زندگی میں فرصت کی خواہش تھی؟ اب گزاریں!

خدا خدا کر کے موقع ملا ہے گھر بیٹھنے کا، پوری طبیعت سے لیٹے رہیں۔ بہت زیادہ مشقت کرنی ہے تو موبائل پہ انگلیاں چلاتے رہیں یا جھک کے پانی والی بوتل اٹھا لیں بس! ہاں اگر وزن بڑھنے کا خوف ہے تو کوئی ورزش وغیرہ کر لیں مگر ہونا یہ بھی نہیں آپ سے۔

یاد رہے جب زندگی میں فراغت آتی ہے تو اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی پنگا ضرور لاتی ہے (پکسا بے)

 فرصت ہے، فراغت ہے، تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی ہے، کھانے کی ٹرے پیٹ پر ہے، اور کیا چاہیے؟

دیکھیں ہر چیز کے دو پہلو نکلتے ہیں۔ کرونا وائرس کی شکل میں بھی یہی دو ہیں، یا تو آپ مر جائیں گے یا بچ جائیں گے۔ بچنے کا چانس بہرحال مرنے سے زیادہ ہے۔ 
جیسے میں اپنی بات کروں تو جہاز میں بیٹھتے ہی میری جان نکل جاتی ہے۔ جہاز ٹیک آف ہوا نہیں اور مجھے لگتا ہے کہ میری لاش آسمان سے زمین پہ گرانے کے لیے ہی اڑا ہے۔ 
ابا ساری عمر سمجھاتے رہے کہ بیٹا جہاز کریش ہونے کا تناسب دنیا بھر میں سڑک یا ٹرین کے حادثوں سے بہت کم ہے، اسی طرح ہوا میں مرنے کا چانس بھی سڑک پہ پھڑک جانے کی نسبت کم ہے، لیکن ڈر تو ڈر ہے نا بھائی جان! ساری زندگی ڈرتا رہا اور سفر بھی بہت کیا۔ بہرحال بچ گیا۔
یہی معاملہ کرونا کا بھی ہے۔ احتیاط کر لی، گھر بیٹھ گئے تو لگنے کا امکان کم ہے۔ قسمت خراب ہو تو اونٹ پر بیٹھے بندے کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے، تو اس حساب سے گھر بیٹھے بھی لگ سکتا ہے۔ 
اب اگر لگ بھی گیا تو ہو سکتا ہے کہ گولی کان کے پاس سے نکل جائے۔ مطلب ہلکی پھلکی کوئی علامت ظاہر ہو اور آپ بچ جائیں، ٹھیک ہو جائیں۔ اگر نہیں ہوتے اور بیمار ہو جاتے ہیں تو بھی دواؤں سے ٹھیک ہونے کے امکان موجود ہیں۔ وہ بھی نہیں ہوتے اور ہسپتال جاتے ہیں تو پانچ بندے پاکستان میں اب تک ٹھیک بھی ہو چکے ہیں۔ 
پھر بھی اگر بہت شوق ہے کہ کرونا ہو جائے اور اس سے فوت بھی ہوا جائے تو اس کا امکان ایک فیصد ہے، یعنیٰ اگر آپ میں وائرس کی موجودگی ثابت ہو جائے تو اس کے بعد ایک فیصد۔

20 کروڑ کی آبادی میں سے اب تک ایک ہزار سے کم لوگ کنفرم رپورٹ ہوئے ہیں، چار ہزار مشتبہ ہیں۔ وبا نے ابھی بے شک پھیلنا ہے لیکن، کیا ضروری ہے کہ مرنے والے ٹاپ ٹین میں آپ ہی ہوں؟ یہ لاٹری کی طرح کا حساب ہے۔ جیسے آپ کا

پرائز بانڈ ساری عمر نہیں نکلا، آپ کے سارے بادام کبھی ٹھیک نہیں نکلے، آپ کبھی شرط نہیں جیت سکے، کبھی پڑھائی میں اچھے نمبر نہیں لا سکے، قصائی آپ کو اچھا گوشت نہیں دیتا، بالکل اسی طرح آپ کو وائرس بھی اتنی جلدی نہیں پکڑے گا۔
واحد احتیاط جو اب تک سامنے آئی ہے وہ عین وہی ہے جس کی تمنا آپ برسوں سے کرتے آئے ہیں۔ 'یاررررر! زندگی کیسی مصروف ہو گئی ہے، ٹائم ہی نہیں ملتا، میرا دل کرتا ہے خوب سوؤں، اپنے آپ کو وقت دوں، آرام کروں، گھر پہ رہوں، صبح دفتر نہ جانا ہو، کوئی کام نہ ہو دنیا کا، صرف بستر توڑا جائے اور عیاشی ہو۔'
تو کر لیں بھائی اب عیاشی۔ گھر بھی ہے، بستر بھی ہے، کوئی کام بھی نہیں ہے، سونے کا وقت بھی ہے، زیادہ قرنطینہ ہونے کا دل کرے تو وہی سارا وقت بھی آپ کا ہے، سوئیں، جاگیں، کھائیں، پھر سوئیں اور سکون کریں۔ 
 
اب کیا خوف ستا رہا ہے؟ زندہ رہنے کا، پیسے نہ ہونے کا، مستقبل کی سکیورٹی کا، اپنے پیاروں کے محفوظ رہنے کا؟ اب یہ پیکج کا حصہ ہے۔ اگر زندہ رہ جاتے ہیں تو یاد رہے گا کہ جب زندگی میں فراغت آتی ہے تو اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی پنگا ضرور لاتی ہے۔ مصروف رہنا ہی زندگی ہے اور نہیں رہتے تو اس کی قیمت بہرحال ادا کرنی پڑے گی۔
سوال یہ ہے کہ اب کیا کریں؟ پہلی بات تو یہ کہ پریشان ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ حل موجود ہے اور وہ یہ کہ علیحدگی اختیار کریں۔ گھر سے نکلنا اگر بہت مجبوری ہے تو اللہ کی مرضی، بس جائیں اور واپس آ کے صابن سے ہاتھ دھوئیں اور بیٹھ جائیں جہاں بیٹھے تھے۔ 
بہت دل کرتا ہے تو باہر جانے کے کپڑے الگ کر لیں لیکن یہ عملاً ممکن نہیں۔ کپڑے بدلنے میں بھی تو کرونا وائرس ہاتھوں پہ لگتا ہے، یا نئے کپڑوں پہ لگ سکتا ہے۔ سینیٹائزر وغیرہ کا تو لکھوا لیں کہ وبا ختم ہونے کے بعد الگ سے دوا آئے گی جو ہاتھوں اور جلد پہ سینیٹائزر کے سائیڈ ایفیکٹس کو دور کرے گی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

باقی بس یہ ہو سکتا ہے کہ جیسے سندھ حکومت لاک ڈاؤن کر رہی ہے، وہ پورے پاکستان میں ہو جائے اور اس پہ سختی سے عمل بھی ہو، تب تو پوری قوم کا محفوظ رہ جانا ممکن ہے ورنہ بس صبر اور سکون سے زندگی گزارنے کے علاوہ کوئی حل باقی نہیں۔ یہاں تک لکھنے کے بعد وزیر اعظم کے خطاب کا انتظار کیا، کہیں ایڈٹ نہ کرنا پڑے کچھ، ہو سکتا ہے لاک ڈاؤن لگ جائے، لیکن خدا کے فضل سے ان کے پیروں نے مریدوں کو مایوس نہیں کیا۔

ذاتی طور پہ میرا خیال ہے کہ اٹلی والے حال سے ہمیں کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ ہم ملنے ملانے کے شوقین لوگ ہیں۔لاک ڈاؤن یا کرفیو بھی لگ گیا تو قسم اٹھوا لیں یہی کالم پڑھنے والے کتنے ہوں گے جو چھتیں پھلانگ کے کسی ایک گھر میں اکٹھے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔ مسجدیں اگر مکمل بند کر دیں تو گھروں میں اجتماعی عبادات شروع ہو جائیں گی، چھتوں پہ بار بی کیو بنتے رہیں گے، بچے گلیوں میں کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ اس قوم کو روک لینا ممکن ہی نہیں ہے۔ سب سے بڑے جس خطرے کی طرف ابھی حکومت کی توجہ نہیں گئی وہ آبادی میں اضافے کا ہے۔ 
چیک کیجیے گا کہ اگلے دسمبر، جنوری اور فروری میں شرح پیدائش کیا رہتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر کے باسی جب بھی گھروں میں رہے انہوں نے ملک کی افرادی قوت کو لا محدود اور حسب استطاعت تقویت بخشی۔
باقی اگر آپ کے پاس راشن پانی گھر میں پڑا ہے اور مالک نے فراغت بخشی ہے تو بھائی ہرگز یہ نہیں کہے گا کہ وہ کتابیں پڑھیں جو کبھی نہیں پڑھی تھیں یا گھر صاف کریں یا الماریاں ٹھیک کریں یا نیٹ فلکس، یوٹیوب دیکھیں، کچھ بھی نہ کریں۔ ٹھنڈ پروگرام رکھیں۔
خدا خدا کر کے موقع ملا ہے گھر بیٹھنے کا، پوری طبیعت سے لیٹے رہیں۔ بہت زیادہ مشقت کرنی ہے تو موبائل پہ انگلیاں چلاتے رہیں یا جھک کے پانی والی بوتل اٹھا لیں بس! ہاں اگر وزن بڑھنے کا خوف ہے تو کوئی ورزش وغیرہ کر لیں مگر ہونا یہ بھی نہیں آپ سے، اللہ برکت دے گا کوئی بات نہیں، آرام سے لیٹیں اور پریشان ہوئے بغیر مستقبل کے پروگرام بنائیں۔
وہ پروگرام بنائیں جن پہ آف کورس ان حالات سے نکلنے کے بعد کبھی عمل نہیں کرنا، اور کیا بھائی، وہ پلان ہی کیا جس پہ پاکستانی عمل کر جائے۔ اپنی زندگیاں اچانک پن کا بے دھڑک نمونہ ہوتی ہیں اور یہی ہماری زندگی کا مزہ ہے، جیتے ہیں شان سے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ