فوجی عدالتوں کی سزائیں: ’سپریم کورٹ اپنا، ہم اپنا کام کریں گے‘

سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ آج پہلے ہی ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ ملزمان کی سماعت سپریم کورٹ میں ہورہی ہے لہذا فیصلہ آنے تک اس کیس کو ملتوی کریں۔ اس کے جواب میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اپنا اور ہم اپنا کریں گے۔

چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے مطابق تاحال 150 افراد کا ریکارڈ ان کے پاس پیش کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

پشاور ہائی کورٹ میں فوجی عدالتوں  سے سزا پانے والے 200  سے زائد ملزمان کی اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس وقار سیٹھ نے ایڈوکیٹ جنرل شمائل احمد، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل قاضی بابر ارشاد  اور آرمی کے الیون کور نمائندے کو بتایا کہ وہ متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کریں، اس کے بعد فیصلہ دیا جائے گا۔

ملٹری کورٹ کی جانب سے ان 200 ملزمان میں مختلف سزایافتہ ملزمان شامل ہیں جن میں زیادہ تر کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان ملزمان کی اپیلوں کی سماعت منگل کو چیف جسٹس جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں ہوئی۔

حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل جب کہ آرمی کی طرف سے الیون کور کے نمائندہ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ آج  پہلے ہی ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ ملزمان کی سماعت سپریم کورٹ میں ہورہی ہے اس لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس کیس کو ملتوی کردیں۔

اس کے جواب میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ اپنا اور ہم اپنا کریں گے۔‘ الیون کور کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ وہ آج بھی 75  ملزمان کا ریکارڈ لا چکے ہیں لیکن جب وہ ریکارڈ لاتے ہیں تو ملزمان کے وکلا پیش نہیں ہوتے۔

 اسی پر چیف جسٹس نے ریمارکس  دیتے ہوئے کہا  ’آپ ان کے  پیچھے نہ پھریں،آپ سے  ڈر کر یہ آگے بھاگ جاتے ہیں، عوام ہے نا۔‘ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ابھی 150 افراد کا ریکارڈ ان کے پاس آیا ہے جب کہ کیسز کی کل تعداد 200 ہے۔ 

عدالت نے کیس کی سماعت سات اپریل تک ملتوی کر دی۔

ملٹری کورٹس کیا ہیں؟

پشاور میں آرمی پبلک سکول حملے کے بعد وفاقی حکومت نے دہشت گردوں کے جلد ٹرائل اور ان کو سزا دلوانے کے لیے پارلیمنٹ سے 21 ویں آئینی ترمیم پاس کر کے ملک میں دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا تھا جن میں دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے مقدمات چلتے تھے اور انہیں سزائیں دی جاتی تھیں۔

دو سال چلنے کے بعد ملٹری کورٹس نے سینکڑوں مبینہ دہشت گردوں کو پھانسی سمیت دیگر سزائیں سنائی ہیں ۔ فوجی عدالتوں کے پہلے دو سال مکمل ہونے کے بعد حکومت نے ان عدالتوں کو مزید دو سال تک توسیع دی جس کا دورانیہ 30 مارچ 2019  کو مکمل ہوگیا ہے۔

ملٹری کورٹس کے فیصلوں پر قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے تنظیموں کا موقف ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں ملزم کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اسی وجہ سے پشاور ہائی کے چیف جسٹس نےچند مہینے پہلے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 71  ملزمان کی سزاؤں پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف صوبائی و وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جن پر ابھی کوئی فیصلہ آنا باقی ہے۔

’ٹرائل شروع ہونے سے سزا سنانے تک آئینی تقاضے پورے  نہیں ہوئے ہیں‘

ان 200  ملزمان میں سے ایک ملزم عبدالودود ہیں۔ عبدالودود کو 19 اگست 2011  کو کوہاٹ کے علاقے جنگل خیل سے حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد انہیں فوجی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالودود کے وکیل بیرسٹر امیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے موکل کو کوہاٹ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مخلتف نوعیت کے الزامات تھے۔

انھوں نے بتایا ’میرے موکل پر سویلین اور فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے اور دہشت گرد تنظیموں سے روابط سمیت مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ اسی بنا پر فوجی عدالت کی جانب سے انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔‘

امیر خان نے بتایا کہ فوجی عدالتوں میں فئیر ٹرائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کے موکل کے کیس میں گرفتاری سے لے کر انہیں سزا سنانے تک میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اسی وجہ سے انہوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان