پاکستانیو، گھبرانا نہیں ہے

کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد اب جس مرحلے سے آپ گزر رہے ہیں، مجھ سمیت چین میں مقیم دیگر پاکستانی اس سے گزر چکے ہیں۔

کوئٹہ میں ایک سبزی فروش نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک پہن رکھا ہے (تصویر: اے ایف پی)

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا کرونا وائرس اب پاکستان پہنچ چکا ہے۔ اس خبر نے ملک بھر کو پریشان کر دیا ہے۔ کل تک میرے جو دوست احباب مجھے چین سے پاکستان واپس آںے کا کہہ رہے تھے، اب خود پریشان بیٹھے ہیں۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے زیادہ اس کے بارے میں افواہیں پھیل رہی ہیں۔

آپ اب جس مرحلے سے گزر رہے ہیں، مجھ سمیت چین میں مقیم دیگر پاکستانی اس سے گزر چکے ہیں۔ جو سوالات اب آپ کو پریشان کر رہے ہیں، ہم مہینہ پہلے ان کے جواب ڈھونڈ چکے ہیں۔

جب چین میں یہ وبا پھوٹی تو ہم سب اس سوچ میں پڑ گئے کہ ملک واپس جائیں یا نہ جائیں۔ جہاز کی ٹکٹیں بھی مہنگی تھیں۔ ہر کوئی اتنی مہنگی ٹکٹ نہیں خرید سکتا۔ جن طالب علموں نے جون میں گریجویٹ ہونا ہے ان کے لیے اب واپس جانا ایک اضافی خرچہ تھا۔ پاکستان واپس چلے جائیں اور کرونا سے متاثر ہونے کی صورت میں وہاں بیمار پڑ جائیں تو کیا پاکستانی ہسپتال اور ڈاکٹر ہمارا علاج کر سکیں گے؟ اور سب سے اہم سوال اگر خدانخواستہ ہم سے یہ وائرس ہمارے گھر والوں کو منتقل ہو گیا تو؟

اسی وجہ سے بہت سے طالب علموں نے پاکستان واپس آنے کی بجائے یہیں رہنے کو ترجیح دی۔ ہم نے بہت جلد سمجھ لیا کہ اگر ہم احتیاطی تدابیر اپنائیں تو چین میں رہتے ہوئے اس وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔  

اس میں کوئی شک نہیں کہ چین سمیت دنیا بھر میں حالات سنگین ہیں۔ کرونا وائرس کی اس نئی قسم کے حوالے سے سائنس دانوں کے پاس بہت محدود معلومات موجود ہیں۔ چین کے علاوہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس وائرس پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ ابھی تک کی معلومات کے مطابق کرونا وائرس کی یہ قسم اپنی پچھلی قسم سارس سے کم مہلک ہے۔ اس وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد بھی بہت کم ہے اور اس کا زیادہ تر شکار بوڑھے اور پہلے سے بیمار افراد ہیں۔ ہاں اس کا پھیلاؤ سارس کی نسبت زیادہ ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت ہم وائرس کے ساتھ ساتھ افواہ کی وبا کا بھی شکار ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ میں چین میں مقیم تمام پاکستانیوں کو ان کے گھر والوں، دوستوں اور رشتے داروں کی طرف سے کرونا وائرس کے علاج کے حوالے سے جانے کتنے حکیموں کے نسخے اور ملاؤں کی دعائیں بھیجی گئیں۔ ہم ان پیغامات سے اتنے تنگ آئے کہ ہم نے اپنا وٹس ایپ ہی دیکھنا چھوڑ دیا۔ کئی طالب علموں نے وی لاگز بھی بنانے شروع کر دیے تاکہ پاکستان میں موجود لوگوں کو چین کی اصل صورت حال کا علم ہوسکے جو یقیناً اتنی خوفناک نہیں تھی جتنی پاکستانی میڈیا دکھا رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب جب یہ وائرس پاکستان آ چکا ہے تو وہاں بھی وہی خوف پھیل رہا ہے جو یہاں پھیلا ہوا تھا۔ اس سے بچنے کے لیے سب سے پہلے افواہوں پر کان دھرنے بند کر دیں۔ مذہب انسانوں کا ہوتا ہے، وائرس اور بیکٹیریا کا نہیں۔ ان کا علاج صرف وہ ویکسین یا دوائیاں ہیں جو سائنسی تحقیق کے بعد بنائی جاتی ہیں۔

کرونا وائرس کی ویکسین ابھی تیاری کے مراحل میں ہے۔ چین کے سائنس دانوں نے بہت جلد اس وائرس کا جینیاتی کوڈ علیحدہ کر لیا تھا جس کے بعد اس وائرس پر ہونے والی تحقیق کا عمل تیز ہوا ہے۔ چین، امریکہ، فرانس اور آسٹریلیا سمیت کئی ملکوں کے سائنس دان کرونا وائرس کی ویکسین بنانے میں مصروف ہیں۔ یہ ویکسین ہی اس وائرس کا واحد علاج ہے، کسی حکیم کا نسخہ اور کسی ملا کی دعا اس وائرس کو ختم نہیں کر سکتی۔ یاد رکھیں اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔

کرونا وائرس کی اس نئی قسم سے بچاؤ کا واحد حل اس وقت صرف اور صرف احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے۔ چین نے جس دن کرونا وائرس کی تصدیق کی، اسی دن لوگوں کو احتیاطی تدابیر بھی جاری کر دیں۔ لوگوں نے اگلے ہی روز اپنے چہروں پر ماسک چڑھا لیے۔ ہم تو ابھی تک عوام کو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے پر راضی نہیں کر سکے، ماسک پہننے پر کیا راضی کریں گے۔

پھر بھی کوشش ضروری ہے۔ 

سب سے پہلے تو اپنے گھروں سے فضول نکلنا چھوڑ دیں۔ اگر کہیں جانا ضروری ہو تو بار بار ہاتھ دھوتے رہیں۔ بغیر دھلے ہاتھوں سے اپنا یا کسی دوسرے کا چہرہ نہ چھوئیں۔ اپنی خوراک میں سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں۔ گوشت اور انڈوں کو مکمل طور پر پکا کر کھائیں۔ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں ہر جانے سے گریز کریں۔ ایسا کوئی بھی شخص جسے بخار، کھانسی یا نزلہ ہو اس سے فاصلے پر رہیں۔  

خبروں میں یہ بھی آ رہا ہے کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں اور سرحدوں پر کرونا وائرس کی سکریننگ کے حوالے سے کچھ خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔ پاکستان آنے والے مسافروں کا صرف درجۂ حرارت چیک کیا جا رہا ہے۔ کرونا وائرس کی علامتیں ظاہر ہونے میں 14 دن لے سکتی ہیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہوائی اڈے پر جس کا درجہ حرارت نارمل ہو، کچھ دن بعد وہ کرونا کی علامتیں ظاہر کرنا شروع کر دے۔

اس کے لیے لازمی ہے کہ چین اور ایران سے آنے والے افراد پاکستان واپسی کے بعد 14 دن الگ رہیں۔ دنیا کا کوئی ملک اپنی حدود میں داخل ہونے والے ہر شخص کو 14 دن سرکاری خرچ پر ہسپتال یا کسی اور جگہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یوکے سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں چین سے آنے والے افراد کو اپنے اپنے گھروں میں یہ مدت پوری کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکومت اگر چین یا ایران سے آنے والے ہر فرد کو سرکاری خرچ پر دو ہفتے کہیں رکھنے کا انتظام کر بھی لے تو کیا ہم اس پابندی کا احترام کریں گے؟ ماشاء اللہ ہم اس قوم سے ہیں جو سرکاری دفتر جانے سے پہلے دس کانٹیکٹ ڈھونڈتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اس وائرس کے نئے کیسوں کی تعداد چین کی نسبت باقی دنیا میں زیادہ ہو گئی ہے۔ چین بہت حد تک کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کر چکا ہے۔ امید ہے کہ مارچ کے اختتام تک چین میں حالات بہت بہتر ہو جائیں گے۔

کرونا وائرس سے چین جس طرح لڑ رہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ شروع میں چین کی طرف سے اس معاملے میں کچھ غفلت ہوئی لیکن معاملے کی سنجیدگی کا احساس ہوتے ہی چینی حکومت نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے۔ چین میں یہ وائرس اس وقت آیا جب چینی نئے سال کی چھٹیوں پر اپنے گھر جا رہے تھے۔ بہت سی مارکیٹس، بازار، پلازے، کلب، بار اور دیگر تفریحی مقامات چھٹیوں کی وجہ سے بند تھے۔

حکومت نے فوری اقدامات کے تحت ان کے کھلنے پر پابندی لگا دی۔ اس کے علاوہ مساجد، مندر اور گرجا گھر جو پورا سال کھلے رہتے ہیں، انہیں بھی بند کیا گیا۔ ووہان سمیت کئی شہر سیل کر دیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں لوگوں کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔ ہر رہائشی کالونی، شاپنگ مال، پارک، میوزیم سکول، کالج، یونیورسٹی اور دیگر عوامی جگہوں نے اپنے دروازوں پر سکیورٹی گارڈ بٹھا دیے ہیں۔ یہ ہر آنے جانے والا کا درجہ حرارت چیک کرتے ہیں، جس کا زیادہ ہو اسے داخلے سے منع کر دیا جاتا ہے۔ ان گارڈز کی صحت کا بھی دھیان رکھا جا رہا ہے۔ انہیں روزانہ کی بنیاد پر ماسک ملتے ہیں اور ان کی میزوں پر سینیٹائزر بھی پڑا ہوتا ہے۔

ووہان میں موجود پاکستانی طالب علم بتاتے ہیں کہ ان کی یونیورسٹیاں ان کا دھیان رکھ رہی ہیں۔ انہیں باقاعدہ خوراک اور دیگر اشیا مہیا کی جا رہی ہیں۔ جو چار طالب علم کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے وہ کب کے ٹھیک ہو چکے۔

چین کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے جو اقدامات کر رہا ہے کیا پاکستان ویسے اقدامات کر سکتا ہے؟ چلو پاکستان کچھ اقدامات کر بھی لے تو کیا عوام حکومت کا ویسے ہی ساتھ دے گی جیسے اس وقت چینی عوام اپنی حکومت کا دے رہے ہیں؟ افسوس ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں۔

گھبرائیں نہیں، معاملہ سنگین ہے لیکن اس وبا سے بچا جا سکتا ہے۔ افواہوں سے خود بھی بچیں اور اپنے گھر والوں کو بھی بچائیں۔ اس وائرس کے بارے میں جو معلومات لینی ہو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ویب سائٹ سے لیں۔ فی الحال سب سے مستند معلومات وہیں موجود ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ