خلیل الرحمٰن قمر صاحب ذرا تھم کے!

اگر چند خواتین کے ’عورت مارچ‘ سے پورے معاشرے کی خواتین کو کوئی سروکار نہیں تو پھر تمام مرد کیوں بے کار میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے پہ تلے ہیں؟

خلیل الرحمٰن صاحب کاش آپ بھی ذرا تھم کہ رہتے تو ’میرا جسم میری مرضی‘ والیاں آج  ہمدردی نہ سمیٹ رہی ہوتیں (سکرین گریب)

میں خلیل صاحب کی تحریروں کی بڑی مداح ہوں۔ ان کے دو مشہور ڈراموں میں ایک چیز بہت ملتی جلتی ہے، جب بھی کوئی کردار جلد بازی میں کوئی غلطی کرنے لگتا ہے تو مخالف کردار ایک لائن دہراتا ہے، ’ذرا تھم کے رہو!‘

لیکن دو روز قبل ایک لائیو پروگرام میں جب خود تھمنے کا وقت آیا تو خلیل الرحمٰن نہ تھمے، نہ رکے، بلکہ وہ گرجے، وہ برسے کہ دو روز سے سوشل میڈیا پر وہ جھڑی لگی کہ اس کے آگے ملک بھر میں ہونے والی بارشوں کا زور ٹوٹ گیا۔

ٹوئٹر پر یہ مسئلہ ایسا ٹاپ ٹرینڈ بنا کہ اترنے کا نام نہیں لے رہا، فیس بک پر کھڑکی توڑ رش لگا، ٹی وی چینل کی ریٹنگ آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور مجھ سمیت ہر کوئی فلسفی بنا اپنا اپنا تجزیہ دینے میں مصروف ہے۔

خلیل الرحمٰن صاحب کاش آپ بھی ذرا تھم کہ رہتے تو ’میرا جسم میری مرضی‘ والیاں آج  ہمدردی نہ سمیٹ رہی ہوتیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروگرام کے کلپ ہر طرف گردش کر رہے ہیں۔ آپ اگر شروع سے دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ خلیل الرحمٰن قمر نے انتہائی مودبانہ انداز میں اسی طرح گفتگو کا آغاز کیا جو ایک مہذب لکھاری کو زیب دیتا ہے۔ عدالت نے عورت مارچ میں کچھ ’نامناسب‘ نعروں کو نہ دہرانے کا حکم دے رکھا ہے، یہی بات خلیل صاحب نے بھی دہرائی اور ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے غلیظ قرار دیا تو دوسری طرف کال ہر موجود ماروی سرمد نے حسب عادت ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔

پھر پڑھے لکھے لوگوں نے جو سرکس لگایا وہ دیکھنے لائق تھا نہ سننے جوگا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جسے برداشت نہ ہوا وہ پروگرام سے اٹھ جاتا، معذرت بہتر تھی بہ نسبت گالم گلوچ اور نازیبا الفاظ کے۔

خیر صبر، برداشت اور لفظوں کا چناؤ تو ایسی صفات ہیں جو کسی عام محفل کے لیے بھی ضروری ہیں، پھر یہ تو لائیو ٹی وی پروگرام تھا۔

میری تحریر کے بعد یہ نہ سمجھیے گا کہ میں بھی عورت مارچ میں کوئی پلے کارڈ اٹھانے والی ’ماڈرن آنٹی‘ ہوں۔ لیکن ایسا بھی ہرگز نہیں کہ میں ان ’کھلے نعرے‘ لگانے والی عورتوں کو گالی دینے والوں کی حامی ہوں۔ ہاں مگر ایک بات طے ہے کہ عورت جیسی بھی ہو مگر اسے گالی دینے کی اجازت کسی مرد کو نہیں، اور یہی ’عورت دوست‘ معاشرے کی طرف پہلا قدم ہے۔

پھر ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر چند خواتین کے ’عورت مارچ‘ سے پورے معاشرے کی خواتین کو کوئی سروکار نہیں تو پھر تمام مرد کیوں بے کار میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے پہ تلے ہیں، کیونکہ خلیل الرحمٰن قمر سمیت موجودہ معاشرے کا ہر مرد جب  اپنے گھر پہنچتا ہے تو اس کی بیوی محبت اور خلوص سے اس کے لیے نہ صرف کھانا خود گرم کرتی ہے بلکہ روٹیاں بھی اپنے ہاتھوں سے بنانے میں جو سکھ اور چین محسوس کرتی ہے وہ مرد کی دن بھر کی تھکن اتار دیتی ہے۔

پھر گلہ غیر عورتوں سے کیوں؟ اٹھانے دیجیے انہیں ان کی تخلیقات سے بھرے پلے کارڈ ایک دن کے لیے، کیونکہ ان کا جسم ان کی مرضی۔۔۔۔۔ آپ کا کیا جاتا ہے!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ