کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے کیا جاتا ہے؟

جب کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے نمونے مختلف ہسپتالوں سے لیبارٹری کو بھجوائے جاتے ہیں تو ان کو پانچ  مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بھی کچھ اسی قسم کی صورت حال ہے، جہاں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سندھ میں رپورٹ ہوئے۔

کرونا وائرس کے مشتبہ کیسوں کے نمونے اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو بھجوائے جاتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں خیبر میڈیکل کالج سے منسلک بائیو سیفٹی لیب میں بھی کرونا وائرس کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ یہ لیب خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کی زیر نگرانی کام کرتی ہے، جسے این آئی ایچ کی جانب سے ٹیسٹ کروانے کی کِٹ مہیا کی گئی ہے اور ٹیکنیشنز کو تربیت بھی دی گئی ہے۔ اب تک اس لیبارٹری میں کوئی ٹیسٹ مثبت نہیں آیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو نے خصوصی اجازت کے بعد اس لیب کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کرسکیں کہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ جس مقام پر مریضوں کے نمونے رکھے جاتے ہیں وہاں پر پروٹوکول کے مطابق کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ لیبارٹری ڈاکٹر یاسر یوسفزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم کو بتایا کہ جب کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے نمونے مختلف ہسپتالوں سے ان کو بھجوائے جاتے ہیں تو ان کو پانچ  مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

پہلا مرحلہ: ایکسٹریکشن چیمبر

اس لیب میں چار چیمبرز بنائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر یاسر کے مطابق پہلے چیمبر میں اس نمونے کو ایکسٹریکشن کے لیے لے جایا جاتا ہے۔ اسی چیمبر کے اندر ایک کیبنٹ ہوتا ہے جس کو بائیو سیفٹی کیبنٹ کہا جاتا ہے، جہاں نمونے کو کھولا جاتا ہے۔

یاسر کے مطابق اس کیبنٹ میں ایک گلاس ڈور ہوتا ہے جہاں صرف ٹیکنیشن اپنا ہاتھ اندر لے جا سکتا ہے تاکہ نمونے کھولے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نمونہ کھولنے کے بعد اس سے وائرس کو علیحدہ کیا جاتا ہے (اگر موجود ہو) اور اس کے بعد پورے نمونے کو دوسرے چیمبر میں لے جا کر اس میں موجود اجزا کو چیک کیا جاتا ہے۔

دوسرا مرحلہ: ماسٹر میکس چیمبر

ڈاکٹر یاسر کے مطابق ایکسٹریکشن چیمبر میں مریض کے نمونے کو علیحدہ کرنے کے بعد اس کو ماسٹر میکس چیمبر میں لایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دیگر کیمیکلز وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں تاکہ اس اس نمونے کے اجزا کو مزید دیکھا جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس چیمبر میں جب یہ مرحلہ مکمل ہوجاتا ہے تو اس نمونے کو  ایک خاص قسم کی ٹیوب میں ڈال کر سیل کردیا جاتا ہے۔

تیسرا مرحلہ: ریئل ٹائم پی سی آر (پولی میریز چین ریکشن) چیمبر

دوسرے مرحلے کے بعد ماسٹر میکس چیمبر سے نمونے کو پی سی آر چیمبر میں لایاجاتا ہے۔ اس چیمبر میں ایک مشین رکھی ہوئی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ چونکہ اس وائرس کو مائیکروسکوپ کے ذریعے نہیں دیکھا سکتا تو یہ مشین اس وائرس کی کئی کاپیاں بناتی ہے تاکہ وہ نظر آنا شروع ہوجائے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وائرس ہے یا نہیں۔ ’بہت سی کاپیاں بنانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بہت ہی چھوٹے سائز کا بھی کوئی وائرس اگر موجودگی ہے تو وہ اس مشین کے ذریعے ڈیٹیکٹ ہو سکے گا۔‘

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ اس مشین کے ساتھ ایک کمپیوٹر کنیکٹ ہوتا ہے جو وائرس کو گراف کے ذریعے دکھاتا ہے اور پھر اسی گراف سے ہم یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ وائرس کی موجودگی ہے یا نہیں ہے۔

چو تھا مرحلہ: نمونہ ضائع کرنے کی مشین

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ چوتھے مرحلے میں پی سی آر چیمبر سے نمونے کو آٹا کلیو مشین کے چیمبر میں شفٹ کیا جاتا ہے اور اس چیمبر میں نمونے کو ضائع کیا جاتا ہے جہاں زیادہ درجہ حرارت کے ذریعے نمونے کو سٹیم کیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ نمونہ ڈس انفیکٹ ہوجات ہے یعنی اس نمونے سے کسی کو وائرس لگنے کا خدشہ ختم ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ کے ڈس انفیکٹ کرنے کے بعد اس کو بائیولوجیکل ویسٹ کے اصول کے مطابق ضائع کیا جاتا ہے۔

پانچواں مرحلہ: رپورٹنگ روم

پانچویں مرحلے میں نمونے کی رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور ہر مریض کو ایک سپیشل آئی ڈی اور نمبر دیاجاتا ہے۔

اس کے بعد اسی رپورٹ کو آن لائن ڈاکٹر اور این آئی ایچ کے ساتھ شئیر کیا جاتا ہے جبکہ مریض یا فزیشن اپنے ہی کمپیوٹر پر اس رپورٹ کو دیکھ سکتے ہے۔

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ یہ پورا عمل چھ سے سات گھنٹے میں مکمل ہوجاتا ہے، جس کے بعد کنسلٹنٹ فیصلہ کرتا ہے کہ ٹیسٹ مثبت یا منفی۔

کیا اس لیب میں مریض خود ٹیسٹ کے لیے آتے ہیں؟

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ یہ لیب صرف ہسپتالوں اور دیگر صحت کے مراکز یا پھر ایئرپورٹ اور بارڈرز وغیرہ سے نمونے لیتی ہے۔دیگر لوگوں کو اس لیب میں ٹیسٹ کی غرض سے آنے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بائیو سیفٹی لیب ہے اور یہاں نمونے ایک رائج طریقہ کار سے ہو کر ہمارے ہاں پہنچائے جاتے ہیں، اسی لیے اگر کسی بھی شخص میں کرونا کی علامات موجود ہیں تو وہ قریبی مرکز صحت جا کر وہاں کسی مستند ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کروائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت