمت سے محروم ہے اور ایسے بیس پچیس لوگ تو فقیر کی وال پہ ہی موجود تھے۔ مطلب یہ کہ بھئی نہ دیکھنے والا بھی اس کی موج میں بہہ رہا ہے، ہر طرف ’میرے پاس تم ہو‘ کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آ رہا تو یہ ایک ڈائیلاگ پہ طوفان اٹھانے والے کیا اسی طرح کے علما نہیں تھے جنہوں نے ثمینہ پیرزادہ اور عثمان پیرزادہ کی طلاق پر اصرار کیا تھا؟
ہر چیز عزت کا مسئلہ نہیں ہوتی یار، مان لیں، تھوڑا ریلیکس کیجیے۔ دیکھیں 90 فیصد فلموں میں کامک رول مرد کا ہوتا ہے، اسے چھتر پڑتے ہیں، کامیڈی سین میں ٹنڈ پہ تھپڑ پڑتے ہیں، سٹیج شو میں عوامی جگتیں لگتی ہیں، کوڈو یاد کریں، رنگیلا یاد کریں، جانی لیور کو دیکھ لیں، اپنے امان اللہ، مستانہ صاحب ہو گئے، کیا کیا سچوئشنز ان لوگوں نے ڈراموں اور فلموں میں نہیں نبھائیں؟ کسی مرد نے آج تک نہیں کہا کہ رنگیلا گدھے کے جیسی دولتی کیوں جھاڑتا ہے، یہ مردوں کی توہین ہے۔

کوئی تو کہتا کہ جانی لیور بھینگا بن کے زبان باہر نکال کے سین کیوں کر رہا ہے، مرد کیا ایسے ہوتے ہیں؟ کتنے ڈراموں میں خواتین مردوں کو چماٹ مار دیتی ہیں، وہاں بھی کوئی ایسا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ دیکھیے معاملہ مرد عورت کا نہیں ہے۔ بات ایک سکرین پلے کی ہے، کمرشل ڈرامے کی ہے، اس میں جو کیا جا رہا ہے وہ سچوئشن کے مطابق ہے تو کسی کو مسئلہ کیوں ہو؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آپ لاکھ تنقید کر لیں مگر کمرشل ڈراما وہ دکھائے گا جو معاشرے میں ہو رہا ہے۔ بیڈرومز میں کیسی کیسی گالیاں شوہر بیویوں کو دیتے ہیں، مار پیٹ کرتے ہیں، آپ نہیں جانتے یا میں نہیں جانتا؟ ادھر تو بھائی ایک سچوئشن کا مارا ہوا شوہر تھا جس نے ڈائیلاگ بول دیا اور پوری انسانیت کے لہسن لگ گئے۔ ٹیک اٹ ایزی ورنہ پورے ادب کو نئے سرے سے ریویو کرنا پڑے گا۔ سب سے پہلے جانوروں کے حقوق کا خیال کرنے والے سامنے آئیں گے کیوں کہ ہمارے ادب میں کتوں، الوؤں اور گدھوں کو کبھی ہمدردی کی آنکھ سے نہیں دیکھا گیا۔

ہمارے پاس آج تک سیکس ورکر کے لیے کوئی تہذیب یافتہ لفظ نہیں ہے۔ ریپ ہمارے یہاں عصمت دری کہلاتا ہے، عزت لوٹ لی کہہ دیتے ہیں، یعنی زبردستی کی صورت میں بھی نقصان عورت کا ہی ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہر سپیشل فرد سامنے آئے گا۔ پرانے دہلوی لکھاریوں کی تحریروں میں خاص طور پہ ٹنڈے، کانے، بہرے، لنگڑے، اندھے کے الفاظ باقاعدہ طور پر خاکے کھینچنے میں استعمال ہوئے ہیں۔ پھر اے آر خاتون کی ’سات خیلائیں‘ پر بھی مقدمہ ہو گا کہ بہرحال وہ ان سات خواتین کی کہانیاں تھیں جو بے وقوف تھیں۔ پوری تاریخ، پورا ادب اور مکمل زبان نئی چھلنی سے گزارنا پڑیں گے، سوچ لیں!
اور آخری بات یہ کہ ڈراما جو ہے وہ ڈراما ہی رہے تو اچھا لگتا ہے۔ ہمارے زمانے میں آتا تھا من چلے کا سودا، پک جاتے تھے سارے، اتنے لمبے لمبے سین، سر کے اوپر سے گزرتی ہوئی باتیں، اب سمجھ آ بھی جائے تو یہ سمجھ بھی ساتھ آتی ہے کہ عوامی تفریح اور ادبی تفریح میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور یہ مٹا دیا جانا نہایت باریک کاریگری مانگتا ہے۔ تو یارو، اب ڈرامے دیکھنا ہی چھوڑ دو یا دیکھو تو ان 20 کروڑ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھو جو نہ ایسی باتیں مائنڈ کرتے ہیں نہ خود کو ہلکان کرتے ہیں، یہ چائے کی پیالی میں اٹھنے والے طوفانوں کی خبر بھی باہر نہیں پہنچ پاتی، وہ سب اس وقت عہد وفا دیکھ رہے ہوں گے!

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی