ملتان سلطانز کے ریلی روسو بھی سنچری کلب میں شامل

پی ایس ایل کے بارھویں میچ میں ملتان سلطانز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 30 رنز سے شکست دے دی۔ 

ریلی روسوکی اننگز کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئٹہ کے بولر اپنی لائن اور لینتھ بھول گئے ہیں(اے ایف پی)

ملتان سلطانز نے ہفتے کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرکے پاکستان سپر لیگ کے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پہلی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔

ملتان کا گراؤنڈ سلطانز کے لیے خوش قسمت ثابت ہورہا ہے۔ ہفتے کو سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان میچ میں دونوں ٹیموں نےکچھ تبدیلیاں کیں۔

ملتان نے شاہد آفریدی کی جگہ بلاول بھٹی جبکہ کوئٹہ  نے احمد شہزاد اور ٹائمل ملز کو ڈراپ کرکے احسان علی اور انور علی کو کھلایا۔

میچ میں سلطانز  نے ایک بار پھر نئی اوپننگ جوڑی کو آزمایا اور ٹاس جیتنے کے بعد ذیشان اشرف کے ساتھ جیمس ونس نے اننگز کا آغاز کیا۔

دونوں نے حسب عادت جارحانہ آغاز کیا۔ ملتان کی پہلی وکٹ 23 رنز پر اور دوسری وکٹ 40 رنز پر گری۔

پاور پلے میں دو وکٹیں گرنے کے بعد لگتا تھا کہ ملتان کی ٹیم دباؤ میں آ جائے گی لیکن شان مسعود اور ریلی روسو نے میچ کا نقشہ پلٹ دیا۔ 

روسو  نے زبردست جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے پی ایس ایل کی تیز ترین سنچری بنا ڈالی۔ روسو کی سنچری صرف 44 گیندوں پر بنی، ان کی اننگز میں 10 چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔ ان سے قبل کامران اکمل، کولن انگرام اور شرجیل خان سنچریاں سکور کرچکے ہیں۔ 

روسو نے کوئٹہ کے کسی بولر کو نہیں بخشا۔ ان کی اننگز کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئٹہ کے بولر اپنی لائن اور لینتھ بھول گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آخری اوورز میں تو فیلڈرز کے چہروں سے مایوسی عیاں تھی اور شاید وہ 20 اوورز مکمل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ روسو کی جارحانہ اننگز دیکھتے ہوئے اگر کہا جائے کہ انہوں نے ملتان کا میلہ لوٹ لیا تو غلط نہ ہوگا۔ 

ملتان سلطانز کے کپتان شان مسعود نے بھی اچھی بیٹنگ کی اور 46 رنز بنائے۔ ملتان نے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹ کے نقصان پر 199 رنز بنائے۔ 

کوئٹہ کے لیے 200 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف اسی وقت ممکن تھا اگر شروع سے جارحانہ بیٹنگ کی جائے۔

اوپنرز جیسن رائے اور شین واٹسن نے کوشش کی اور تیز کھیلتے ہوئے 57 رنز کی پارٹنر شپ بنائی لیکن رائے کے آؤٹ ہونے کے بعد سوائے واٹسن کے کوئی بلے باز تیز نہ کھیل سکا۔

آسٹریلین بلے باز نے تیزی سے کھیلتے ہوئے اپنے ذاتی سکور کو 80 تک پہنچادیا اور ایسا لگتا تھا کہ جب تک وہ کریز پر ہیں کوئٹہ کی جیت کی امیدیں باقی ہیں لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی کوئٹہ کی بیٹنگ لائن مطلوبہ رن ریٹ باقی نہ رکھ سکی اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹ کھو کر 169 رنز بنا سکی اور اس طرح 30 رنز سے ہار گئی۔ 

کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد حیرت انگیز طور پر نویں نمبر پر کھیلنے آئے حالانکہ انھیں شان مسعود کی طرح بیٹنگ چیلنج قبول کرتے ہوئے اوپر کے نمبروں پر آنا چاہیے تھا تاکہ اپنے تجربے سے رن ریٹ تیز کرسکتے۔ 

سلطانز نے بولنگ میں بھی ڈسپلن دکھایا اور اچھی لائن اور لینتھ کے ساتھ بولنگ کی۔ 

عمران طاہر نے اچھی بولنگ کرتے ہوئے 23 رنز دے کر دو اور بلاول بھٹی نے تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔

سلطانز نے اپنے سپنرز کو مہارت سے استعمال کیا اس کے برعکس کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ایک بیٹنگ وکٹ پر تیز بولروں کو استعمال کرتی رہی جس کا ان کو نقصان اٹھانا پڑا۔ 

ہفتے کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ راولپنڈی میں بارش کی نذر ہوگیا۔ دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔  

راولپنڈی میں ان دنوں بارشوں کے باعث اتوار کا میچ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جہاں اسلام آباد کراچی کنگز کا سامنا کرے گی۔  

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل