محبت حلال ہے یا حرام؟

کیا ویلنٹائن ڈے منانے سے معاشرے کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے؟ کیا اس موقعے پر ایسی سرگرمیوں کی ترویج ہوتی ہے کہ جس سے ریاست کو خطرہ ہو؟

لوگ سارا سال مختلف اوقات میں ایک دوسرے کو تحفے تحائف اور پھول پیش کرتے ہیں اور ویلنٹائن ڈے بھی ایک  ایسا ہی دن ہے(اے ایف پی)

کیا آپ کو کبھی مغربی ایجنڈا، کافروں کے پیروکار ، بے حیائی کا فروغ اور ملک دشمن جیسے نعرے لگانے والے شہری کلف اور خوشبو لگے کپڑے پہنے عدالتوں میں نظر آئے جو عورتوں پر تشدد حرام ہے، اس سے بے حیائی پھیل رہی ہے کا شور مچا رہے ہوں؟

یا بے حیائی کے خلاف تقریریں کرنے والے بڑے بڑے بینر پرنٹ کرا کے نہا دھو کر سڑکوں پر ریلی نکالیں کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اسلام کے خلاف ہے اور اس سےمعاشرے میں ظلم بڑھ رہا ہے۔

کبھی آپ نے کسی حضرت مولانا کو غصے اور جاہ جلال میں سنا کہ وہ کہیں کہ اقلیتوں کے حقوق غصب کرنے والے اچھےمسلمان نہیں؟

کبھی کوئی مذہبی یا سیاسی لیڈر ناراض ہوا کہ ہمارے بچوں کو ان کا بنیادی حق تعلیم نہیں دی جارہی اور یہ معاشرے میں برائی کی جڑ ہے۔

تیزاب گردی، منشیات، کرپشن، جھوٹ، چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادیوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف کبھی کسی عام شہری کو اتنا غصہ نہیں آتا کہ وہ عدالت میں جائے اور ان سب خرافات کو اسلام دشمن قرار دے اور ان سے پھیلنے والی بے حیائی کو روکنے کے لیے عدالت کے غیظ و غضب  کو للکارے۔

مگر ویلنٹائن ڈے جیسے کافرانہ جشن کے خلاف ایک عام شہری نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ہماری عدالت نے معاشرے کو بے حیائی کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے فیصلہ سنا رکھا ہے کہ ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی ہے۔ 

پھولوں کا، محبتوں کا اور جذبوں کا کوئی دن مخصوص نہیں ہوتا۔ محبت فاتح عالم سمجھا جانے والا لازوال جذبہ ہے، مگر دنیا محبت کا ایک دن مناتی ہے جس کو ویلنٹائن ڈے کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارے ملک میں یہ دن ہر سال اس بحث میں گزر جاتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے منانا حرام ہے یا حلال۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بحث قومی سطح پر ہوتی ہے۔

پاکستان کے سابق صدر ممنون حسین نے ویلنٹائن ڈے کو معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عوامی اور سرکاری مقامات پر ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگا دی جو اب تک بر قرار ہے۔

اسی طرح مذہبی شخصیات بھی ہر سال ویلنٹائن ڈے کو حرام قرار دینے کے لیے پر زور تقریریں کرتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تنقید کے ساتھ ساتھ بعض مذہبی شخصیات یہ بھی تجویز کرتی ہیں کہ پاکستانی 14 فروری کویوم حیا منائیں۔

ویلنٹائن ڈے منانے سے جو نقصان ہونے کا خدشہ ہے اس کا جائزہ بعد میں لیں گے، پہلے اس معاشرے میں اقدار اور اخلاقیات کی حالت زار بھی دیکھیں جہاں سچ بولنے کا رواج نہیں، ہر کمزور کا استحصال کا جاتا ہے اور اخلاقی بدعنوانی بڑھتی ہی جارہی ہے۔

ایسے معاشرے میں بے حیائی پھیلانے کا سارا الزام ویلنٹائن ڈے جیسے دنوں پر ڈالنا ویسے تو نا انصافی ہے لیکن بہرحال جہاں دلیل کافی نہیں ہوتی وہاں ہم پابندی عائد کر کے کام چلا لیتے ہیں۔

اس کے برعکس جن معاشروں سے متاثر ہونے پر کسی بھی فرد پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے وہاں دیکھیں انصاف کا نظام قائم ہے، وہاں دیانت داری ہے اور ہمارے ہاں دھوکہ دہی اور جھوٹ کا بول بالا ہے۔

ویسے بھی  پابندی لگانا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ بات صرف عدالتوں تک محدود نہیں رہی۔ چند مذہبی رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ جو شخص 14 فروری کوسرخ گلاب خریدے گا وہ جہنم میں جائے گا۔

پاکستان میں شخصی آزادیوں کی صورت حال پہلے ہی خراب ہے لیکن جو زیادہ پریشان کن بات ہے وہ ہر معاملے کو ریاستی ایشو بنا کر پیش کرنے کا ہے۔

عدالتوں کو شخصی آزادیوں کا محافظ بننا چاہیے اور ایسا انصاف فراہم کرنا چاہیے کہ شہریوں کی بنیادی آزادیاں صلب نہ ہوں۔

وقتی شہرت اور واہ واہ کے چکر میں بعض لوگ عجیب و غریب استدعا لے کر عدالت پہنچ جاتے ہیں اور کسی بالکل بے ضرر مسئلے کو اتنی اہمیت دے دیتے ہیں کہ حقیقت میں توجہ کے طلب گار مسائل وہیں دھرے رہ جاتے ہیں۔ 

اس معاشرے میں بے حیائی اور برائی پھیلنے کی ہزاروں وجوہات ہیں جن پر پورا سال تواتر سے بات ہونا ضروری ہے۔ انتہائی سنجیدگی سے اصل وجوہات کی تلاش کی ضرورت ہے۔ یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے نظام میں کہاں مسائل ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ اخلاقی پستی اور زوال کی طرف بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

ہمارے اپنے رسوم و رواج اور اطوار کس طرح اس معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں اور ہم اس معاشرے کو کن بنیادوں پر پروان چڑھا رہے ہیں۔

ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہیں۔ کسی ایک دن منانے سے یا کوئی جشن منانے سے اس معاشرے کو نقصان پہنچنے کا احتمال اتنا ذیادہ نہیں، جتنا اس کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر نان ایشوز کو ایشو بنانے سے نقصان ہو جاتا ہے: کوئی کسی کو پھول پیش کرے، کوئی سرخ لباس میں ملبوس ہو یا کوئی کسی کو کارڈ یا چاکلیٹ کا تحفہ دے اس سے ریاست کا کیا نقصان ہو رہا ہے؟

ریاست کا مسئلہ وہ لوگ ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں اور جن کے پاس سونے کے لیے محفوظ جگہ نہیں۔ بھوک ننگ اور انتہا پسندی اس معاشرے کے اصل مسائل ہیں۔

ویلنٹائن ڈے پر سجنے والے پھولوں سے اس معاشرے کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے والا۔ کسی بھی فیسٹیول کو مغرب سے متاثر ہونے کی بنیاد پر اسلام اور پاکستان کا دشمن قرار دے دینا صرف جہالت ہے اور کچھ نہیں۔

میرے خیال میں  ریاست اور بالخصوص مذہبی رہنماؤں کو سوچنا چاہیے کہ ایسے مواقع جن میں نوجوانوں کی دلچسپی ذیادہ ہے انہیں تربیت کا ذریعہ کیسے بنایا جائے۔

ایسا کیا اہتمام ہو کہ اس معاشرے سے انتہا پسندی اور منافرت کا خاتمہ ہو سکے۔ محبت جیسے لازوال جذبے کے بغیر معاشروں میں انصاف، مساوات کے قیام جیسے خواب پورے نہیں ہوتے۔

انتہاپسندی اور تنگ نظری سے اس معاشرے کو دبا کر کیا ہم بے حیائی روکنے میں کامیاب ہو سکے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ ہر ایشو کو مذہبی رنگ دے کر متنازع بنانا بھی فیشن بن چکا ہے۔ ایسے تمام تہوار جن سے کسی کی عزت، تکریم، جان اور مال کو کوئی خطرہ نہیں ان سے معاشرے کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔

جو محبت کرنے والے ہیں ان کو محبت اور اقدار کی روح سے روشناس کرائیں۔

محبت کے بغیر انسانیت کی روح مر جاتی ہے اور محبت کو عام کرنے کا کوئی بھی بہانہ ملے اسے اپنے حالات کے مطابق ڈھال کر اپنے لیے فائدہ تلاش کریں بجائے اس کے کہ ہر چیز پر پابندی لگاتے جائیں۔

ماں سے محبت اور باپ سے محبت کے دن منائے جاتے ہیں اسی طرح کا ایک دن ویلنٹائن ڈے ہے، جس پر ایسا ایسا مواد فیس بک اور سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے کہ جس کو پڑھ کر ویلنٹائن ڈے کے گناہ کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ 

یہ بحث بھی بڑی دلچسپ ہے کہ ویلنٹائن ڈے کا حقیقی تصور مرد اور عورت کی محبت کا ہے اور اس محبت سے یا اس کے اظہار سے معاشرے میں برائی پھیلتی ہے۔

اس کے برعکس اس نظریے کا اظہار بھی کیا جاتا ہے کہ یہ محبت کے اظہار کا دن ہے۔ یہ محبت آپ کو والدین، بچوں، اہل و عیال اور دوستوں سے ہو سکتی ہے۔

آپ کسی کے لیے جذبات رکھتے ہیں تو اس کے اظہار کے لیے یہ دن ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ میں دوسرے طبقہ فکر کے قریب سوچ رکھتی ہوں اور اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ایک اچھا فرد اور بہتر انسان بننے کے لیے دل کو محبت سے روشناس کرانا لازم ہے۔

جب تک آپ دوسروں سے محبت نہیں کریں گے اس وقت تک آپ کسی بھی دوسرے شخص کا دکھ درد سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔

اگر برائے بحث اس معاملے کو مذہبی تناظر میں بھی دیکھا جائے تو شادی تو ہمارے مذہب کے عین مطابق ہے اور اسلام میں بچوں کو اپنی مرضی سے شادی دینے کا حق بھی دیا گیا ہے۔

سماجی حوالوں سے دیکھیں تو پوری دنیا میں لوگ اس دن اپنی پسند کے افراد سے شادی کا عہد کرتے ہیں اور اپنی پسند اور فیصلے کا اعلان کرتے ہیں۔ جو کہ بالکل بھی غیر اخلاقی فعل نہیں۔

ہمارے ہاں دلیل اور منطق کو لائے بغیر کسی بھی عمل کو معاشرے کی روایات اور رسوم کے خلاف قرار دے کر افرا تفری پھیلا دی جاتی ہے۔

کئی لوگ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ معاشرہ بتدریج ان بے تکے تہواروں کی نظر ہو رہا ہے۔ میرے نزدیک جیسے جیسے دنیا سے رابطے زیادہ ہوئے ہیں، ایسے تہوار اور دن منانے کا رواج زیادہ ہوا۔ لیکن ہمارا اصل سوال وہی ہے کہ ایسے دن منانے سے معاشرے کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے؟ کیا ویلنٹائن ڈے پر جوئے غیر قانونی سرگرمیوں کو ترویج دی جا رہی ہے کہ جس کی وجہ سے ریاست کو خطرہ ہو؟

لوگ سارا سال مختلف اوقات میں ایک دوسرے کو تحفے تحائف اور پھول پیش کرتے ہیں۔ اسی پورے سال میں ویلنٹائن ڈے بھی ایک دن ہے۔ کوئی بھی ناقد یہ نہیں بتائے گا کہ برائی اور بے حیائی پھیلنے سے روکنے کے لیے ویلناٹئن ڈے نہ منانے کے کیا فائدے ہوں گے اور منانے کے کیا نقصانات ہوں گے اور نہ ہی کوئی سوال پوچھے گا کیونکہ مذہب کا نام استعمال کر کے لوگوں کو باز رکھا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کے موضوعات پر سوال نہ کریں۔

لیکن آج کے اطلاعات کے سمندر میں سوچنے والے اذہان کے سامنے بند باندھنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ